بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الانعام — Surah Anam
آیت نمبر 73
کل آیات: 165
قرآن کریم الانعام آیت 73
آیت نمبر: 73 — سورۃ الانعام islamicurdubooks.com ↗
وَ ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ بِالۡحَقِّ ؕ وَ یَوۡمَ یَقُوۡلُ کُنۡ فَیَکُوۡنُ ۬ؕ قَوۡلُہُ الۡحَقُّ ؕ وَ لَہُ الۡمُلۡکُ یَوۡمَ یُنۡفَخُ فِی الصُّوۡرِ ؕ عٰلِمُ الۡغَیۡبِ وَ الشَّہَادَۃِ ؕ وَ ہُوَ الۡحَکِیۡمُ الۡخَبِیۡرُ ﴿۷۳﴾
وہی ہے جس نے آسمان و زمین کو بر حق پیدا کیا ہے اور جس د ن وہ کہے گا کہ حشر ہو جائے اسی دن وہ ہو جائے گا اس کا ارشاد عین حق ہے اور جس روز صور پھونکا جائیگا اس روز پادشاہی اُسی کی ہوگی، وہ غیب اور شہادت ہر چیز کا عالم ہے اور دانا اور باخبر ہے
اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا اور جس وقت اللہ تعالیٰ اتنا کہہ دے گا تو ہوجا بس وه ہو پڑے گا۔ اس کا کہنا حق اور بااﺛر ہے۔ اور ساری حکومت خاص اسی کی ہوگی جب کہ صُور میں پھونک ماری جائے گی وه جاننے واﻻ ہے پوشیده چیزوں کا اور ﻇاہر چیزوں کا اور وہی ہے بڑی حکمت واﻻ پوری خبر رکھنے واﻻ
اور وہی ہے جس نے آسمان و زمین ٹھیک بنائے اور جس دن فنا ہوئی ہر چیز کو کہے گا ہو جا وہ فوراً ہوجائے گی، اس کی بات سچی ہے، اور اسی کی سلطنت ہے جس دن صور پھونکا جائے گا ہر چھپے اور ظاہر کو جاننے والا، اور وہی حکمت والا خبردار،
وہی تو وہ (خدا) ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا۔ جس دن وہ کہے گا کہ ہوجا بس وہ ہو جائے گا۔ اس کا قول حق اور سچ ہے اسی کی حکومت ہوگی جس دن صور پھونکا جائے گا وہ غیب اور حاضر سب کا جاننے والا ہے اور وہ بڑا حکمت والا، بڑا باخبر ہے۔
اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا اور جس دن کہے گا ’’ہو جا‘‘ تو وہ ہو جائے گا۔ اس کی بات ہی سچی ہے اور اسی کی بادشاہی ہوگی، جس دن صور میں پھونکا جائے گا، غیب اور حاضر کو جاننے والا ہے اور وہی کمال حکمت والا، پوری خبر رکھنے والا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اسلام کے سوا سب راستوں کی منزل جہنم ہے ٭٭

مشرکوں نے مسلمانوں سے کہا تھا کہ ہمارے دین میں آ جاؤ اور اسلام چھوڑ دو اس پر یہ آیت اتری کہ ’ کیا ہم بھی تمہاری طرح بے جان و بے نفع و نقصان معبودوں کو پوجنے لگیں؟ اور جس کفر سے ہٹ گئے ہیں کیا پھر لوٹ کر اسی پر آ جائیں؟ اور تم جیسے ہی ہو جائیں؟ بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ اب تو ہماری آنکھیں کھل گئیں صحیح راہ مل گئی اب اسے کیسے چھوڑ دیں؟ اگر ہم ایسا کر لیں تو ہماری مثال اس شخص جیسی ہو گی جو لوگوں کے ساتھ سیدھے راستے پر جا رہا تھا مگر راستہ گم ہو گیا شیطان نے اسے پریشان کر دیا اور ادھر ادھر بھٹکانے لگا اس کے ساتھ جو راستے پر تھے وہ اسے پکارنے لگے کہ ہمارے ساتھ مل جا ہم صحیح راستے پر جا رہے ہیں یہی مثال اس شخص کی ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جان اور پہچان کے بعد مشرکوں کا ساتھ دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی پکارنے والے ہیں اور اسلام ہی سیدھا اور صحیح راستہ ہے ‘۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ مثال اللہ تعالیٰ نے معبودان باطل کی طرف بلانے والوں کی بیان فرمائی ہے اور ان کی بھی جو اللہ کی طرف بلاتے ہیں، ایک شخص راستہ بھولتا ہے وہیں اس کے کان میں آواز آتی ہے کہ اے فلاں ادھر آ سیدھی راہ یہی ہے لیکن اس کے ساتھی جس غلط راستے پر لگ گئے ہیں وہ اسے تھپکتے ہیں اور کہتے ہیں یہی راستہ صحیح ہے اسی پر چلا چل۔ اب اگر یہ سچے شخص کو مانے گا تو راہ راست لگ جائے گا ورنہ بھٹکتا پھرے گا۔‏‏‏‏“ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے والے اس امید میں ہوتے ہیں کہ ہم بھی کچھ ہیں لیکن مرنے کے بعد انہیں معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ کچھ نہ تھے اس وقت بہت نادم ہوتے ہیں اور سوائے ہلاکت کے کوئی چیز انہیں دکھائی نہیں دیتی، یعنی جس طرح کسی جنگ میں گمشدہ انسان کو جنات اس کا نام لے کر آوازیں دے کر اسے اور غلط راستوں پر ڈال دیتے ہیں جہاں وہ مارا مارا پھرتا ہے اور بالآخر ہلاک اور تباہ ہو جاتا ہے اسی طرح جھوت معبودوں کا پجاری بھی برباد ہو جاتا ہے۔ ہدایت کے بعد گمراہ ہونے والے کی یہی مثال ہے جس راہ کی طرف شیطان اسے بلا رہے ہیں وہ تو تباہی اور بربادی کی راہ ہے اور جس راہ کی طرف اللہ بلا رہا ہے اور اس کے نیک بندے جس راہ کو سجھا رہے ہیں وہ ہدایت ہے گو وہ اپنے ساتھیوں کے مجمع میں سے نہ نکلے اور انہیں ہی راہ راست پر سمجھتا رہے اور وہ ساتھی بھی اپنے تئیں ہدایت یافتہ کہتے رہیں۔ لیکن یہ قول آیت کے لفظوں سے مطابق نہیں کیونکہ آیت میں موجد ہے کہ وہ اسے ہدایت کی طرف بلاتے ہیں پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ ضلالت ہو؟ «حَیْرَانَ» پر زبر حال ہونے کی وجہ سے ہے صحیح مطلب یہی ہے کہ اس کے ساتھی جو ہدایت پر ہیں اب اسے غلط راہ پر دیکھتے ہیں تو اس کی خیر خواہی کے لیے پکار پکار کر کہتے ہیں کہ ہمارے پاس آ جا سیدھا راستہ یہی ہے لیکن یہ بد نصیب ان کی بات پر اعتماد نہیں کرتا بلکہ توجہ تک نہیں کرتا، سچ تو یہ ہے کہ ہدایت اللہ کے قبضے میں ہے، وہ جسے راہ دکھائے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا۔

چنانچہ خود قرآن میں ہے کہ «وَمَن يَهْدِ اللَّـهُ فَمَا لَهُ مِن مُّضِلٍّ» [39-الزمر:37] ‏‏‏‏ اور آیت «إِن تَحْرِصْ عَلَىٰ هُدَاهُمْ فَإِنَّ اللَّـهَ لَا يَهْدِي مَن يُضِلُّ وَمَا لَهُم مِّن نَّاصِرِينَ» ۱؎ [16-النحل:37] ‏‏‏‏ ’ تو چاہے ان کی ہدایت پر حرص کرے لیکن جسے اللہ بھٹکا دے اسے وہی راہ پر لا سکتا ہے ایسوں کا کوئی مددگار نہیں ‘۔ ہم سب کو یہی حکم کیا گیا ہے کہ ہم خلوص سے ساری عبادتیں محض اسی «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کے لیے کریں اور یہ بھی حکم ہے کہ نمازیں قائم رکھیں اور ہر حال میں اس سے ڈرتے رہیں قیامت کے دن اسی کے سامنے حشر کیا جائے گا سب وہیں جمع کئے جائیں گے، اسی نے آسمان و زمین کو عدل کے ساتھ پیدا کیا ہے وہی مالک اور مدبر ہے قیامت کے دن فرمائے گا ہو جا تو ہو جائے گا ایک لمحہ بھی دیر نہ لگے گی۔ «يَوْمَ» کا زبر یا تو «وَاتَّقُوهُ» پر عطف ہونے کی وجہ سے ہے یعنی اس دن سے ڈرو جس دن اللہ فرمائے گا ہو اور ہو جائے گا اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ «يَوْمَ» کا زبر «وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ» پر عطف ہونے کی بنا پر ہو تو گویا ابتدائے پیدائش کو بیان فرما کر پھر دوبارہ پیدائش کو بیان فرمایا یہی زیادہ مناسب ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ فعل مضمر ہو یعنی «اُذْکُرْ» اور اس وجہ سے «يَوْمَ» پر زبر آیا ہو، اس کے بعد کے دونوں جملے محلاً مجرور ہیں، پس یہ دونوں جملے بھی محلاً مجرور ہیں۔ ان میں پہلی صفت یہ ہے کہ اللہ کا قول حق ہے رب کے فرمان سب کے سب سچ ہیں، تمام ملک کا وہی اکیلا مالک ہے، سب چیزیں اسی کی ملکیت ہیں «يَوْمَ يُنْفَخُ» میں «يَوْمَ» ممکن ہے کہ «وَيَوْمَ يَقُولُ» کا بدل ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ «وَلَهُ الْمُلْكُ» کا ظرف ہو۔ جیسے اور آیت میں ہے «لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ» ۱؎ [40۔غافر:16] ‏‏‏‏ ’ آج کس کا ملک ہے؟ صرف اللہ اکیلے غالب کا ‘، اور جیسے اس آیت میں ارشاد ہوا ہے «اَلْمُلْكُ يَوْمَىِٕذِ الْحَقُّ للرَّحْمٰنِ وَكَانَ يَوْمًا عَلَي الْكٰفِرِيْنَ عَسِيْرًا» ۱؎ [25-الفرقان:26] ‏‏‏‏ یعنی ’ ملک آج صرف رحمان کا ہے اور آج کا دن کفار پر بہت سخت ہے ‘۔ اور بھی اس طرح کی اور اس مضمون کی بہت سی آیتیں ہیں بعض کہتے ہیں صور جمع ہے صورۃ کی جیسے سورۃ شہر پناہ کو کہتے ہیں اور وہ جمع ہے سورۃ کی لیکن صحیح یہ ہے کہ مراد صور سے قرن ہے جسے اسرافیل پھونکین گے۔ امام بن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ حضور کا ارشاد ہے کہ { اسرافیل صور کو اپنے منہ میں لیے ہوئے اپنی پیشانی جھکائے ہوئے حکم الٰہی کے منتظر ہیں }۔۱؎ [سنن ترمذي:3243،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

مسند احمد میں ہے کہ { ایک صحابی رضی اللہ عنہ کے سوال پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { صور ایک نر سنگھے جیسا ہے جو پھونکا جائے گا } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4742،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ طبرانی کی مطولات میں ہے { حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی پیدائش کے بعد صور کو پیدا کیا اور اسے اسرافیل کو دیا وہ اسے لیے ہوئے ہیں اور عرش کی طرف نگاہ جمائے ہوئے ہیں کہ کب حکم ہو اور میں اسے پھونک دوں }۔ سیدنا ابوہریرہ فرماتے ہیں میں نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صور کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ایک نرسنگھا ہے }۔ میں نے کہا وہ کیسا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بہت ہی بڑا ہے وللہ اس کے دائرے کی چوڑائی آسمان وہ زمین کے برابر ہے اس میں سے تین نفحے پھونکے جائیں گے، پہلا گھبراہٹ کا دوسرا بیہوشی کا تیسرا رب العلمیں کے سامنے کھڑے ہونے کا۔ اول اول جناب باری اسرافیل کو صور پھونکنے کا حکم دے گا وہ پھونک دیں گے جس سے آسمان و زمین کی تمام مخلوق گھبرا اٹھے گی مگر جسے اللہ چاہے یہ صور بحکم رب دیر تک برابر پھونکا جائے گا }۔ اسی طرف اشارہ اس آیت میں ہے «وَمَا يَنظُرُ هَـٰؤُلَاءِ إِلَّا صَيْحَةً وَاحِدَةً مَّا لَهَا مِن فَوَاقٍ» ۱؎ [38-ص:15] ‏‏‏‏ یعنی ’ انہیں صرف بلند زور دار چیخ کا انتظار ہے پہاڑ اس صور سے مثل بادلوں کے چلنے پھرنے لگیں گے پھر ریت ریت ہو جائیں گے زمین میں بھونچال آ جائے گا اور وہ اس طرح تھر تھرانے لگے گی جیسے کوئی کشتی دریا کے بیچ زبردست طوفان میں موجوں سے ادھر ادھر ہو رہی ہو اور غوطے کھا رہی ہو۔ مثل اس ہانڈی کے جو عرش میں لٹکی ہوئی ہے جسے ہوائیں ہلا جلا رہی ہیں ‘۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے «يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ قُلُوبٌ يَوْمَئِذٍ وَاجِفَةٌ» ۱؎ [79-النازعات:6-8] ‏‏‏‏، ’ اس دن زمین جنبش میں آ جائے گی اور بہت ہی ہلنے لگے گی اس کے پیچھے ہی پیچھے لگنے والی آ جائے گی۔ دل دھرکنے لگیں گے اور کلیجے الٹنے لگیں گے ‘۔ لوگ ادھر ادھر گرنے لگیں گے مائیں اپنے دودھ پیتے بچوں کو بھول جائیں گی، حاملہ عورتوں کے حمل گر جائیں گے بجے بوڑھے ہو جائیں گے شیاطین مارے گھبراہٹ اور پریشانی کے بھاگتے بھاگتے زمین کے کناروں پر آ جائیں گے، یہاں سے فرشتے انہیں مار مار کر ہٹائیں گے، لوگ پریشان حال حواس باختہ ہوں گے کوئی جائے پناہ نظر نہ آئے گی امر الٰہی سے بچاؤ نہ ہو سکے گا ایک دوسرے کو آوازیں دیں گے لیکن سب اپنی اپنی مصیبت میں پڑے ہوئے ہوں گے کہ ناگہاں زمین پھٹنی شروع ہو گی کہیں ادھر سے پھٹی کہیں ادھر سے پھٹی اب تو ابتر حالت ہو جائے گی کلیجہ کپکپانے لگے گا دل الٹ جائے گا اور اتنا صدرمہ اور غم ہو گا جس کا اندازہ نہیں ہو سکتا، جو آسمان کی طرف نظر اٹھائیں گے تو دیکھیں گے کہ گھل رہا ہے اور وہ بھی پھٹ رہا ہے ستارے جھڑ رہے ہیں سورج چاند بے نور ہوگیا ہے، ہاں مردوں کو اس کا کچھ علم نہ ہوگا۔

{ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ ”یا رسول اللہ قرآن کی آیت میں جو فرمایا گیا ہے «وَيَوْمَ يُنفَخُ فِي الصُّورِ فَفَزِعَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَن شَاءَ اللَّـهُ وَكُلٌّ أَتَوْهُ دَاخِرِينَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [27-النمل:87] ‏‏‏‏ یعنی ’ زمین و آسمان کے سب لوگ گھبرا اٹھیں گے لیکن جنہیں اللہ چاہے ‘، اس سے مراد کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ شہید لوگ ہیں کہ وہ اللہ کے ہاں زندہ ہیں روزیاں پاتے ہیں اور سب زندہ لوگ گھبراہٹ میں ہوں گے لیکن اللہ تعلای انہیں پریشانی سے محفوظ رکھے گا یہ تو عذاب ہے جو وہ اپنی بدترین مخلوق پر بھیجے گا }، اسی کا بیان آیت «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَىٰ وَمَا هُم بِسُكَارَىٰ وَلَـٰكِنَّ عَذَابَ اللَّـهِ شَدِيدٌ» [22-لحج:1-2] ‏‏‏‏ میں ہے یعنی ’ اے لوگو اپنے رب سے ڈرو یاد رکھو قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے جس دن تم اسے دیکھ لو گے ہر ایک دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے سے غافل ہو جائے گی ہر حمل والی کا حمل گر جائے گا تو دیکھا جائے گا کہ سب لوگ بیہوش ہوں گے حالانکہ وہ نشہ پئے ہوئے نہیں بلکہ اللہ کے سخت عذابوں نے انہیں بدحواس کر رکھا ہے ‘ - یہی حالت رہے گی جب تک اللہ چاہے بہت دیر تک یہی گھبراہٹ کا عالم رہے گا پھر اللہ تبارک و تعالیٰ جبرائیل کو بیہوشی کے نفحے کا حکم دے گا اس نفحہ کے پھونکتے ہی زمین و آسمان کی تمام مخلوق بیہوش ہو جائیں گی مگر جسے اللہ چاہے اور اچانک سب کے سب مر جائیں گے۔ ملک الموت اللہ تعالیٰ کے حضور میں حاضر ہو کر عرض کریں گے کہ ”اے باری تعالیٰ زمین آسمان کی تمام مخلوق مرگئی مگر جسے تو نے چاہا“، اللہ تعالیٰ باوجود علم کے سوال کرے گا کہ ’ یہ بتاؤ اب باقی کون کون ہے؟ ‘ وہ جواب دیں گے ”تو باقی ہے تو «أَنْتَ الْحَيُّ الَّذِي لَا تَمُوتُ» تجھ پر کبھی فنا نہیں اور عرش کے اٹھانے والے فرشتے اور جبرائیل و میکائیل اس وقت عرش کو زبان ملے گی اور وہ کہے گا اے پروردگار کیا جبرئل وہ میکائل علیہم السلام بھی مریں گے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ میں نے اپنے عرش سے نیچے والوں پر سب پر موت لکھ دی ہے ‘۔ چنانچہ یہ دونوں بھی فوت ہو جائیں گے پھر ملک الموت رب جبار و قہار کے پاس آئیں گے اور خبر دیں گے کہ جبرائیل و میکائیل علیہم السلام بھی انتقال کرگئے۔

{ جناب اللہ علم کے باوجودہ پھر دریافت فرمائے گا کہ ’ اب باقی کون ہے؟ ‘ ملک الموت جواب دیں گے کہ باقی ایک تو تو ہے ایسی بقا ولا جس پر فنا ہے ہی نہیں اور تیرے عرش کے اٹھانے والے اللہ فرمائے گا ’ عرش کے اٹھانے والے بھی مر جائیں گے ‘، اس وقت وہ بھی مر جائیں گے، پھر اللہ کے حکم سے اسرافیل علیہ السلام سے صور کو عرش لے لے گا، ملک الموت حاضر ہو کر عرض کریں گے کہ ”یا اللہ عرش کے اٹھانے والے فرشتے بھی مر گئے“ -اللہ تعالیٰ دریافت فرمائے گا حالانکہ وہ خوب جانتا ہے کہ ’ اب باقی کون رہا؟ ‘ ملک الموت جواب دیں گے کہ ایک تو جس پر موت ہے ہی نہیں اور ایک تیرا غلام میں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا ’ تو بھی میری مخلوق میں سے ایک مخلوق ہے تجھے میں نے ایک کام کیلئے پیدا کیا تھا جسے تو کر چکا اب تو بھی مرجا ‘، چنانچہ وہ بھی مر جائیں گے۔ اب اللہ تعالیٰ اکیلا باقی رہ جائے گا جو غلبہ والا یگانگت والا بے ماں باپ اور بے اولاد کے ہے۔ جس طرح مخلوق کے پیدا کرنے سے پہلے وہ یکتا اور اکیلا تھا۔ پھر آسمانوں اور زمینوں کو وہ اس طرح لپیٹ لے گا جیسے دفتری کاغذ کو لپیٹتا ہے پھر انہیں تین مرتبہ الٹ پلٹ کرے گا اور فرمائے گا ’ میں جبار ہوں میں کبریائی والا ہوں ‘۔ پھر تین مرتبہ فرمائے گا ’ آج ملک کا مالک کون ہے؟ کوئی نہ ہو گا جو جواب دے تو خود ہی جواب دے گا ’ «لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ» ۱؎ [40-الغافر:16] ‏‏‏‏ اللہ واحد وقہار ‘۔ قرآن میں ہے «يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ» ۱؎ [14-إبراهيم:48] ‏‏‏‏ ’ اس دن آسمان و زمین بدل دیئے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ انہیں پھیلا دے گا اور کھینچ دے گا جس طرح چمڑا کھینچا جاتا ہے ‘ «لَّا تَرَىٰ فِيهَا عِوَجًا وَلَا أَمْتًا» ۱؎ [20-طه:107] ‏‏‏‏ ’ کہیں کوئی اونچ نیچ باقی نہ رہے گی ‘۔ پھر ایک الٰہی آواز کے ساتھ ہی ساری مخلوق اس تبدیل شدہ زمین میں آ جائے گی اندر والے اندر اور اوپر ولے اوپر پھر اللہ تعالیٰ اپنے عرش تلے سے اس پر بارش برسائے گا پھر آسمان کو حکم ہوگا اور وہ چالیس دن تک مینہ برسائے گا یہاں تک کہ پانی ان کے اوپر بارہ ہاتھ چڑھ جائے گا۔ پھر جسموں کو حکم ہو گا کہ وہ اگیں اور وہ اس طرح اگنے لگیں گے جیسے سبزیاں اور ترکاریاں اور وہ پورے پورے کامل جسم جیسے تھے ویسے ہی ہو جائیں گے پھر حکم فرمائے گا کہ ’ میرے عرش کے اٹھانے والے فرشتے جی اٹھیں ‘ چنانچہ وہ زندہ ہو جائیں گے پھر اسرافیل کو حکم ہو گا کہ ’ صور لے کر منہ سے لگا لیں ‘۔

{ پھر فرمان ہو گا کہ ’ جبرائیل و میکائیل علیہم السلام زندہ ہو جائیں ‘ یہ دونوں بھی اٹھیں گے، پھر اللہ تعالیٰ روحوں کو بلائے گا مومنوں کو نورانی ارواح اور کفار کی ظلماتی روحیں آئیں گی انہیں لے کر اللہ تعالیٰ صور میں ڈال دے گا - پھر اسرافیل علیہ السلام کو حکم ہو گا کہ ’ اب صور پھونک دو ‘ چنانچہ بعث کا صور پھونکا جائے گا جس سے ارواح اس طرح نکلیں گی جیسے شہد کی مکھیاں -تمام خلأ ان سے بھر جائے گا پھر رب عالم کا ارشاد ہو گا کہ ’ مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم ہے ہر روح اپنے اپنے جسم میں چلی جائے ‘، چنانجہ سب روحیں اپنے اپنے جسموں میں نتھنوں کے راستے چلی جائیں گی اور جس طرح زہر رگ وپے میں اثر کر جاتا ہے روہ روئیں روئیں میں دوڑ جائے گی، پھر زمین پھٹ جائے گی اور لوگ اپنی قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے۔ سب سے پہلے میرے اوپر سے زمین شق ہو گی، «مُّهْطِعِينَ إِلَى الدَّاعِ يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» ۱؎ [54-القمر:8] ‏‏‏‏ ’ لوگ نکل کر دوڑتے ہوئے اپنے رب کی طرف چل دیں گے، اس وقت کافر کہیں گے کہ آج کا دن بڑا بھاری ہے ‘۔ سب ننگے پیروں ننگے بدن بے ختنہ ہوں گے ایک میدان میں بقدر ستر سال کے کھڑے رہیں گے، نہ ان کی طرف نگاہ اٹھائی جائے گی نہ ان کے درمیان فیصلے کئے جائیں گے، لوگ بے طرح گریہ وزاری میں مبتلا ہوں گے یہاں تک کہ آنسو ختم ہو جائیں گے اور خون آنکھوں سے نکلنے لگے گا، پسینہ اس قدر آئے گا کہ منہ تک یا ٹھوریوں تک اس میں ڈوبے ہوئے ہوں گے، آپس میں کہیں گے آؤ کسی سے کہیں کہ وہ ہماری شفاعت کرے، ہمارے پروردگار سے عرض کرے کہ وہ آئے اور ہمارے فیصلے کرے، تو کہیں گے کہ اس کے لائق ہمارے باپ آدم علیہ السلام سے بہتر کون ہو گا؟ جنہیں اللہ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اپنی روح ان میں پھونکی اور آمنے سامنے ان سے باتین کیں۔ چنانچہ سب مل کر آپ علیہ السلام کے پاس آجائیں گے اور سفاش طلب کریں گے لیکن آدم علیہ السلام صاف انکار کر جائیں گے اور فرمائیں گے مجھ میں اتنی قابلیت نہیں پھر وہ اسی طرح ایک ایک نبی علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور سب انکار کر دیں گے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { پھر سب کے سب میرے پاس آئیں گے، میں عرش کے آگے جاؤں گا اور سجدے میں گر پڑوں گا، اللہ تعالیٰ میرے پاس فرشتہ بھیجے گا وہ میرا بازو تھام کر مجھے سجدے سے اٹھائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں جواب دوں گا کہ { ہاں اے میرے رب، اللہ عزوجل } باوجود عالم کل ہونے کے مجھے سے دریافت فرمائے گا کہ ’ کیا بات ہے؟ ‘ میں کہوں گا { یا اللہ تو نے مجھ سے شفاعت کی قبولیت کا وعدہ فرمایا ہے اپنی مخلوق کے بارے میں میری شفاعت کو قبول فرما اور ان کے فیصلوں کے لیے تشریف لے آ }۔

{ رب العالمین فرمائے گا ’ میں نے تیری سفارش قبول کی اور میں آ کر تم میں فیصلے کئے دیتا ہوں ‘۔ میں لوٹ کر لوگوں کے ساتھ ٹھہر جاؤں گا کہ ناگہاں آسمانوں سے ایک بہت بڑا دھماکہ سنائی دے گا جس سے لوگ خوفزدہ ہو جائیں گے اتنے میں آسمان کے فرشتے اترنے شروع ہوں گے جن کی تعداد کل انسانوں اور سارے جنوں کے برابر ہوگی۔ جب وہ زمین کے قریب پہنچیں گے تو ان کے نور سے زمین جگمگا اٹھے گی وہ صفیں باندھ کر کھڑے ہو جائیں گے ہم سب ان سے دریافت کریں گے کہ کیا تم میں ہمارا رب آیا ہے؟ وہ جواب دیں گے نہیں پھر اس تعداد سے بھی زیادہ تعداد میں اور فرشتے آئیں گے۔ آخر ہمارا رب عزوجل ابر کے سائے میں نزول فرمائے گا اور فرشتے بھی اس کے ساتھ ہوں گے اس کا عرش اس دن آٹھ فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے اس وقت عرش کے اٹھانے والے جار فرشتے ہیں ان کے قدم آخری نیچے والی زمین کی تہ میں ہیں زمین و آسمان ان کے نصف جسم کے مقابلے میں ہے ان کے کندھوں پر عرش الٰہی ہے۔ ان کی زبانین ہر وقت اللہ تبارک و تعالیٰ کی پاکیزگی کے بیان میں تر ہیں۔ ان کی تسبیح یہ ہے «سُبْحَانَ ذِي الْعَرْشِ وَالْجَبَرُوتِ، سُبْحَانَ ذِي الْمُلْكِ وَالْمَلَكُوتِ، سُبْحَانَ الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ، سُبْحَانَ الَّذِي يُمِيتُ الْخَلَائِقَ وَلَا يَمُوتُ، سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ قُدُّوسٌ قُدُّوسٌ، سُبْحَانَ رَبِّنَا الْأَعْلَى، رَبِّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ، سُبْحَانَ رَبِّنَا الْأَعْلَى، الَّذِي يُمِيتُ الْخَلَائِقَ وَلَا يَمُوتُ» ۔ پھر اللہ جس جگہ چاہے گا اپنی کرسی زمین پر رکھے گا اور بلند آواز سے فرمائے گا ’ اے جنو اور انسانو! میں نے تمہیں جس دن سے پیدا کیا تھا اس دن سے آج تک میں خاموش رہا تمہاری باتیں سنتا رہا تمہارے اعمال دیکھتا رہا سنو تمہارے اعمال نامے میرے سامنے پڑھے جائیں گے جو اس میں بھلائی پائے وہ اللہ کی حمد کرے اور جو اس میں اور کچھ پائے وہ اپنی جان کو ملامت کرے ‘۔

{ پھر بحکم الہ جہنم میں سے ایک دھکتی ہوئی گردن نکلے گی اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ «أَلَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ يَا بَنِي آدَمَ أَن لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطَانَ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ وَأَنِ اعْبُدُونِي هَـٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ وَلَقَدْ أَضَلَّ مِنكُمْ جِبِلًّا كَثِيرًا أَفَلَمْ تَكُونُوا تَعْقِلُونَ هَـٰذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ اصْلَوْهَا الْيَوْمَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ» ‘ ۱؎ [36-يس:60-64] ‏‏‏‏ ’ اے آدم کی اولاد کیا میں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا کہ شیطان کی پوجانہ کرنا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے؟ اور صرف میری ہی عبادت کرتے رہنا یہی سیدھی راہ ہے، شیطان نے تو بہت سی مخلوق کو گمراہ کر دیا ہے کیا تمہیں عقل نہیں؟ یہ ہے وہ جہنم جس کا تم وعدہ دیئے جاتے تھے اور جسے تم جھٹلاتے رہے اے گنہگارو! آج تم نیک بندوں سے الگ ہو جاؤ ‘ - اس فرمان کے ساتھ ہی بد لوگ نیکوں سے الگ ہو جائیں گے تمام امتیں گھٹنوں کے بل گر پڑیں گی جیسے قرآن کریم میں ہے کہ «وَتَرَى كُلَّ أُمَّةٍ جَاثِيَةً كُلُّ أُمَّةٍ تُدْعَى إِلَى كِتَابِهَا الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ» ۱؎ [45-الجاثية:28] ‏‏‏‏ ’ تو ہر امت کو گھٹنوں کے بل گرے ہوئے دیکھے گا ہر امت اپنے نامہ اعمال کی طرف بلائی جائے گی ‘ - پھر اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں فیصلے کرے گا پہلے جانوروں میں فیصلے ہوں گے یہاں تک کہ بے سینگ والی بکری کا بدلہ سینگ والی بکری سے لیا جائے گا، جب کسی کا کسی کے ذمہ کوئی دعویٰ باقی نہ رہے گا تو اللہ تعالیٰ انہیں فرمائے گا ’ تم سب مٹی ہو جاؤ ‘، اس فرمان کے ساتھ ہی تمام جانور مٹی بن جائیں گے، «وَيَقُولُ الْكَافِرُ يَا لَيْتَنِي كُنتُ تُرَابًا» ۱؎ [78-النبأ:40] ‏‏‏‏ ’ اس وقت کافر بھی یہی آرزو کریں گے کہ کاش ہم بھی مٹی ہو جاتے ‘ }۔

{ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کے فیصلے شروع کرے گا سب سے پہلے قتل و خون کا فیصلہ ہوگا، اللہ تعالیٰ اپنی راہ کے شہیدوں کو بھی بلائے گا ان کے ہاتھوں سے قتل شدہ لوگ اپنا سر اٹھائے ہوئے حاضر ہوں گے رگوں سے خون بہہ رہا ہوگا کہیں گے کہ باری تعالیٰ دریافت فرما کہ اس نے مجھے کیوں قتل کیا؟ پس باوجود علم کے اللہ عزوجل مجاہدین سے پوچھے گا کہ ’ تم نے انہیں کیوں قتل کیا؟ ‘ وہ جواب دیں گے اس لیے کہ تیری بات بلند ہو اور تیری عزت ہو اللہ عالی فرمائے گا ’ تم سچے ہو ‘، اسی وقت ان کا چہرہ نورانی ہو جائے گا سورج کی طرح چمکنے لگے گا اور فرشتے انہیں اپنے جھرمٹ میں لے کر جنت کی طرف چلیں گے - پھر باقی کے اور تمام قاتل و مقتول اسی طرح پیش ہوں گے اور جو نفس ظلم سے قتل کیا گیا ہے اس کا بدلہ ظالم قاتل سے دلوایا جائے گا اسی طرح ہر مظلوم کو ظالم سے بدلہ دلوایا جائے گا یہاں تک کہ جو شخص دودھ میں پانی ملا کر بیچتا تھا اسے فرمایا جائے گا کہ’ اپنے دودھ سے پانی جدا کر دے ‘، ان فیصلوں کے بعد ایک منادی باآواز بلند ندا کرے گا جسے سب سنیں گے، ہر عابد اپنے معبود کے پیچھے ہولے اور اللہ کے سوا جس نے کسی اور کی عبادت کی ہے وہ جہنم میں چل دے - «لَوْ كَانَ هَـٰؤُلَاءِ آلِهَةً مَّا وَرَدُوهَا وَكُلٌّ فِيهَا خَالِدُونَ» [21-الأنبياء:99] ‏‏‏‏ ’ سنو اگر یہ سچے معبود ہوتے تو جہنم میں وارد نہ ہوتے یہ سب تو جہنم میں ہی ہمیشہ رہیں گے ‘۔ اب صرف با ایمان لوگ باقی رہیں گے ان میں منافقین بھی شامل ہوں گے اللہ تعالیٰ ان کے پاس جس ہیئت میں چاہے تشریف لائے گا اور ان سے فرمائے گا کہ ’ سب اپنے معبودوں کے پیچھے چلے گئے تم بھی جس کی عبادت کرتے تھے اس کے پاس چلے جاؤ ‘۔ یہ جواب دیں گے کہ واللہ ہمارا تو کوئی معبود نہیں بجز الہ العالمین کے، ہم نے کسی اور کی عبادت نہیں کی۔ اب ان کے لیے پنڈلی کھول دی جائے گی اور اللہ تعالیٰ اپنی عظمت کی تجلیاں ان پر ڈالے گا جس سے یہ اللہ تعالیٰ کو پہچان لیں گے اور سجدے میں گر پڑیں گے لیکن منافق سجدہ نہیں کر سکیں گے یہ اوندھے اور الٹے ہو جائیں گے اور اپنی کمر کے بل گر پڑیں گے۔ ان کی پیٹھ سیدھی کر دی جائے گی مڑ نہیں سکیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ مومنوں کو سجدے سے اٹھنے کا حکم دے گا اور جہنم پر پل صراط رکھی جائے گی جو تلوار جیسی تیز دھار والی ہوگی اور جگہ جگہ آنکڑے اور کانٹے ہوں گے بڑی پھسلنی اور خطرناک ہوگی ایماندار تو اس پر سے اتنی سی دیر میں گزر جائیں گے جتنی دیر میں کوئی آنکھ بند کر کے کھول دے جس طرح بجلی گزرجاتی ہے اور جیسے ہوا تیزی سے چلتی ہے۔ یا جیسے تیز رو گھوڑے یا اونٹ ہوتے ہیں یا خوب بھاگنے والے آدمی ہوتے ہیں بعض صحیح سالم گزر جائیں گے، بعض زخمی ہو کر پار اتر جائیں گے، بعض کٹ کر جہنم میں گر جائیں گے۔ جتنی لوگ جب جنت کے پاس پہنچیں گے تو کہیں گے کون ہمارے رب سے ہماری سفارش کرے کہ ہم جنت میں چلے جائیں؟ دوسرے لوگ جواب دیں گے اس کے حقدار تمہارے باپ آدم علیہ السلام سے زیادہ اور کون ہوں گے؟ جنہیں رب ذوالکریم نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور اپنی روح ان میں پھونکی اور آمنے سامنے باتیں کیں۔

{ پس سب لوگ آپ علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور آپ علیہ السلام سے سفارش کرانی چاہیں گے لیکن اپنا گناہ یاد کرکے جواب دیں گے کہ ”میں اس لائق نہیں ہوں تم نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ وہ اللہ کے پہلے رسول ہیں“، لوگ نوح علیہ السلام کے پاس آکر ان سے یہ درخواست کریں گے لیکن وہ بھی اپنے گناہ کو یاد کر کے یہی فرمائیں گے اور کہیں گے کہ ”تم سب سیدنا ابراھیم علیہ السلام کے پاس جاؤ وہ خلیل اللہ ہیں۔‏‏‏‏“ لوگ آپ علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور یہی کہیں گے آپ علیہ السلام بھی اپنے گناہ کو یاد کر کے یہی جواب دیں گے اور موسیٰ علیہ السلام کے پاس جانے کی ہدایت کریں گے کہ اللہ نے انہی

📖 احسن البیان

73۔ 1 حق کے ساتھ یا بافا‏ئدہ پیدا کیا یعنی ان کو عبث اور بےفائدہ کھیل کود کے طور پر پیدا نہیں کیا بلکہ ایک خاص مقصد کے لیے کائنات کی تخلیق فرمائی ہے اور وہ یہ کہ اس اللہ کو یاد رکھا اور اس کا شکر ادا کیا جائے جس نے یہ سب کچھ بنایا۔ 73۔ 1 یوم فعل محذوف واذکر یا واتقوا کی وجہ سے منصوب ہے۔ یعنی اس دن کو یاد کرو یا اس دن سے ڈرو! کہ اس کے لفظ کُن (ہوجا) سے وہ جو چاہے گا، ہوجائے گا۔ یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ حساب کتاب کے کٹھن مراحل بھی بڑی سرعت کے ساتھ طے ہوجائیں گے، لیکن کن کے لئے؟ ایمانداروں کے لئے۔ دوسروں کو یہ دن ہزار سال یا پچاس ہزار سال کی طرح بھاری لگے گا۔ 73۔ 2 صور سے مراد نرسنگا یا بگل ہے جس کے متعلق حدیث میں آتا ہے کہ ' اسرافیل اسے منہ میں لئے اور اپنی پیشانی جھکائے، حکم الہی کے منتظر کھڑے ہیں کہ جب انھیں کہا جائے تو اس کے منہ میں پھونک مار دیں ' ابن کثیر ' ابو داؤد اور ترندی میں ہے۔ الصور قرن ینفخ فیہ (صور ایک قرن (نرسنگا) ہے جس میں پھونکا جائے گا بعض علماء کے نزدیک تین نفخے ہوں گے نفخۃ الصعق جس سے تمام لوگ بےہوش ہوجائیں گے نفخۃ الفناء جس سے تمام لوگ فنا ہو جا‏ئیں گے نفخۃ الانشاء جس سے تمام انسان دوبارہ زندہ ہوجائیں گے بعض علماء آخری دو نفخوں کے ہی قائل ہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت73) ➊ {وَ هُوَ الَّذِيْ خَلَقَ …:} یعنی اللہ تعالیٰ ہی نے زمین و آسمان کو پیدا کیا، لیکن بے مقصد اور کھیل کے لیے نہیں بلکہ حق، یعنی خاص مقصد کے لیے پیدا فرمایا ہے، وہ مقصد کیا ہے، اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق کا مقصد یہ بیان فرمایا: «لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا» [الملک: ۶] ”تاکہ وہ تمھیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل میں زیادہ اچھا ہے۔“ اور انسان اور جن کی تخلیق کا مقصد یہ بیان فرمایا: «وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ» [الذاریات: ۵۶] ”اور میں نے جنوں اور انسانوں کو پیدا نہیں کیا، مگر اس لیے کہ وہ میری عبادت کریں۔“ دوسری آیت میں فرمایا: «وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا مِّنْهُ» [ الجاثیۃ: ۱۳] ” اور اس نے تمھاری خاطر جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو اپنی طرف سے مسخر کر دیا۔“ اور فرمایا: «هُوَ الَّذِيْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا» [ البقرۃ: ۲۹ ] ”وہی ہے جس نے زمین میں جو کچھ بھی ہے سب تمھارے لیے پیدا فرمایا۔“ معلوم ہوا کہ یہ سب کچھ انسان کے فائدے اور اس کی آزمائش کے لیے ہے اور انسان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ ➋ {وَ يَوْمَ يَقُوْلُ كُنْ فَيَكُوْنُ:} یعنی حشر کے دن جب وہ تمام مردوں کو زندہ کرنا چاہے گا تو اللہ تعالیٰ کے لفظ {” كُنْ “} کہنے سے تمام مردے زندہ ہو جائیں گے۔ ➌ {وَ لَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ:} یعنی دنیا میں مجازی طور پر جن کو بادشاہ کہا جاتا تھا ان کی مجازی بادشاہت بھی ختم ہو جائے گی، اللہ فرمائے گا: «لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ» ‏‏‏‏ [المؤمن: ۱۶ ] ”آج کس کی بادشاہی ہے، صرف اللہ کی جو ایک ہے، زبردست ہے۔“ نیز دیکھیے سورۂ فاتحہ میں {” مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ“} کی تفسیر۔ {” الصُّوْرِ “} کیا چیز ہے؟ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اعرابی آیا، اس نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! صور کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد وہ سینگ ہے جس میں پھونکا جائے گا۔“ [ أحمد: 162/2، ح: ۶۵۱۴۔ ترمذی، صفات المؤمنین، باب صفۃ القیامۃ…: ۲۴۳۰ ] اس لیے عام طور پر اس کا ترجمہ نرسنگا کیا جاتا ہے۔ دوسری حدیث میں ہے: ”صور پھونکنے والا فرشتہ اس وقت سے تیار عرش کی طرف دیکھ رہا ہے جب سے اسے صور دیا گیا ہے اور وہ آنکھ بھی نہیں جھپک رہا کہ کہیں اسی اثنا میں اسے حکم نہ دے دیا جائے۔“ [ مستدرک حاکم: 558/4، ح: ۸۶۷۶۔ الصحیحۃ: 65/2، ح: ۱۰۷۸ ] پس صحیح یہی ہے کہ صور ایک قرن (نرسنگا) ہے۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ {” الصُّوْرِ “ ” صُوْرَةٌ “} کی جمع ہے اور اس سے مراد مخلوق کی صورتیں ہیں تو یہ قول قرآن و سنت کی رو سے مردود ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ نمل (۸۷) پہلے ایک صور پھونکا جائے گا، ساری خلقت گھبرا جائے گی، پھر دوبارہ پھونکا جائے گا تو ساری خلقت فنا ہو جائے گی، پھر تیسری دفعہ پھونکا جائے گا تو ساری خلقت زندہ ہو کر ایک جگہ جمع ہو جائے گی۔ بعض نے لکھا ہے کہ نفخہ اصل میں دو بار ہو گا، پہلے کو نفخۂ فزع یا صعق کہا جاتا ہے، گویا پہلے گھبراہٹ پھر بے ہوشی اور نتیجتاً فنا، یعنی دونوں ایک ہی ہیں اور دوسرے کو نفخۂ قیام۔ واللہ اعلم! (ابن کثیر، قرطبی) ➍ {عٰلِمُ الْغَيْبِ وَ الشَّهَادَةِ:} {” الْغَيْبِ “} سے مراد بندوں کے اعتبار سے غیب (پوشیدہ) اور {” الشَّهَادَةِ “} کا معنی حاضر ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ کے لیے تو کوئی بھی چیز پوشیدہ نہیں، سب حاضر ہی حاضر ہے۔ ➎ {وَ هُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ:} یعنی جو رب یہ صفات رکھتا ہے وہی اس لائق ہے کہ تم اس کی فرماں برداری اختیار کرو، اس کے بندے بن کر رہو اور سمجھو کہ تمھیں اللہ کے حضور پیش ہونا ہے اور اچھے یا برے ہر عمل کا بدلہ پانا ہے۔
← پچھلی آیت (72) پوری سورۃ اگلی آیت (74) →