بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: مٹی کے برتن میں نبیذ بنانے سے ممانعت کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: مشروبات (پینے والی چیزوں) کے احکام و مسائل باب: مٹی کے برتن میں نبیذ بنانے سے ممانعت کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 7
حدیث نمبر: 5617 سنن نسائی
سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ ، سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، طَاوُسٍ ، لِابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عُمَرَ:" أَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ؟، قَالَ: نَعَمْ"، قَالَ طَاوُسٌ: وَاللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُهُ مِنْهُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
طاؤس کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مٹی کے برتن کی نبیذ سے منع فرمایا ہے؟ کہا: ہاں، طاؤس کہتے ہیں: اللہ کی قسم! اسے میں نے ان سے (ابن عمر سے) سنا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5617]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الٔمشربة 6 (1997)، سنن الترمذی/الٔلشربة 4 (1867)، (تحفة الٔعشراف: 7098)، مسند احمد (2/29، 35، 47، 56، 101، 106، 115، 155) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: کیونکہ مٹی کے برتن میں نبیذ بنانے سے خطرہ رہتا ہے کہ فوراً نشہ پیدا ہو جائے اور آدمی کو پتہ نہ چلے اور نشہ لانے والی نبیذ پی بیٹھے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 5618 سنن نسائی
هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ ، أَبِي ، شُعْبَةُ ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، طَاوُسًا ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ , قَالَا: سَمِعْنَا طَاوُسًا، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" أَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ؟، قَالَ: نَعَمْ"، زَادَ إِبْرَاهِيمُ فِي حَدِيثِهِ: وَالدُّبَّاءِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
طاؤس کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آ کر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مٹی کے برتن کی نبیذ سے منع فرمایا؟ انہوں نے کہا: ہاں، ابراہیم بن میسرہ نے اپنی حدیث میں «والدباء» مزید کہا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5618]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی کدو کی تونبی سے بھی منع فرمایا ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 5619 سنن نسائی
سُوَيْدٌ ، عَبْدُ اللَّهِ ، عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مٹی کے برتن کی نبیذ سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5619]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5814)، مسند احمد (1/228، 229) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح الإسناد
حدیث نمبر: 5620 سنن نسائی
عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ ، أُمَيَّةُ ، شُعْبَةَ ، جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْحَنْتَمِ، قُلْتُ: مَا الْحَنْتَمُ؟، قَالَ: الْجَرُّ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سبز رنگ کے برتن سے منع فرمایا ہے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: «حنتم» کیا ہوتا ہے؟ کہا: مٹی کا برتن۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5620]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الِٔشربة 6 (1997)، (تحفة الأشراف: 6670)، مسند احمد (2/27، 42) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 5621 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، خَالِدٌ ، شُعْبَةُ ، أَبِي مَسْلَمَةَ ، عَبْدَ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَسِيدٍ الطَّاحِيَّ ، ابْنُ الزُّبَيْرِ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَسِيدٍ الطَّاحِيَّ بَصْرِيٌّ، يَقُولُ: سُئِلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ؟ قَالَ:" نَهَانَا عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبدالعزیز بن اسید طاحی بصریٰ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے مٹی کے برتن کی نبیذ کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5621]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5273)، مسند احمد (4/3، 6) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 5622 سنن نسائی
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مَنْجُوفٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، أَيُّوبَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنَ عُمَرَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مَنْجُوفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: سَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ، عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ، فَقَالَ:" حَرَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" , فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقُلْتُ: سَمِعْتُ الْيَوْمَ شَيْئًا عَجِبْتُ مِنْهُ، قَالَ: مَا هُوَ؟ قُلْتُ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ؟ فَقَالَ: حَرَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: صَدَقَ ابْنُ عُمَرَ، قُلْتُ: مَا الْجَرُّ؟ قَالَ: كُلُّ شَيْءٍ مِنْ مَدَرٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ ہم نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مٹی کے برتن کی نبیذ کے بارے میں سوال کیا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے حرام کیا ہے، میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا۔ میں نے کہا: میں نے آج ایک ایسی بات سنی ہے، جس پر مجھے حیرت ہے۔ وہ بولے: وہ کیا ہے؟ میں نے کہا: میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مٹی کے برتن کی نبیذ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے حرام کیا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سچ کہا، میں نے کہا: «جر» سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا ـ: مٹی سے بنی تمام چیزیں۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5622]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الّٔشربة 6 (1997)، سنن ابی داود/الٔنشربة 7 (3690)، (تحفة الأشراف: 5649)، مسند احمد (2/104، 112، 153) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 5623 سنن نسائی
عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبَ ، رَجُلٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ فَسُئِلَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ، فَقَالَ: حَرَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" , وَشَقَّ عَلَيَّ لَمَّا سَمِعْتُهُ , فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقُلْتُ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ فَجَعَلْتُ أُعَظِّمُهُ، قَالَ: مَا هُوَ؟ قُلْتُ: سُئِلَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ، فَقَالَ: صَدَقَ حَرَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: وَمَا الْجَرُّ؟ قَالَ: كُلُّ شَيْءٍ صُنِعَ مِنْ مَدَرٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا، ان سے «جر» کی نبیذ کے بابت پوچھا گیا تو بولے: اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حرام کیا ہے، جو کچھ میں نے سنا وہ مجھ پر گراں گزرا۔ چنانچہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک چیز کے بارے میں پوچھا گیا، وہ (ان کا جواب) مجھے بہت برا لگا۔ وہ بولے: وہ کیا ہے؟ میں نے کہا: ان سے «جر» کی نبیذ کے بارے میں پوچھا گیا تھا، تو ابن عباس نے کہا: انہوں نے سچ کہا، اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حرام کیا، میں نے کہا: «جر» کیا ہوتا ہے؟ وہ بولے: ہر وہ چیز جو مٹی سے بنائی جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5623]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5657) (صحیح لغیرہ)»
قال الشيخ الألباني
صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح لغيره