بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الانعام — Surah Anam
آیت نمبر 19
کل آیات: 165
قرآن کریم الانعام آیت 19
آیت نمبر: 19 — سورۃ الانعام islamicurdubooks.com ↗
قُلۡ اَیُّ شَیۡءٍ اَکۡبَرُ شَہَادَۃً ؕ قُلِ اللّٰہُ ۟ۙ شَہِیۡدٌۢ بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنَکُمۡ ۟ وَ اُوۡحِیَ اِلَیَّ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنُ لِاُنۡذِرَکُمۡ بِہٖ وَ مَنۡۢ بَلَغَ ؕ اَئِنَّکُمۡ لَتَشۡہَدُوۡنَ اَنَّ مَعَ اللّٰہِ اٰلِہَۃً اُخۡرٰی ؕ قُلۡ لَّاۤ اَشۡہَدُ ۚ قُلۡ اِنَّمَا ہُوَ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ وَّ اِنَّنِیۡ بَرِیۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِکُوۡنَ ﴿ۘ۱۹﴾
ان سے پوچھو، کس کی گواہی سب سے بڑھ کر ہے؟کہو، میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے، اور یہ قرآن میری طرف بذریعہ وحی بھیجا گیا ہے تاکہ تمہیں اور جس جس کو یہ پہنچے، سب کو متنبہ کر دوں کیا واقعی تم لوگ یہ شہادت دے سکتے ہو کہ اللہ کے ساتھ دوسرے خدا بھی ہیں؟ کہو، میں تو اس کی شہادت ہرگز نہیں دے سکتا کہو، خدا تو وہی ایک ہے اور میں اس شرک سے قطعی بیزار ہوں جس میں تم مبتلا ہو
آپ کہئے کہ سب سے بڑی چیز گواہی دینے کے لئے کون ہے، آپ کہئے کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواه ہے اور میرے پاس یہ قرآن بطور وحی کے بھیجا گیا ہے تاکہ میں اس قرآن کے ذریعے سے تم کو اور جس جس کو یہ قرآن پہنچے ان سب کو ڈراؤں کیا تم سچ مچ یہی گواہی دو گے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کچھ اور معبود بھی ہیں، آپ کہہ دیجئے کہ میں تو گواہی نہیں دیتا۔ آپ فرما دیجئے کہ بس وه تو ایک ہی معبود ہے اور بےشک میں تمہارے شرک سے بیزار ہوں
تم فرماؤ سب سے بڑی گواہی کس کی تم فرماؤ کہ اللہ گواہ ہے مجھ میں اور تم میں اور میر ی طر ف اس قر آ ن کی وحی ہوئی ہے کہ میں اس سے تمھیں ڈراؤ ں اورجن جن کو پہنچے تو کیا تم یہ گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے ساتھ اور خدا ہیں، تم فرماؤ کہ میں یہ گواہی نہیں دیتا تم فرماؤ کہ وہ تو ایک ہی معبود ہے اور میں بیزار ہوں ان سے جن کو تم شریک ٹھہراتے ہو
(اے رسول(ص)) کہو کہ گواہی میں سب سے بڑھ کر کون سی چیز ہے؟ کہہ دیجیے کہ اللہ! جو میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے۔ اور یہ قرآن بذریعہ وحی میری طرف بھیجا گیا ہے تاکہ میں اس کے ذریعہ سے تمہیں اور جس تک یہ پہنچے سب کو ڈراؤں۔ کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی ہیں؟ کہیے کہ میں تو یہ گواہی نہیں دیتا۔ کہو وہ واحد و یکتا ہے۔ اور میں تمہارے شرک سے بری و بیزار ہوں۔
کہہ کون سی چیز گواہی میں سب سے بڑی ہے؟ کہہ اللہ میرے درمیان اور تمھارے درمیان گواہ ہے اور میری طرف یہ قرآن وحی کیا گیا ہے، تاکہ میں تمھیں اس کے ساتھ ڈرائوں اور اسے بھی جس تک یہ پہنچے، کیا بے شک تم واقعی گواہی دیتے ہو کہ بے شک اللہ کے ساتھ کچھ اور معبود بھی ہیں؟ کہہ دے میں (یہ) گواہی نہیں دیتا، کہہ دے وہ تو صرف ایک ہی معبود ہے اور بے شک میں اس سے بری ہوں جو تم شریک ٹھہراتے ہو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

قرآن کریم کا باغی جہنم کا ایندھن ٭٭

اللہ تعالیٰ خبر دے رہا ہے کہ ’ نفع و نقصان کا مالک وہی ہے اپنی مخلوق میں جیسی وہ چاہے تبدیلیاں کرتا ہے اس کے احکام کو کوئی ٹال نہیں سکتا اس کے فیصلوں کو کوئی رد نہیں کر سکتا ‘۔ اسی آیت جیسی آیت «مَا يَفْتَحِ اللّٰهُ للنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا وَمَا يُمْسِكْ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْ بَعْدِهٖ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» ۱؎ [35۔فاطر:2] ‏‏‏‏ ہے یعنی ’ اللہ مقتدر اعلی جسے جو رحمت دینا چاہے اسے کوئی روک نہیں سکتا، اور جس سے وہ روک لے اسے کوئی دے نہیں سکتا ‘۔ اس آیت میں خاص اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے بھی یہی فرمایا۔ صحیح حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے «اللهم لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ولا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ولا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ» { اے اللہ جسے تو دے اس سے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے تو روک لے اسے کوئی دے نہیں سکتا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:844] ‏‏‏‏ اس کے بعد فرماتا ہے ’ وہ اپنے بندوں پر قاہر و غالب ہے، سب کی گردنین اس کے سامنے پست ہیں، سب بڑے اس کے سامنے چھوٹے ہیں، ہر چیز اس کے قبضے اور قدرت میں ہے تمام مخلوق اس کی تابعدار ہے اس کے جلال اس کی کبریائی اس کی عظمت اس کی بلندی اس کی قدرت تمام چیزوں پر غالب ہے ہر ایک کا مالک وہی ہے، حکم اسی کا چلتا ہے، حقیقی شہنشاہ اور کامل قدرت والا وہی ہے، اپنے تمام کاموں میں وہ باحکمت ہے، وہ ہر چھوٹی بڑی چھپی کھلی چیز سے با خبر ہے، وہ جسے جو دے وہ بھی حکمت سے اور جس سے جو روک لے وہ بھی حکمت ہے ‘۔

پھر فرماتا ہے ’ پوچھو تو سب سے بڑا اور زبردست اور بالکل سچا گواہ کون ہے؟ جواب دے کہ مجھ میں تم میں اللہ ہی گواہ ہے، جو میں تمہارے پاس لایا ہوں اور جو تم مجھ سے کر رہے ہو اسے وہ خوب دیکھ بھال رہا ہے اور بخوبی جانتا ہے، میری جانب اس قرآن کی وحی کی گئی ہے تاکہ میں تم سب حاضرین کو بھی اس سے آگاہ کر دوں اور جسے بھی یہ پہنچی اس تک میرا پیغام پہنچ جائے ‘۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَمَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ فَلَا تَكُ فِيْ مِرْيَةٍ مِّنْهُ» ۱؎ [11۔ھود:17] ‏‏‏‏ یعنی ’ دنیا کے تمام لوگوں میں سے جو بھی اس قرآن سے انکار کرے اس کا ٹھکانا جہم ہی ہے ‘۔ محمد بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جسے قرآن پہنچ گیا اس نے گویا خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا بلکہ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کر لیں اور اس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کا دین پیش کر دیا۔‏‏‏‏“ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے ”اللہ کا پیغام اس کے بندوں کو پہنچاؤ جسے ایک آیت قرآنی پہنچ گئی اسے اللہ کا امر پہنچ گیا۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:13122:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ ربیع بن انس رحمہ اللہ کا قول ہے ”اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام تابعی لوگوں پر حق ہے کہ وہ مثل دعوت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لوگوں کو دعوت خیر دیں اور جن چیزوں اور کاموں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈرا دیا ہے یہ بھی اس سے ڈراتے رہیں۔‏‏‏‏“ ’ مشرکو تم چاہے اللہ کے ساتھ اور معبود بھی بتاؤ لیکن میں تو ہرگز ایسا نہیں کروں گا ‘ جیسے اور آیت میں ہے «فَاِنْ شَهِدُوْا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ وَلَا تَتَّبِعْ اَهْوَاءَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَالَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ وَهُمْ بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُوْنَ» ۱؎ [6۔الأنعام:150] ‏‏‏‏ ’ یہ گو شہادت دیں لیکن تو ان کا ہمنوا نہ بن ‘۔ یہاں فرمایا ’ تم صاف کہہ دو کہ اللہ تو ایک ہی ہے اور تمہارے تمام معبودان باطل سے میں الگ تھلگ ہوں۔ میں ان سب سے بیزار ہوں کسی کا بھی روادار نہیں ‘۔

پھر فرماتا ہے ’ یہ اہل کتاب اس قرآن کو اور اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خوب جانتے ہیں جس طرح انسان اپنی اولاد سے واقف ہوتا ہے اسی طرح یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین سے واقف اور با خبر ہیں کیونکہ خود ان کی کتابوں میں یہ سب خبریں موجود ہیں ‘۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی خبریں ان کی آسمانی کتابوں میں لکھی ہوئی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وطن، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی صفت، ان تمام چیزوں سے یہ لوگ آگاہ ہیں اور ایسے صاف طور پر کہ جس میں کسی قسم کا شک شبہ نہیں، پھر ایسے ظاہر باہر صاف شفاف کھلم کھلا امر سے بے ایمانی کرنا انہی کا حصہ ہے جو خود اپنا برا چاہنے والے ہوں اور اپنی جانوں کو ہلاک کرنے والے ہوں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پہلے ہی نشان ظاہر ہو چکے جو نبی علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارتیں دیتا ہوا آیا، پھر انکار کرنا سورج چاند کے وجود سے انکار کرنا ہے، اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو اللہ پر جھوٹ باندھ لے؟ اور فی الواقع اس سے بھی زیادہ ظالم کوئی نہیں جو سچ کو جھوٹ کہے اور اپنے رب کی باتوں اور اس کی اٹل حجتوں اور روشن دلیلوں سے انکار کرے، ایسے لوگ فلاح سے، کامیابی سے، اپنا مقصد پانے سے اور نجات و آرام سے محروم محض ہیں۔

📖 احسن البیان

19۔ 1 یعنی اللہ ہی اپنی واحدنیت اور ربوبیت کا سب سے بڑا گواہ ہے اس سے بڑھ کر کوئی گواہ نہیں۔ 19۔ 2 ربیع بن انس کہتے ہیں اب جس کے پاس بھی قرآن پہنچ جائے اگر وہ سچا مطیع رسول ہے تو اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھی لوگوں کو اللہ کی طرف اسی طرح بلائے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو دعوت دی اور اسطرح ڈرائے جس طرح آپ نے لوگوں کو ڈرایا (ابن کثیر)

📖 القرآن الکریم

(آیت 19)➊ {قُلْ اَيُّ شَيْءٍ اَكْبَرُ شَهَادَةً …:} کفار مکہ کے بعد جب یہود و نصاریٰ کی اکثریت نے بھی آپ کو جھٹلا دیا تو کفار کہنے لگے، بتاؤ اب تمھاری رسالت کی گواہی کون دیتا ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ ان کافروں سے کہیے کہ اللہ کی ہستی سے بڑی ہستی کون سی ہے؟ جب کوئی نہیں تو بتاؤ سب سے بڑا شہادت دینے والا کون ہو گا؟ آپ خود ہی ان کے سامنے واضح فرما دیجیے کہ وہ تو اللہ ہی ہے اور اللہ تعالیٰ کی گواہی یہ ہے کہ اس نے مجھ پر قرآن اتارا، جو قیامت تک کے لیے زندہ معجزہ ہے کہ کوئی بھی اس کی کسی ایک سورت جیسی کوئی سورت نہیں لا سکا اور نہ لا سکے گا۔ یہ قرآن معجزہ ہونے کے اعتبار سے میرے سچے نبی ہونے کی صریح دلیل ہے، اسی کے پیش نظر فرمایا: «وَ اُوْحِيَ اِلَيَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ» ‏‏‏‏ ”اور میری طرف یہ قرآن وحی کیا گیا ہے۔“ (رازی) شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ یہاں گواہی فرمایا قسم کو، یعنی میں قسم کھاتا ہوں اللہ کی، اس سے زیادہ کیا قسم ہو گی۔ (موضح) اس آیت میں اللہ کے لیے {” شَيْءٍ “} ہونے کو ثابت کیا جا رہا ہے کہ وہ ایک موجود، زندۂ جاوید ہستی ہے، محض ایک خیالی و تصوراتی ہستی نہیں ہے۔ ➋ {لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَ مَنْ بَلَغَ:} یعنی میری طرف یہ قرآن اس لیے وحی کیا گیا ہے تاکہ میں تمھیں اس سے ڈراؤں اور اسے بھی جس تک یہ پہنچے۔ اس سے مراد قیامت تک آنے والے تمام عرب و عجم اور جن و انس ہیں اور مقصد یہ ہے کہ میری رسالت عالم گیر اور قیامت تک کے لیے ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے مطابق روم، ایران، حبشہ اور کئی ممالک کو دین اسلام کی دعوت دی اور اپنی امت کے ہر فرد کو حکم دیا: [ بَلِّغُوْا عَنِّيْ وَلَوْ آيَةً] ”میری طرف سے پہنچا دو خواہ ایک آیت (مسئلہ) ہو۔“ [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب ما ذکر عن بنی إسرائیل: ۳۴۶۱، عن عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما ] اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری بات سننے والوں میں سے ہر شخص اسے پہنچا دے جو یہاں موجود نہیں۔“ [ بخاری، الحج، باب الخطبۃ أیام منًی: ۱۷۴۱ ] اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ہر اس بندے (کے چہرے) کو تروتازہ رکھے جو میری بات یاد رکھے اور آگے پہنچا دے۔“ [ ترمذی، العلم، باب ما جاء فی الحث علی تبلیغ السماع: ۲۶۵۶ تا ۲۶۵۸ ] ان احادیث اور آیات سے معلوم ہوا کہ قرآن و حدیث کے احکام تمام لوگوں کے لیے اور قیامت تک کے لیے ہیں، ان میں تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ ہر زمانے کے لوگوں پر لازم ہے کہ وہ اسے اگلے زمانے کے لوگوں تک پہنچائیں۔ قرآن کے احکام کو صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے تک محدود رکھنا اور حالات کی تبدیلی کے بہانے قرآن و حدیث کے احکام میں تبدیلی کرنا قرآن کے احکام سے جان چھڑانے کی کوشش ہے اور صریح تحریف ہے، جس کی وجہ سے یہودی ملعون ٹھہرے۔ ➌ {اَىِٕنَّكُمْ لَتَشْهَدُوْنَ …:} یعنی قرآن میں مذکور توحید کے واضح اور قطعی دلائل کے باوجود کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہیں۔ آپ کہہ دیجیے تم جو چاہو کہو، میں یہ شہادت کبھی نہیں دے سکتا۔ کہہ دیجیے کہ معبود تو صرف ایک اللہ ہے، میں کسی اور کو معبود نہیں مانتا اور صاف کہتا ہوں کہ میں ان تمام ہستیوں سے جنھیں تم شریک ٹھہراتے ہو، بری ہوں ”مَا“ مصدریہ ہو تو معنی ہو گا، میں تمھارے شرک سے جو تم کرتے ہو، بری ہوں۔
← پچھلی آیت (18) پوری سورۃ اگلی آیت (20) →