بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الانعام — Surah Anam
آیت نمبر 156
کل آیات: 165
قرآن کریم الانعام آیت 156
آیت نمبر: 156 — سورۃ الانعام islamicurdubooks.com ↗
اَنۡ تَقُوۡلُوۡۤا اِنَّمَاۤ اُنۡزِلَ الۡکِتٰبُ عَلٰی طَآئِفَتَیۡنِ مِنۡ قَبۡلِنَا ۪ وَ اِنۡ کُنَّا عَنۡ دِرَاسَتِہِمۡ لَغٰفِلِیۡنَ ﴿۱۵۶﴾ۙ
اب تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کتاب تو ہم سے پہلے کے دو گروہوں کو دی گئی تھی، اور ہم کو کچھ خبر نہ تھی کہ وہ کیا پڑھتے پڑھاتے تھے
کہیں تم لوگ یوں نہ کہو کہ کتاب تو صرف ہم سے پہلے جو دو فرقے تھے ان پر نازل ہوئی تھی، اور ہم ان کے پڑھنے پڑھانے سے محض بے خبر تھے
کبھی کہو کہ کتاب تو ہم سے پہلے دو گروہوں پر اُتری تھی اور ہمیں ان کے پڑھنے پڑھانے کی کچھ خبر نہ تھی
(اور اس لیے بھی نازل کی ہے کہ) تم یہ (نہ) کہو کہ ہم سے پہلے دو گروہوں (یہود و نصاریٰ) پر تو کتاب (تورات و انجیل) نازل کی گئی۔ اور ہم تو (عرب ہونے کی وجہ سے) ان کے پڑھنے پڑھانے سے غافل و بے خبر تھے۔
ایسا نہ ہو کہ تم کہو کہ کتاب تو صرف ان دو گروہوں پر اتاری گئی جو ہم سے پہلے تھے اور بے شک ہم ان کے پڑھنے پڑھانے سے یقینا بے خبر تھے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

لاف زنی عیب ہے دوسروں کو بھی نیکی سے روکنے والے بدترین ہیں ٭٭

فرماتا ہے کہ ’ اس آخری کتاب نے تمہارے تمام عذر ختم کر دیئے ‘۔ جیسے فرمان ہے «وَلَوْلَآ اَنْ تُصِيْبَهُمْ مُّصِيْبَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْهِمْ فَيَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْلَآ اَرْسَلْتَ اِلَيْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْن» ۱؎ [28-القصص:47] ‏‏‏‏، یعنی ’ اگر انہیں ان کی بد اعمالیوں کی وجہ سے کوئی مصیبت پہنچتی تو کہہ دیتے کہ تونے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیرے فرمان کو مانتے ‘۔ اگلی دو جماعتوں سے مراد یہود و نصرانی ہیں۔ ’ اگر یہ عربی زبان کا قرآن نہ اترتا تو وہ یہ عذر کر دیتے کہ ہم پر تو ہماری زبان میں کوئی کتاب نہیں اتری ہم اللہ کے فرمان سے بالکل غافل رہے پھر ہمیں سزا کیوں ہو؟ نہ یہ عذر باقی رہا نہ یہ کہ اگر ہم پر آسان کتاب اترتی تو ہم تو اگلوں سے آگے نکل جاتے اور خوب نیکیاں کرتے ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَأَقْسَمُوا بِاللَّـهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِن جَاءَهُمْ نَذِيرٌ لَّيَكُونُنَّ أَهْدَىٰ مِنْ إِحْدَى الْأُمَمِ فَلَمَّا جَاءَهُمْ نَذِيرٌ مَّا زَادَهُمْ إِلَّا نُفُورًا» ۱؎ [35-فاطر:42] ‏‏‏‏، یعنی ’ مؤکد قسمیں کھا کھا کر لاف زنی کرتے تھے کہ ہم میں اگر کوئی نبی آ جائے تو ہم ہدایت کو مان لیں ‘۔

اللہ فرماتا ہے ’ اب تو تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ہدایت و رحمت بھرا قرآن بزبان رسول عربی آ چکا جس میں حلال حرام کا بخوبی بیان ہے اور دلوں کی ہدایت کی کافی نورانیت اور رب کی طرف سے ایمان والوں کیلئے سراسر رحمت و رحم ہے، اب تم ہی بتاؤ کہ جس کے پاس اللہ کی آیتیں آ جائیں اور وہ انہیں جھٹلائے ان سے فائدہ نہ اٹھائے نہ عمل کرے نہ یقین لائے نہ نیکی کرے نہ بدی چھوڑے نہ خود مانے نہ اوروں کو ماننے دے اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے؟ ‘۔ اسی سورت کے شروع میں فرمایا ہے آیت «وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَيَنْأَوْنَ عَنْهُ وَإِن يُهْلِكُونَ إِلَّا أَنفُسَهُمْ» ۱؎ [6-الانعام:26] ‏‏‏‏ ’ خود اس کے مخالف اوروں کو بھی اسے ماننے سے روکتے ہیں دراصل اپنا ہی بگاڑتے ہیں ‘۔ جیسے فرمایا آیت «الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ زِدْنَاهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ» ۱؎ [16-النحل:88] ‏‏‏‏ یعنی ’ جو لوگ خود کفر کرتے ہیں اور راہ الٰہی سے روکتے ہیں انہیں ہم عذاب بڑھاتے رہیں گے ‘۔ پس یہ لوگ ہیں جو نہ مانتے تھے نہ فرماں بردار ہوتے تھے۔ جیسے فرمان ہے آیت «فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلّٰى وَلَـٰكِن كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ» ۱؎ [75-القيامة:32-31] ‏‏‏‏ یعنی ’ نہ تونے مانا نہ نماز پڑھی بلکہ نہ مان کر منہ پھیر لیا ‘۔ ان دونوں تفسیروں میں پہلی بہت اچھی ہے یعنی خود بھی انکار کیا اور دوسروں کا بھی انکار پر آمادہ کیا۔

📖 احسن البیان

156۔ 1 یعنی یہ قرآن اس لئے اتارا تاکہ تم یہ نہ کہو۔ دو فرقوں سے مراد یہود و انصاریٰ ہیں۔ 156۔ 2 اس لئے کہ وہ ہماری زبان میں نہ تھی۔ چناچہ اس عذر کو قرآن عربی میں اتار کر ختم کردیا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 156) {اَنْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اُنْزِلَ ……:} تاکہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہماری طرف تو کوئی کتاب آئی ہی نہیں، کتاب تو صرف ہم سے پہلے دو گروہوں یہود و نصاریٰ پر اتری اور وہ صرف ان کے لیے تھی اور انھوں نے ہمیں دعوت بھی نہیں دی کہ ہم ان سے پڑھ کر ایمان لے آتے، بلکہ وہ اسے بنی اسرائیل ہی کے لیے قرار دیتے رہے، ہم بھی اسے ان کے ساتھ مخصوص سمجھ کر اور کچھ اپنی غفلت کی وجہ سے اسے پڑھنے سے بے خبر رہے، ورنہ زبان نہ جاننا تو کوئی معقول عذر نہیں کیونکہ جب معلوم ہو جائے کہ اﷲ کا حکم آیا ہے تو آدمی کسی سے سمجھ بھی سکتا ہے۔
← پچھلی آیت (155) پوری سورۃ اگلی آیت (157) →