بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الانعام — Surah Anam
آیت نمبر 152
کل آیات: 165
قرآن کریم الانعام آیت 152
آیت نمبر: 152 — سورۃ الانعام islamicurdubooks.com ↗
وَ لَا تَقۡرَبُوۡا مَالَ الۡیَتِیۡمِ اِلَّا بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ حَتّٰی یَبۡلُغَ اَشُدَّہٗ ۚ وَ اَوۡفُوا الۡکَیۡلَ وَ الۡمِیۡزَانَ بِالۡقِسۡطِ ۚ لَا نُکَلِّفُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَہَا ۚ وَ اِذَا قُلۡتُمۡ فَاعۡدِلُوۡا وَ لَوۡ کَانَ ذَا قُرۡبٰی ۚ وَ بِعَہۡدِ اللّٰہِ اَوۡفُوۡا ؕ ذٰلِکُمۡ وَصّٰکُمۡ بِہٖ لَعَلَّکُمۡ تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۱۵۲﴾ۙ
اور یہ کہ یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر ایسے طریقہ سے جو بہترین ہو، یہاں تک کہ وہ اپنے سن رشد کو پہنچ جائے اور ناپ تول میں پورا انصاف کرو، ہم ہر شخص پر ذمہ داری کا اتنا ہی بار رکھتے ہیں جتنا اس کے امکان میں ہے، اور جب بات کہو انصاف کی کہو خواہ معاملہ اپنے رشتہ دار ہی کا کیوں نہ ہو، اور اللہ کے عہد کو پورا کرو ان باتوں کی ہدایت اللہ نے تمہیں کی ہے شاید کہ تم نصیحت قبول کرو
اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر ایسے طریقے سے جو کہ مستحسن ہے یہاں تک کہ وه اپنے سن رشد کو پہنچ جائے اور ناپ تول پوری پوری کرو، انصاف کے ساتھ، ہم کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیاده تکلیف نہیں دیتے۔ اور جب تم بات کرو تو انصاف کرو، گو وه شخص قرابت دار ہی ہو اور اللہ تعالیٰ سے جو عہد کیا اس کو پورا کرو، ان کا اللہ تعالیٰ نے تم کو تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم یاد رکھو
اور یتیموں کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر بہت اچھے طریقہ سے جب تک وہ اپنی جوانی کو پہنچے اور ناپ اور تول انصاف کے ساتھ پوری کرو، ہم کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتے مگر اس کے مقدور بھر، اور جب بات کہو تو انصاف کی کہو اگرچہ تمہارے رشتہ دار کا معاملہ ہو اور اللہ ہی کا عہد پورا کرو، یہ تمہیں تاکید فرمائی کہ کہیں تم نصیحت مانو،
(۶) اور یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر ایسے طریقہ سے جو بہترین ہو یہاں تک کہ وہ اپنے سنِ رشد و کمال تک پہنچ جائے۔ (۷) اور ناپ تول انصاف کے ساتھ پوری کرو۔ ہم کسی شخص کو اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے۔ (۸) اور جب کوئی بات کہو تو عدل و انصاف کے ساتھ۔ اگرچہ وہ (شخص) تمہارا قرابتدار ہی کیوں نہ ہو۔ (۹) اور اللہ کے عہد و پیمان کو پورا کرو۔ یہ وہ ہے جس کی اس (اللہ) نے تمہیں وصیت کی ہے شاید کہ تم عبرت حاصل کرو۔
اور یتیم کے مال کے قریب نہ جائو، مگر اس طریقے سے جو سب سے اچھا ہو، یہاں تک کہ وہ اپنی پختگی کو پہنچ جائے اور ماپ اور تول انصاف کے ساتھ پورا کرو۔ ہم کسی شخص کو تکلیف نہیں دیتے مگر اس کی طاقت کے مطابق اور جب بات کرو تو انصاف کرو خواہ رشتہ دار ہو اور اللہ کے عہد کو پورا کرو۔ یہ ہے جس کا تاکیدی حکم اس نے تمھیں دیا ہے، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

یتیموں کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید ٭٭

ابو داؤد وغیرہ میں ہے کہ { جب آیت «وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ» اور آیت «إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَىٰ ظُلْمًا» ۱؎ [4-النساء:10] ‏‏‏‏ نازل ہوئیں تو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یتیموں کا کھانا پینا اپنے کھانے پینے سے بالکل الگ تھلگ کردیا اس میں علاوہ ان لوگوں کے نقصان اور محنت کے یتیموں کا نقصان بھی ہونے لگا اگر بچ رہا تو یا تو وہ باسی کھائیں یا سڑ کر خراب ہو جائے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر ہوا تو آیت «وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْيَتٰمٰي قُلْ اِصْلَاحٌ لَّھُمْ خَيْرٌ وَاِنْ تُخَالِطُوْھُمْ فَاِخْوَانُكُمْ» ۱؎ [2-البقرة:220] ‏‏‏‏ نازل ہوئی کہ ’ ان کے لیے خیر خواہی کرو ان کا کھانا پینا ساتھ رکھنے میں کوئی حرج نہیں وہ تمہارے بھائی ہیں ‘۔ اسے پڑھ کر سن کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے ان کا کھانا اپنے ساتھ ملا لیا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2871،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ یہ حکم ان کے سن بلوغ تک پہنچنے تک ہے گو بعض نے تیس سال بعض نے چالیس سال اور بعض نے ساٹھ سال کہے ہیں لیکن یہ سب قول یہاں مناسب نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

پھر حکم فرمایا کہ ’ لین دین میں، ناپ تول میں کمی بیشی نہ کرو، ان کے لیے ہلاکت ہے جو لیتے وقت پورا لیں اور دیتے وقت کم دیں، ان امتوں کو اللہ نے غارت کر دیا جن میں یہ بد خصلت تھی ‘ -جامع ابو عیسیٰ ترمذی میں ہے کہ { حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپنے اور تولنے والوں سے فرمایا: { تم ایک ایسی چیز کے والی بنائے گئے ہو، جس کی صحیح نگرانی نہ رکھنے والے تباہ ہو گئے } } - ۱؎ [سنن ترمذي:1217،قال الشيخ الألباني:موقوفاً صحیح] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے ’ کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ ہم نہیں لادتے ‘ یعنی اگر کسی شخص نے اپنی طاقت بھر کوشش کرلی دوسرے کا حق دے دیا، اپنے حق سے زیادہ نہ لیا، پھر بھی نادانستگی میں غلطی سے کوئی بات رہ گئی ہو تو اللہ کے ہاں اس کی پکڑ نہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کے یہ دونوں جملے تلاوت کرکے فرمایا کہ { جس نے صحیح نیت سے وزن کیا، تولا، پھر بھی واقع میں کوئی کمی زیادتی بھول چوک سے ہو گئی تو اس کا مؤاخذہ نہ ہوگا } }۔ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:105/3:مرسل] ‏‏‏‏ یہ حدیث مرسل اور غریب ہے۔

پھر فرماتا ہے ’ بات انصاف کی کہا کرو کہ قرابت داری کے معاملے میں ہی کچھ کہنا پڑے ‘ -جیسے فرمان ہے آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّـهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ» ۱؎ [5-المائدہ:8] ‏‏‏‏ اور سورۃ نساء میں بھی یہی حکم دیا کہ «يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ بالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلّٰهِ» [4-النساء:135] ‏‏‏‏ ’ ہر شخص کو ہر حال میں سچائی اور انصاف نہ چھوڑنا چاہیئے، جھوٹی گواہی اور غلط فیصلے سے بچنا چاہیئے ‘۔ اللہ کے عہد کو پورا کرو، اس کے احکام بجا لاؤ، اس کی منع کردہ چیزوں سے الگ رہو، اس کی کتاب اس کے رسول کی سنت پر چلتے رہو، یہی اس کے عہد کو پورا کرنا ہے، انہی چیزوں کے بارے اللہ کا تاکیدی حکم ہے، یہی فرمان تمہارے وعظ و نصیحت کا ذریعہ ہیں تاکہ تم جو اس سے پہلے نکمے بلکہ برے کاموں میں تھے، اب ان سے الگ ہو جاؤ۔ بعض کی قرأت میں «تَذَّكَـرُوْنَ» بھی ہے۔

📖 احسن البیان

152۔ 1 جس یتیم کی کفالت تمہاری ذمہ داری قرار پائے، تو اس کی ہر طرح خیر خواہی کرنا تمہارا فرض ہے اس خیر خواہی کا تقاضا ہے کہ اگر اس کے مال سے وارثت میں سے اس کو حصہ ملا ہے، چاہے وہ نقدی کی صورت میں ہو یا زمین اور جائداد کی صورت میں، تاہم ابھی وہ اس کی حفاظت کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔ اس کے مال کی اس وقت تک پورے خلوص سے حفاظت کی جائے جب تک وہ بلوغت اور شعور کی عمر کو نہ پہنچ جائے۔ یہ نہ ہو کہ کفالت کے نام پر، اس کی عمر شعور سے پہلے ہی اس کے مال یا جایئداد کو ٹھکانے لگا دیا جائے۔ 152۔ 2 ناپ تول میں کمی کرنا لیتے وقت تو پورا ناپ یا تول کرلینا، مگر دیتے وقت ایسا نہ کرنا بلکہ ڈنڈی مار کر دوسرے کو کم دینا، یہ نہایت پست اور اخلاق سے گری ہوئی بات ہے۔ قوم شعیب میں یہی اخلاقی بیماری تھی جو ان کی تباہی کے من جملہ اسباب میں تھی۔ 152۔ 3 یہاں اس بات کے بیان سے یہ مقصد ہے کہ جن باتوں کی تاکید کر رہے ہیں، یہ ایسے نہیں ہیں کہ جن پر عمل کرنا مشکل ہو، اگر ایسا ہوتا تو ہم ان کا حکم ہی نہ دیتے اس لئے کہ طاقت سے بڑھ کر ہم کسی کو مکلف ہی نہیں ٹھہراتے۔ اس لئے اگر نجات اخروی اور دنیا میں عزت اور سرفرازی چاہتے ہو تو ان احکام الٰہی پر عمل کرو اور ان سے گریز مت کرو۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 152) ➊ {وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ ……:} ”سب سے اچھے طریقے“ میں یتیم کے مال کی حفاظت کرنا، اسے بڑھانے کے متعلق سوچنا، یتیموں کی بہتری کے سوا اسے خرچ کرنے سے بچنا وغیرہ سب شامل ہیں۔ {” حَتّٰى يَبْلُغَ اَشُدَّهٗ “} میں جوانی کے ساتھ سمجھ داری بھی شامل ہے کہ اس میں معاملات کو خود نپٹانے کی صلاحیت پیدا ہو جائے۔ دیکھیے سورۂ نساء (۶)۔ ➋ { وَ اَوْفُوا الْكَيْلَ:} اس میں انصاف کو ملحوظ رکھتے ہوئے دیتے وقت ماپ تول میں کمی نہ کرنا اور لیتے وقت زیادہ نہ لینا دونوں شامل ہیں۔ دیکھیے سورۂ مطففین (۱تا۳) سورۂ رحمان (۹) اور سورۂ بنی اسرائیل (۳۵)۔ ➌ {لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا:} یعنی اگر پورا تولنے اور ماپنے کی کوشش کرے مگر بھول چوک کی وجہ سے غلطی کر بیٹھے تو اس سے باز پرس نہیں ہو گی۔ {” اِلَّا وُسْعَهَا “} کا یہی مطلب ہے۔ ➍ {وَ اِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا ……:} جب بات کرو، خواہ فیصلہ کر رہے ہو یا حکم دے رہے ہو یا شہادت دے رہے ہو، تو ہر حال میں عدل و انصاف سے کام لو، کوئی رشتہ داری یا قرابت یا دوستی انصاف میں رکاوٹ نہ بننے پائے۔ دیکھیے سورۂ نساء (۱۳۵) اور سورۂ مائدہ (۸)۔ ➎ { وَ بِعَهْدِ اللّٰهِ اَوْفُوْا:} یعنی تم نے اسلام قبول کر کے اﷲ اور اس کے رسول کی اطاعت کا جو عہد کیا ہے وہ پورا کرو۔ اس سے مراد قرآن و سنت کے تمام احکام پر عمل کرنا ہے۔ لوگوں سے کیے ہوئے عہد پورا کرنے کا بھی اﷲ نے حکم دیا ہے۔ ➏ { لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ:} اس آیت میں مذکور چیزیں ایسی ہیں جو معاشرے میں معروف ہیں، ان کی تاکید اس لیے کی ہے کہ تمھیں یاد آ جائے اور تمھیں نصیحت ہو جائے۔ {” ذِكْرٌ “} کا معنی ”یاد“ اور ”نصیحت “ دونوں ہیں، جیسا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ فَإِذَا نَسِيْتُ فَذَكِّرُوْنِيْ ] [ بخاری، الصلوۃ، باب التوجہ نحو القبلۃ حیث کان: ۴۰۱ ] ”جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد کروا دو۔“
← پچھلی آیت (151) پوری سورۃ اگلی آیت (153) →