بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الانعام — Surah Anam
آیت نمبر 47
کل آیات: 165
قرآن کریم الانعام آیت 47
آیت نمبر: 47 — سورۃ الانعام islamicurdubooks.com ↗
قُلۡ اَرَءَیۡتَکُمۡ اِنۡ اَتٰىکُمۡ عَذَابُ اللّٰہِ بَغۡتَۃً اَوۡ جَہۡرَۃً ہَلۡ یُہۡلَکُ اِلَّا الۡقَوۡمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۴۷﴾
کہو، کبھی تم نے سوچا کہ اگر اللہ کی طرف سے اچانک یا علانیہ تم پر عذاب آ جائے تو کیا ظالم لوگوں کے سوا کوئی اور ہلاک ہوگا؟
آپ کہئے کہ یہ بتلاؤ اگر تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آ پڑے خواه اچانک یا اعلانیہ تو کیا بجز ﻇالم لوگوں کے اور بھی کوئی ہلاک کیا جائے گا
تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو اگر تم پر اللہ کا عذاب آئے اچانک یا کھلم کھلا تو کون تباہ ہوگا سوا ظالموں کے
کہیے ذرا غور کرکے بتاؤ کہ اگر تم پر اللہ کا عذاب اچانک یا علانیہ آجائے تو ظالم لوگوں کے سوا اور کون ہلاک و برباد ہوگا؟
کہہ کیا تم نے دیکھا اگر تم پر اللہ کا عذاب اچانک یا کھلم کھلا آجائے، کیا ظالم لوگوں کے سوا کوئی ہلاک کیا جائے گا؟

📖 تفسیر ابن کثیر

محروم اور کامران کون؟ ٭٭

فرمان ہے کہ ’ ان مخالفین اسلام سے پوچھو تو کہ اگر اللہ تعالیٰ تم سے تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں چھین لے جیسے کہ اس نے تمہیں دیئے ہیں ‘، جیسے فرمان ہے آیت «هُوَ الَّذِي أَنْشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ قَلِيلًا مَا تَشْكُرُونَ» ۱؎ [67-الملك:23] ‏‏‏‏ یعنی ’ اللہ خالق کل وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہیں سننے کو کان اور دیکھنے کو آنکھیں دیں ‘، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مراد چھین لینے سے شرعی نفع نہ پہنچانا ہو اس کی دلیل اس کے بعد کا جملہ دل پر مہر لگا دینا ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «اَمَّنْ يَّمْلِكُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَمَنْ يُّخْرِجُ الْـحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَنْ يُّدَبِّرُ الْاَمْرَ» ۱؎ [10۔ یونس:31] ‏‏‏‏ ’ کون ہے جو کان کا اور آنکھوں کا مالک ہو؟ ‘ اور فرمان ہے آیت «وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَحُوْلُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهٖ وَاَنَّهٗٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ» ۱؎ [8۔ الأنفال:24] ‏‏‏‏ ’ جان لو کہ اللہ تعالیٰ انسان کے اور اس کے دل کے درمیان حائل ہے ‘۔ یہاں ان سے سوال ہوتا ہے کہ ’ بتلاؤ تو کہ اللہ کے سوا اور کوئی ان چیزوں کے واپس دلانے پر قدرت رکھتا ہے؟ ‘ یعنی کوئی نہیں رکھتا، دیکھ لے کہ میں نے اپنی توحید کے کس قدر زبردست، پرزور صاف اور جچے تلے دلائل بیان کر دیئے ہیں اور یہ ثابت کر دیا کہ میرے سوا سب بے بس ہیں لیکن یہ مشرک لوگ باوجود اس قدر کھلی روشن اور صاف دلیلوں کے حق کو نہیں مانتے بلکہ اوروں کو بھی حق کو تسلیم کرنے سے روکتے ہیں۔ پھر فرماتا ہے ’ ذرا اس سوال کا جواب بھی دو کہ اللہ کا عذاب تمہاری بے خبری میں یا ظاہر کھلم کھلا تمہارے پاس آ جائے تو کیا سوا ظالموں اور مشرکوں کے کسی اور کو بھی ہلاکت ہوگی؟ ‘ یعنی نہ ہوگی۔ اللہ کی عبادت کرنے والے اس ہلاکت سے محفوظ رہیں گے۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت «اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰىِٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَهُمْ مُّهْتَدُوْنَ» [6۔ الأنعام:82] ‏‏‏‏ ’ جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو شرک سے خراب نہ کیا ان کیلئے امن و امان ہے اور وہ ہدایت یافتہ ہیں ‘۔ پھر فرمایا کہ ’ رسولوں کا کام تو یہی ہے کہ ایمان والوں کو ان کے درجوں کی خوشخبریاں سنائیں اور کفار کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں، جو لوگ دل سے آپ کی بات مان لیں اور اللہ کے فرمان کے مطابق اعمال بجا لائیں، انہیں آخرت میں کوئی ڈر خوف نہیں اور دنیا کے چھوڑنے پر کوئی ملال نہیں، ان کے بال بچوں کا اللہ والی ہے اور ان کے ترکے کا وہی حافظ ہے ‘۔ کافروں کو اور جھٹلانے والوں کو ان کے کفر و فسق کی وجہ سے بڑے سخت عذاب ہوں گے کیونکہ انہوں نے اللہ کے فرمان چھوڑ رکھے تھے اور اس کی نافرمانیوں میں مشغول تھے۔ اس کے حرام کردہ کاموں کو کرتے تھے اور اس کے بتائے ہوئے کاموں سے بھاگتے تھے۔

📖 احسن البیان

47۔ 1 بغتۃ بیخبر ی سے مراد رات اور جھرۃ خبر داری سے دن مراد ہے جسے سورة یونس میں بَیَاتًا اَوْ نَہَارًا سے تعبیر کیا گیا ہے یعنی دن کو عذاب آجائے یا رات کو یا پھر بغتۃ وہ عذاب ہے جو اچانک بغیر تمہید اور مقدمات کے آجائے اور جھرۃ وہ عذاب جو تمہید اور مقدمات کے بعد آئے۔ یہ عذاب جو قوموں کی ہلاکت کے لئے آتا ہے۔ ان ہی پر آتا ہے جو ظالم ہوتی ہیں یعنی کفر و طغیان اور معصیت الٰہی میں حد سے تجاوز کر جاتی ہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 47) {قُلْ اَرَءَيْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ …:}{ ” بَغْتَةً “} اچانک، بغیر کسی پیشگی اطلاع کے، یعنی رات کو اور {” جَهْرَةً “} کھلم کھلا، سب کے دیکھتے ہوئے، یعنی دن کو، جیسا کہ سورۂ یونس کی آیت (۵۰) میں ہے: «بَيَاتًا اَوْ نَهَارًا» ‏‏‏‏ ”رات کو یا دن کو۔“ پہلی آیت میں صرف ان کے کانوں، آنکھوں اور دلوں کو لے جانے یا مہر لگا کر بند کر دینے کی بات کی تھی، اب اس آیت میں عام عذاب کے ساتھ ڈرایا جا رہا ہے، یعنی اگر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا تو تم کسی صورت بچ نہیں سکو گے۔ باقی رہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی تو اللہ تعالیٰ انھیں ضرور بچائے گا، کیونکہ پہلے جتنی بھی قومیں تباہ کی گئیں ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا مستقل طریقہ یہی رہا ہے کہ پہلے رسول اور اس کے پیروکاروں کو ظالم قوم کی بستی سے نکل جانے کا حکم دیا گیا، جب وہ نکل گئے تو ظالم لوگوں کو تباہ کر دیا گیا۔
← پچھلی آیت (46) پوری سورۃ اگلی آیت (48) →