بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الانعام — Surah Anam
آیت نمبر 164
کل آیات: 165
قرآن کریم الانعام آیت 164
آیت نمبر: 164 — سورۃ الانعام islamicurdubooks.com ↗
قُلۡ اَغَیۡرَ اللّٰہِ اَبۡغِیۡ رَبًّا وَّ ہُوَ رَبُّ کُلِّ شَیۡءٍ ؕ وَ لَا تَکۡسِبُ کُلُّ نَفۡسٍ اِلَّا عَلَیۡہَا ۚ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰی ۚ ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمۡ مَّرۡجِعُکُمۡ فَیُنَبِّئُکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ فِیۡہِ تَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۱۶۴﴾
کہو، کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور رب تلاش کروں حالاں کہ وہی ہر چیز کا رب ہے؟ ہر شخص جو کچھ کماتا ہے اس کا ذمہ دار وہ خود ہے، کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھاتا، پھر تم سب کو اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے، اُس وقت وہ تمہارے اختلافات کی حقیقت تم پر کھول دے گا
آپ فرما دیجئے کہ کیا میں اللہ کے سوا کسی اور کو رب بنانے کے لئے تلاش کروں حاﻻنکہ وه مالک ہے ہر چیز کا اور جو شخص بھی کوئی عمل کرتا ہے وه اسی پر رہتا ہے اور کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔ پھر تم سب کو اپنے رب کے پاس جانا ہوگا۔ پھر وه تم کو جتلائے گا جس جس چیز میں تم اختلاف کرتے تھے
تم فرماؤ کیا اللہ کے سوا اور رب چاہوں حالانکہ وہ ہر چیز کا رب ہے اور جو کوئی کچھ کمائے وہ اسی کے ذمہ ہے، اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی پھر تمہیں اپنے رب کی طرف پھرنا ہے وہ تمہیں بتادے گا جس میں اختلاف کرتے تھے،
(اے رسول(ص)) کہہ دیجیے! کیا میں اللہ کے علاوہ کوئی اور رب تلاش کروں؟ حالانکہ وہ ہر چیز کا پروردگار ہے اور ہر نفس جو کچھ کماتا ہے اس کا وبال اسی پر ہے۔ اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا پھر تم سب کی بازگشت تمہارے پروردگار کی طرف ہے سو وہی تمہیں بتائے گا جس جس چیز میں تم اختلاف کرتے تھے۔
کہہ دے کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور رب تلاش کروں، حالانکہ وہ ہر چیز کا رب ہے۔ اور کوئی جان کمائی نہیں کرتی مگر اپنے آپ پر اور نہ کوئی بوجھ اٹھانے والی کسی دوسری کا بوجھ اٹھائے گی، پھر تمھارے رب ہی کی طرف تمھارا لوٹ کر جانا ہے، تو وہ تمھیں بتائے گا جس میں تم اختلاف کیا کرتے تھے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

جھوٹے معبود غلط سہارے ٭٭

کافروں کو نہ تو خلوص عبادت نصیب ہے نہ سچا توکل رب میسر ہے ان سے کہہ دے کہ ’ کیا میں بھی تمہاری طرح اپنے اور سب کے سچے معبود کو چھوڑ کر جھوٹے معبود بنا لوں؟ ‘ میری پرورش کرنے والا حفاظت کرنے والا مجھے بچانے والا میرے کام بنانے والا میری بگڑی کو سنوارنے والا تو اللہ ہی ہے پھر میں دوسرے کا سہارا کیوں لوں؟ مالک خالق کو چھوڑ کر بے بس اور محتاج کے پاس کیوں جاؤں؟ گویا اس آیت میں توکل علی اللہ اور عبادت رب کا حکم ہوتا ہے -یہ دونوں چیزیں عموماً ایک ساتھ بیان ہوا کرتی ہیں جیسے آیت «إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ» [1-الفاتحة:5] ‏‏‏‏ میں اور «فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ» [10-هود:123] ‏‏‏‏ میں اور «قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ» [67-الملك:29] ‏‏‏‏ میں اور «رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيْلًا» [73-المزمل:9] ‏‏‏‏ میں اور دوسری آیتوں میں بھی۔

پھر قیامت کے دن کی خبر دیتا ہے کہ ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ عدل و انصاف سے ملے گا -نیکوں کو نیک بدوں کو بد۔ «وَإِن تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَىٰ حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ» [35-فاطر:18] ‏‏‏‏ ’ ایک کے گناہ دوسرے پر نہیں جائیں گے۔ کوئی قرابت دار دوسرے کے عوض پکڑا نہ جائے گا ‘، «فَلَا يَخَافُ ظُلْمًا وَلَا هَضْمًا» ۱؎ [20-طه:112] ‏‏‏‏ ’ اس دن ظلم بالکل ہی نہ ہو گا ‘۔ نہ کسی کے گناہ بڑھائے جائیں گے نہ کسی کی نیکی گھٹائی جائے گی، اپنی اپنی کرنی اپنی اپنی بھرنی۔ «كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ إِلَّا أَصْحَابَ الْيَمِينِ» ۱؎ [74-المدثر:38، 39] ‏‏‏‏ ’ ہاں جن کے دائیں ہاتھ میں اعمال نامے ملے ہیں ان کے نیک اعمال کی برکت ان کی اولاد کو بھی پہنچے گی ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّــتُهُمْ بِاِيْمَانٍ اَلْحَـقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَآ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ كُلُّ امْرِی بِمَا كَسَبَ رَهِيْنٌ» ۱؎ [52-الطور:21] ‏‏‏‏ یعنی ’ جو ایمان لائے اور ان کی اولاد نے بھی ان کے ایمان میں ان کی تابعداری کی ہم ان کی اولاد کو بھی ان کے بلند درجوں میں پہنچا دیں گے ‘۔ گو ان کے اعمال اس درجے کے نہ ہوں لیکن چونکہ ان کی ایمان میں شرکت ہے اس لیے درجات میں بھی بڑھا دیں گے اور یہ درجے ماں باپ کے درجے گھٹا کر نہ بڑھا دیں گے اور یہ درجے ماں باپ کے درجے گھٹا کر نہ بڑھیں گے بلکہ یہ اللہ کا فضل و کرم ہوگا۔ ہاں برے لوگ اپنے بد اعمال کے جھگڑے میں گھرے ہوں گے تم بھی عمل کئے جا رہے ہو ہم بھی کئے جا رہے ہیں اللہ کے ہاں سب کو جانا ہے وہاں اعمال کا حساب ہونا ہے پھر معلوم ہو جائے گا کہ اس اختلاف میں حق اور رضائے رب، مرضی مولیٰ کس کے ساتھ تھی؟ «قُل لَّا تُسْأَلُونَ عَمَّا أَجْرَمْنَا وَلَا نُسْأَلُ عَمَّا تَعْمَلُونَ قُلْ يَجْمَعُ بَيْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفْتَحُ بَيْنَنَا بِالْحَقِّ وَهُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِيمُ» ۱؎ [34-سبأ:25-26] ‏‏‏‏ ’ ہمارے اعمال سے تم اور تمہارے اعمال سے ہم اللہ کے ہاں پوچھے نہ جائیں گے۔ قیامت کے دن اللہ کے ہاں سچے فیصلے ہوں گے اور وہ باعلم اللہ ہمارے درمیان سچے فیصلے فرما دے گا ‘۔

📖 احسن البیان

164۔ 1 یہاں رب سے مراد وہی اللہ ماننا ہے جس کا انکار مشرکین کرتے رہے ہیں اور جو اس کی ربوبیت کا تقاضا ہے۔ لیکن مشرکین اس کی ربوبیت کو تو مانتے تھے۔ اور اس میں کسی کو شریک نہیں گردانتے تھے لیکن اس کی الوہیت میں شریک ٹھہراتے تھے۔ 164۔ 2 یعنی اللہ تعالیٰ عدل و انصاف کا پورا اہتمام فرمائے گا اور جس نے اچھا، یا برا، جو کچھ کیا ہوگا اس کے مطابق جزا اور سزا دے گا، نیکی پر اچھی جزا اور بدی پر سزا دے گا اور ایک کا بوجھ دوسرے پر نہیں ڈالے گا۔ 164۔ 3 اس لئے اگر تم اس دعوت توحید کو نہیں مانتے جو تمام انبیاء کی مشترکہ دعوت رہی ہے تو تم اپنا کام کئے جاؤ، ہم اپنا کئے جاتے ہیں۔ قیامت والے دن اللہ کی بارگاہ میں ہی ہمارا تمہارا فیصلہ ہوگا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 164) ➊ {قُلْ اَغَيْرَ اللّٰهِ اَبْغِيْ رَبًّا ……:} مکہ کے مشرک اﷲ تعالیٰ کو رب مانتے تھے، مگر معبود کئی بنا رکھے تھے جن سے وہ نفع و نقصان کی امید رکھتے اور انھی کی پوجا کرتے اور پکارتے تھے، اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنے رب ہونے کو اپنی الوہیت، یعنی معبود ہونے کی دلیل کے طور پر بار بار پیش کیا ہے۔ دیکھیے سورۂ یونس(۳۱)، سورۂ سبا (۲۲) اور سورۂ فاطر (۱۳)۔ یہاں بھی مراد یہی ہے کہ عبادت تو صرف اسی کی ہو سکتی ہے جو رب ہو، اس لیے تمھارا غیر اﷲ کو پکارنا، ان کی عبادت کرنا انھیں رب بنانا ہی ہے، اب اﷲ کے سوا میں کسی اور کی عبادت کر کے اسے رب کیسے بناؤں، جب کہ ہر شے کا رب وہی ہے۔ ➋ {وَ لَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ اِلَّا عَلَيْهَا......:} کفار رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں سے کہتے کہ تم آبائی دین میں ہماری پیروی اختیار کرو اور گناہ کی فکر مت کرو، اگر یہ گناہ ہوا تو ہم اٹھا لیں گے۔ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ ان کے گناہوں میں سے کچھ بھی نہیں اٹھائیں گے، بلکہ وہ صاف جھوٹے ہیں۔ دیکھیے سورۂ العنکبوت (۱۲، ۱۳) یہاں بھی ان کے اس فریب اور چکمے کا جواب دیا ہے، فرمایا، کوئی جان بھی کوئی گناہ کماتی ہے تو وہ اسی پر ہوتا ہے، کوئی دوسری جان کسی صورت اسے نہیں اٹھائے گی۔یہ تو اﷲ تعالیٰ کے عدل ہی کے خلاف ہے، جس کے سامنے تم نے لوٹ کر جانا ہے، پھر وہ تمھارے اختلاف کا اور حق و ناحق ہونے کا فیصلہ تمھیں سنائے گا۔ اﷲ تعالیٰ نے اپنے اس فیصلے کا کئی جگہ ذکر فرمایا ہے۔ دیکھیے سورۂ انعام (۳۱) سورۂ فاطر(۱۸) اور سورۂ نجم (۳۸، ۳۹)۔
← پچھلی آیت (163) پوری سورۃ اگلی آیت (165) →