بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الانعام — Surah Anam
آیت نمبر 69
کل آیات: 165
قرآن کریم الانعام آیت 69
آیت نمبر: 69 — سورۃ الانعام islamicurdubooks.com ↗
وَ مَا عَلَی الَّذِیۡنَ یَتَّقُوۡنَ مِنۡ حِسَابِہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ وَّ لٰکِنۡ ذِکۡرٰی لَعَلَّہُمۡ یَتَّقُوۡنَ ﴿۶۹﴾
اُن کے حساب میں سے کسی چیز کی ذمہ داری پرہیز گار لوگوں پر نہیں ہے، البتہ نصیحت کرنا اُن کا فرض ہے شاید کہ وہ غلط روی سے بچ جائیں
اور جو لوگ پرہیزگار ہیں ان پر ان کی باز پرس کا کوئی اﺛر نہ پہنچے گا اور لیکن ان کے ذمہ نصیحت کردینا ہے شاید وه تقویٰ اختیار کریں
اور پرہیز گاروں پر ان کے حساب سے کچھ نہیں ہاں نصیحت دینا شاید وہ باز آئیں
ان (غلط کار لوگوں) کے حساب و کتاب کی ذمہ داری پرہیزگار لوگوں پر نہیں ہے (جو ان برے کاموں سے بچتے رہتے ہیں) ہاں البتہ (ان کے ذمہ صرف) نصیحت کرنا ہے تاکہ وہ (برے لوگ) پرہیزگاری اختیار کریں۔
اور ان لوگوں کے ذمے جو بچتے ہیں، ان کے حساب میں سے کوئی چیز نہیں اور لیکن یاد دہانی ہے، تاکہ وہ بچ جائیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

غلط تاویلیں کرنے والوں سے نہ ملو ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ جس قرآن کو اور جس ہدایت و بیان کو تو اللہ عالی کی طرف سے لایا ہے اور جسے تیری قوم قریش جھٹلا رہی ہے حقیقتاً وہ سرا سر حق ہے بلکہ اس کے سوا اور کوئی حق ہے ہی نہیں ان سے کہہ دیجئیے میں نہ تو تمہارا محافظ ہوں نہ تم پر وکیل ہوں ‘۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَقُلِ الْحَقُّ مِن رَّبِّكُمْ فَمَن شَاءَ فَلْيُؤْمِن وَمَن شَاءَ فَلْيَكْفُرْ» ۱؎ [18-الكهف:29] ‏‏‏‏ ’ کہہ دے کہ یہ تمہارے رب کی طرف سے حق ہے جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے نہ مانے ‘، یعنی مجھ پر صرف تبلیغ کرنا فرض ہے، تمہارے ذمہ سننا اور ماننا ہے ماننے والے دنیا اور آخرت میں نیکی پائیں گے اور نہ ماننے والے دونوں جہان میں بد نصیب رہیں گے، ہر خبر کی حقیقت ہے وہ ضرور واقع ہونے والی ہے اس کا وقت مقرر ہے، تمہیں عنقریب حقیقت حال معلوم ہو جائے گی، واقعہ کا انکشاف ہو جائے گا اور جان لو گے۔

پھر فرمایا ’ جب تو انہیں دیکھے جو میری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور ان کا مذاق اڑاتے ہیں تو تو ان سے منہ پھیر لے اور جب تک وہ اپنی شیطانیت سے باز نہ آ جائیں تو ان کے ساتھ نہ اٹھو نہ بیٹھو ‘۔ اس آیت میں گو فرمان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے لیکن حکم عام ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے ہر شخص پر حرام ہے کہ وہ ایسی مجلس میں یا ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھے جو اللہ کی آیتوں کی تکذیب کرتے ہوں ان کے معنی الٹ پلٹ کرتے ہوں اور ان کی بے جا تاویلیں کرتے ہوں، اگر بالفرض کوئی شخص بھولے سے ان میں بیٹھ بھی جائے تو یاد آنے کے بعد ایسے ظالموں کے پاس بیٹھنا ممنوع ہے حدیث شریف میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ نے میری امت کو خطا اور بھول سے درگزر فرما لیا ہے اور ان کاموں سے بھی جو ان سے زبردستی مجبور کرکے کرائے جائیں }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:2045،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اس آیت کے اسی حکم کی طرف اشارہ اس آیت میں ہے «وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللَّهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ إِنَّكُمْ إِذًا مِثْلُهُمْ» ۱؎ [4-النساء:140] ‏‏‏‏ یعنی ’ تم پر اس کتاب میں یہ فرمان نازل ہو چکا ہے کہ جب اللہ کی آیتوں کے ساتھ کفر اور مذاق ہوتا ہوا سنو تو ایسے لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو اور اگر تم نے ایسا کیا تو تم بھی اس صورت میں ان جیسے ہی ہو جاؤ گے ہاں جب وہ اور باتوں میں مشغول ہوں تو خیر ‘، مطلب یہ ہے کہ اگر تم ان کے ساتھ بیٹھے اور ان کی باتوں کو برداشت کر لیا تو تم بھی ان کی طرح ہی ہو۔

پھر فرمان ہے کہ ’ جو لوگ ان سے دوری کریں ان کے ساتھ شریک نہ ہوں ان کی ایسی مجلسوں سے الگ رہیں وہ بری الذمہ ہیں ان پر ان کا کوئی گناہ نہیں، ان پر اس بدکرداری کا کوئی بوجھ ان کے سر نہیں ‘۔ دیگر مفسرین کہتے ہیں کہ اس کے یہ معنی ہیں کہ اگرچہ ان کے ساتھ بیٹھیں لیکن جبکہ ان کے کام میں اور ان کے خیال میں ان کی شرکت نہیں تو یہ بے گناہ ہیں لیکن یہ حضرات یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ حکم سورۃ نساء مدنی کی آیت «إِنَّكُمْ إِذًا مِثْلُهُمْ» ۱؎ [4-النساء:140] ‏‏‏‏سے منسوخ ہے۔ ان مفسرین کی اس تفسیر کے مطابق آیت کے آخری جملے کے یہ معنی ہوں گے کہ ’ ہم نے تمہیں ان سے الگ رہنے کا حکم اس لیے دیا ہے کہ انہیں عبرت حاصل ہو اور ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے گناہ سے باز آ جائیں اور ایسا نہ کریں ‘۔

📖 احسن البیان

69۔ 1 مِنْ حِسَابِھِمْ کا تعلق آیات الٰہی کا استہزاد (جھٹلانے) کرنے والوں سے ہے۔ یعنی وہ لوگ جو ایسی مجالس سے اجتناب کریں گے کہ اللہ کا جو گناہ استہزاد کرنے والوں کو ملے گا وہ اس گناہ سے محفوظ رہیں گے۔ 69۔ 2 یعنی اجتناب و علیحدگی کے باوجود وعظ و نصیحت اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ حتی المقدر ادا کرتے رہیں۔ شاید وہ بھی اپنی اس حرکت سے باز آجائیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 69) {وَ مَا عَلَى الَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ …:} شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں، یعنی اگر کوئی متقی شخص چاہے کہ ایسے جاہلوں کے پاس نصیحت کے لیے بھی نہ بیٹھے تو اس کے متعلق فرمایا کہ اگر وہ نہ بیٹھے تو اس پر ان کے گمراہ رہنے کا کوئی گناہ نہیں، البتہ انھیں نصیحت کرے تو بہتر ہے، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہ ڈر جائیں تو اسے نصیحت کرنے کا ثواب مل جائے۔(موضح) اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ پرہیز گار لوگ اگر ان کی مجلس میں نصیحت کے لیے بیٹھ جائیں تو کچھ حرج نہیں ہے، لیکن ہم نے جو کنارہ کرنے کا حکم دیا ہے تو اس نصیحت کے پیش نظر کہ شاید تمھارے کنارہ کرنے کی وجہ سے وہ اس قسم کی بے ہودگی سے باز آ جائیں۔ واللہ اعلم! (ابن کثیر)
← پچھلی آیت (68) پوری سورۃ اگلی آیت (70) →