بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الانعام — Surah Anam
آیت نمبر 26
کل آیات: 165
قرآن کریم الانعام آیت 26
آیت نمبر: 26 — سورۃ الانعام islamicurdubooks.com ↗
وَ ہُمۡ یَنۡہَوۡنَ عَنۡہُ وَ یَنۡـَٔوۡنَ عَنۡہُ ۚ وَ اِنۡ یُّہۡلِکُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَہُمۡ وَ مَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۲۶﴾
وہ اس امر حق کو قبول کرنے سے لوگوں کو روکتے ہیں اور خود بھی اس سے دور بھاگتے ہیں (وہ سمجھتے ہیں کہ اس حرکت سے وہ تمہارا کچھ بگاڑ رہے ہیں) حالانکہ دراصل وہ خو د اپنی ہی تباہی کا سامان کر رہے ہیں مگر انہیں اس کا شعور نہیں ہے
اور یہ لوگ اس سے دوسروں کو بھی روکتے ہیں اور خود بھی اس سے دور دور رہتے ہیں اور یہ لوگ اپنے ہی کو تباه کر رہے ہیں اور کچھ خبر نہیں رکھتے
اور وہ اس سے روکتے اور اس سے دور بھاگتے ہیں اور بلاک نہیں کرتے مگر اپنی جانیں اور انہیں شعور نہیں،
یہ ایسے (ناہنجار) ہیں کہ دوسروں کو بھی اس (پیغمبرِ اسلام یا قرآن) سے روکتے ہیں۔ اور خود بھی اس سے دور بھاگتے ہیں اور وہ (اپنی اس روش سے کسی اور کو نہیں) اپنے آپ کو تباہ کر رہے ہیں مگر انہیں اس کا شعور نہیں ہے۔
اور وہ اس سے روکتے ہیں اور اس سے دور رہتے ہیں اور وہ اپنے سوا کسی کو ہلاک نہیں کر رہے اور نہیں سمجھتے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

قیامت کے دن مشرکوں کا حشر ٭٭

قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کا حشر اپنے سامنے کرے گا پھر جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کی پرستش کرتے تھے انہیں لا جواب شرمندہ اور بے دلیل کرنے کے لیے ان سے فرمائے گا کہ ’ جن جن کو تم میرا شریک ٹھہراتے رہے آج وہ کہاں ہیں؟ ‘ سورۃ قصص کی آیت «وَيَوْمَ يُنَادِيْهِمْ فَيَقُوْلُ اَيْنَ شُرَكَاءِيَ الَّذِيْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ» ۱؎ [28-القصص:62] ‏‏‏‏ میں بھی یہ موجود ہے۔ اس کے بعد کی آیت میں جو لفظ «فِتْنَتُهُمْ» ہے اس کا مطلب فتنہ سے مراد حجت و دلیل، عذرو معذرت، ابتلا اور جواب ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کسی نے مشرکین کے اس انکار شرک کی بابت سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ”ایک وقت یہ ہوگا کہ اللہ سے کوئی بات چھپائیں گے نہیں۔‏‏‏‏“ پس ان دونوں آیتوں میں کوئی تعارض و اختلاف نہیں جب مشرکین دیکھیں گے کہ موحد نمازی جنت میں جانے لگے تو کہیں گے آؤ ہم بھی اپنے مشرک ہونے کا انکار کر دیں، اس انکار کے بعد ان کی زبانیں بند کر دی جائیں گی اور ان کے ہاتھ پاؤں گواہیاں دینے لگیں گے تو اب کوئی بات اللہ سے نہ چھپائیں گے۔ یہ توجہیہ بیان فرما کر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اب تو تیرے دل میں کوئی شک نہیں رہا؟ سنو بات یہ ہے کہ قرآن میں ایسی چیزوں کا دوسری جگہ بیان و توجیہ موجود ہے لیکن بے علمی کی وجہ سے لوگوں کی نگاہیں وہاں تک نہیں پہنچتیں۔‏‏‏‏“ یہ بھی مروی ہے کہ یہ آیت منافقوں کے بارے میں ہے۔ لیکن یہ کچھ ٹھیک نہیں۔ اس لیے کہ آیت مکی ہے اور منافقوں کا وجود مکہ شریف میں تھا ہی نہیں۔ ہاں منافقوں کے بارے میں آیت «يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِيْعًا فَيَحْلِفُوْنَ لَهٗ كَمَا يَحْلِفُوْنَ لَكُمْ وَيَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ عَلٰي شَيْءٍ اَلَآ اِنَّهُمْ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ» ۱؎ [58-المجادلة:18] ‏‏‏‏ ہے۔ دیکھ لو کہ کس طرح انہوں نے خود اپنے اوپر جھوٹ بولا؟ اور جن جھوٹے معبودوں کا افترا انہوں نے کر رکھا تھا کیسے ان سے خالی ہاتھ ہوگئے؟ چنانچہ دوسری جگہ ہے کہ «ثُمَّ قِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تُشْرِكُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ قَالُوا ضَلُّوا عَنَّا» ۱؎ [40-غافر:73،74] ‏‏‏‏ ’ جب ان سے یہ سوال ہوگا خود یہ کہیں گے «ضَلُّوا عَنَّا» وہ سب آج ہم سے دور ہوگئے ‘۔

پھر فرماتا ہے ’ بعض ان میں وہ بھی ہیں جو قرآن سننے کو تیرے پاس آتے ہیں لیکن اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے۔ ان کے دلوں پر پردے ہیں وہ سمجھتے ہی نہیں ان کے کان انہیں یہ مبارک آوازیں اس طرح سناتے ہی نہیں کہ یہ اس سے فائدہ اٹھا سکیں اور احکام قرآنی کو قبول کریں ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «وَلَوْ أَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوا وَّهُم مُّعْرِضُونَ» ۱؎ [8-الأنفال:23] ‏‏‏‏ ان کی مثال ان چوپائے جانوروں سے دی گئی جو اپنے چروا ہے کی آواز تو سنتے ہیں لیکن مطلب خاک نہیں سمجھتے، یہ وہ لوگ ہیں جو بکثرت دلائل و براہن اور معجزات اور نشانیاں دیکھتے ہوئے بھی ایمان قبول نہیں کرتے، ان ازلی بد قسمتوں کے نصیب میں ایمان ہے ہی نہیں، یہ بے انصاف ہونے کے ساتھ ہی بے سمجھ بھی ہیں۔ اگر اب ان میں بھلائی دیکھتا تو ضرور انہیں سننے کی توفیق کے ساتھ ہی توفیق عمل و قبول بھی مرحمت فرماتا، ہاں انہیں اگر سوجھتی ہے تو یہ کہ اپنے باطل کے ساتھ تیرے حق کو دبا دیں تجھ سے جھگڑتے ہیں اور صاف کہہ جاتے ہیں کہ یہ تو اگلوں کے فسانے ہیں جو پہلی کتابوں سے نقل کر لیے گئے ہیں۔

اس کے بعد کی آیت کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ ’ یہ کفار خود بھی ایمان نہیں لاتے ہیں اور دوسروں کو بھی ایمان لانے سے روکتے ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو برحق جانتے ہیں اور خود حق کو قبول نہیں کرتے ‘۔ جیسے کہ ابوطالب کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا ہی حمایتی تھا لیکن ایمان نصیب نہیں ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دس چچا تھے جو اعلانیہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی تھے لیکن خفیہ مخالف تھے۔ لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل وغیرہ سے روکتے تھے لیکن خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین سے دور ہوتے جاتے تھے۔ افسوس اس اپنے فعل سے خود اپنے ہی تئیں غارت کرتے تھے لیکن جانتے ہی نہ تھے کہ اس کرتوت کا وبال ہمیں ہی پڑ رہا ہے۔

📖 احسن البیان

26۔ 1 یعنی عام لوگوں کو آپ سے اور قرآن سے روکتے ہیں تاکہ وہ ایمان نہ لائیں اور خود بھی دور دور رہتے ہیں۔ 26۔ 2 لیکن لوگوں کو روکنا اور خود بھی دور رہنا، اس سے ہمارا یا ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا بگڑے گا؟ اس طرح کے کام کر کے وہ خود ہی بےشعوری میں اپنی ہلاکت کا سامان کر رہے ہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 26)➊ {وَ هُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَ يَنْـَٔوْنَ عَنْهُ:} یعنی صرف قرآن پر طعن کرنے ہی پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ قرآن سننے سے اور لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانے سے بھی روکتے ہیں اور خود بھی دور رہتے ہیں۔ آج کل مسلمانوں میں سے بہت سے شرک و بدعت میں مبتلا مولوی بھی اہل توحید کی تقریریں سننے سے لوگوں کو منع کرتے ہیں اور خود بھی نہیں سنتے، بلکہ قرآن مجید کا ترجمہ پڑھنے سے لوگوں کو روکتے ہیں کہ کہیں حق واضح ہو جانے کے بعد اسے قبول کر کے ہمارے چنگل سے نہ نکل جائیں۔ ➋ {وَ اِنْ يُّهْلِكُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ:} یعنی ایسا کرنے سے وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے، بلکہ اپنی ہی ہلاکت کا سامان کر رہے ہیں اور یہ سمجھتے ہی نہیں کہ ایسا کرنے سے ہم اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں۔
← پچھلی آیت (25) پوری سورۃ اگلی آیت (27) →