بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الانعام — Surah Anam
آیت نمبر 32
کل آیات: 165
قرآن کریم الانعام آیت 32
آیت نمبر: 32 — سورۃ الانعام islamicurdubooks.com ↗
وَ مَا الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَاۤ اِلَّا لَعِبٌ وَّ لَہۡوٌ ؕ وَ لَلدَّارُ الۡاٰخِرَۃُ خَیۡرٌ لِّلَّذِیۡنَ یَتَّقُوۡنَ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۳۲﴾
دنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور ایک تماشا ہے، حقیقت میں آخرت ہی کا مقام اُن لوگوں کے لیے بہتر ہے جو زیاں کاری سے بچنا چاہتے ہیں، پھر کیا تم لوگ عقل سے کام نہ لو گے؟
اور دنیاوی زندگانی تو کچھ بھی نہیں بجز لہو ولعب کے۔ اور دار آخرت متقیوں کے لئے بہتر ہے۔ کیا تم سوچتے سمجھتے نہیں ہو
اور دنیا کی زندگی نہیں مگر کھیل کود اور بیشک پچھلا گھر بھلا ان کے لئے جو ڈرتے ہیں تو کیا تمہیں سمجھ نہیں،
اور دنیا کی زندگی نہیں ہے مگر کھیل تماشا اور بے شک آخرت والا گھر پرہیزگاروں کے لئے بہت اچھا ہے کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے۔
اور دنیا کی زندگی کھیل اور دل لگی کے سوا کچھ نہیں اور یقینا آخرت کا گھران لوگوں کے لیے بہتر ہے جو ڈرتے ہیں، تو کیا تم نہیں سمجھتے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

پشیمانی مگر جہنم دیکھ کر! ٭٭

قیامت کو جھٹلانے والوں کا نقصان ان کا افسوس اور ان کی ندامت و خجالت کا بیان ہو رہا ہے جو اچانک قیامت کے آ جانے کے بعد انہیں ہو گا۔ نیک اعمال کے ترک افسوس الگ، بد اعمالیوں پر پچھتاوا جدا ہے۔ «فِيهَا» کی ضمیر کا مرجع ممکن ہے «الْحَيَاةِ» ہو اور ممکن ہے «الْأَعْمَالِ» ہو اور ممکن ہے «الدَّارُ الْآخِرَةُ» ہو، ’ یہ اپنے گناہوں کے بوجھ سے لدے ہوئے ہوں گے، اپنی بد کرداریاں اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے ‘۔ آہ! کیا برا بوجھ ہے؟ ابو مرزوق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”کافر یا فاجر جب اپنی قبر سے اٹھے گا اسی وقت اس کے سامنے ایک شخص آئے گا جو نہایت بھیانک، خوفناک اور بدصورت ہو گا اس کے جسم سے تعفن والی سڑاند کی سخت بدبو آ رہی ہوگی وہ اس کے پاس جب پہنچے گا یہ دہشت و وحشت سے گھبرا کر اس سے پوچھے گا تو کون ہے؟ وہ کہے گا خواب! کیا تو مجھے پہچانتا نہیں؟ یہ جواب دے گا ہرگز نہیں صرف اتنا جانتا ہوں کہ تو نہایت بدصورت کریہہ منظر اور تیز بدبو والا ہے تجھ سے زیادہ بدصورت کوئی بھی نہ ہوگا، وہ کہے گا سن میں تیرا خبیث عمل ہوں جسے تو دنیا میں مزے لے کر کرتا رہا۔ سن تو دنیا میں مجھ پر سوار رہا اب کمر جھکا میں تجھ پر سوار ہو جاؤں گا چنانچہ وہ اس پر سوار ہو جائے گا یہی مطلب ہے اس آیت کا کہ ’ وہ لوگ اپنے بد اعمال کو اپنی پیٹھ پر لادے ہوئے ہوں گے ‘۔

حضرت سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جو بھی ظالم شخص قبر میں جاتا ہے اس کی لاش کے قبر میں پہنچتے ہی ایک شخص اس کے پاس جاتا ہے سخت بدصورت سخت بدبودار سخت میلے اور قابل نفرت لباس والا یہ اسے دیکھتے ہی کہتا ہے تو تو بڑا ہی بدصورت ہے بدبو دار ہے یہ کہتا ہے تیرے اعمال ایسے ہی گندے تھے وہ کہتا ہے تیرا لباس نہایت متعفن ہے، یہ کہتا ہے تیرے اعمال ایسے ہی قابل نفرت تھے وہ کہتا ہے اچھا بتا تو سہی اے منحوس تو ہے کون؟ یہ کہتا ہے تیرے عمل کا مجسمہ، اب یہ اس کے ساتھ ہی رہتا ہے اور اس کیلئے عذابوں کے ساتھ ہی ایک عذاب ہوتا ہے جب قیامت کے دن یہ اپنی قبر سے چلے گا تو یہ کہے گا ٹھہر جاؤ دنیا میں تو نے میری سواری لی ہے اب میں تیری سواری لوں گا چنانچہ وہ اس پر سوار ہو جاتا ہے اور اسے مارتا پیٹتا ذلت کے ساتھ جانوروں کی طرح ہنکاتا ہوا جہنم میں پہنچاتا ہے۔ یہی معنی ہیں اس آیت کے اس جملے کے ہیں۔‏‏‏‏“ دنیا کی زندگانی بجز کھیل تماشے کے ہے ہی کیا، آنکھ بند ہوئی اور خواب ختم، البتہ اللہ سے ڈرنے والے لوگوں کیلئے آخرت کی زندگانی بڑی چیز ہے اور بہت ہی بہتر چیز ہے تمہیں کیا ہوگیا کہ تم عقل سے کام ہی نہیں لیتے؟

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 32)➊ {وَ مَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَاۤ …:} دنیوی زندگی کے بہت جلد ختم ہونے کے اعتبار سے اس کو لہو و لعب فرمایا ہے۔ (رازی) یعنی آخرت کی حقیقی اور ہمیشہ رہنے والی زندگی کے مقابلے میں دنیا کی زندگی اور اس کی لذتیں ایسی ہی ہیں جیسے بچوں کا کھیل تماشا جو تھوڑی دیر میں ختم ہو جاتا ہے۔ دیکھیے سورۂ حدید (۲۰) انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے راستے میں ایک شام نکلنا یا ایک صبح نکلنا دنیا وما فیہا سے بہتر ہے اور جنت میں تمھارے کسی شخص کی ایک کمان کی مقدار کے برابر یا اس کے کوڑے کے برابر جگہ دنیا وما فیہا سے بہتر ہے، اور اگر اہل جنت میں سے کوئی عورت زمین والوں کی طرف جھانک لے تو آسمان و زمین کے درمیان کی جگہ کو روشن کر دے اور اسے خوشبو سے بھر دے اور اس کے سر کا دوپٹا دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔“ [ بخاری، الجہاد والسیر، باب الحورالعین و صفتھن: ۲۷۹۶ ] ➋ {وَ لَلدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَيْرٌ …:} یعنی آخرت کا گھر دنیا سے کہیں بہتر ہے، مگر ان کے لیے جو کفر و شرک، نفاق اور کبائر سے بچتے ہیں، ورنہ کافر کے لیے تو دنیا کی زندگی ہی بہتر ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَ جَنَّةُ الْكَافِرِ ] [ مسلم، الزھد، باب الدنیا سجن…:۲۹۵۶ ] ”دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے اور کافر کے لیے جنت۔“
← پچھلی آیت (31) پوری سورۃ اگلی آیت (33) →