بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: بتع اور مزر کی شرح و تفسیر۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: مشروبات (پینے والی چیزوں) کے احکام و مسائل باب: بتع اور مزر کی شرح و تفسیر۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 5606 سنن نسائی
سُوَيْدٌ ، عَبْدُ اللَّهِ ، الْأَجْلَحِ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُوسَى ، أَبِيهِ
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ الْأَجْلَحِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُوسَى , عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ بِهَا أَشْرِبَةً فَمَا أَشْرَبُ وَمَا أَدَعُ، قَالَ:" وَمَا هِيَ؟" قُلْتُ: الْبِتْعُ , وَالْمِزْرُ، قَالَ:" وَمَا الْبِتْعُ , وَالْمِزْرُ؟"، قُلْتُ: أَمَّا الْبِتْعُ: فَنَبِيذُ الْعَسَلِ , وَأَمَّا الْمِزْرُ: فَنَبِيذُ الذُّرَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَشْرَبْ مُسْكِرًا , فَإِنِّي حَرَّمْتُ كُلَّ مُسْكِرٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یمن بھیجا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہاں مشروب بہت ہوتے ہیں، تو میں کیا پیوں اور کیا نہ پیوں؟ آپ نے فرمایا: وہ کیا کیا ہیں؟ میں نے عرض کیا: «بتع» اور «مزر»، آپ نے فرمایا: «بتع» اور «مزر» کیا ہوتا ہے؟ میں نے عرض کیا: «بتع» تو شہد کا نبیذ ہے اور «مزر» مکئی کا نبیذ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کوئی نشہ لانے والی چیز مت پیو، اس لیے کہ میں نے ہر نشہ لانے والی چیز حرام کر دی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5606]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9142) (حسن الإسناد)»
قال الشيخ الألباني
حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: حسن الإسناد
حدیث نمبر: 5607 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، ابْنِ فُضَيْلٍ ، الشَّيْبَانِيِّ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِيهِ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ ابْنِ فُضَيْلٍ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ بِهَا أَشْرِبَةً، يُقَالُ لَهَا: الْبِتْعُ وَالْمِزْرُ، قَالَ:" وَمَا الْبِتْعُ وَالْمِزْرِ؟"، قُلْتُ: شَرَابٌ يَكُونُ مِنَ الْعَسَلِ وَالْمِزْرُ يَكُونُ مِنَ الشَّعِيرِ، قَالَ:" كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یمن روانہ کیا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہاں مشروبات بہت ہوتے ہیں جنہیں «بتع» اور «مزر» کہا جاتا ہے، آپ نے فرمایا: «بتع» کیا ہے؟ میں نے عرض کیا: وہ شہد کا مشروب ہوتا ہے اور «مزر» جَو کا مشروب ہوتا ہے، آپ نے فرمایا: ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5607]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/المغازي 60 (4343)، (تحفة الأشراف: 9095) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 5608 سنن نسائی
أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ ، نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، أَبِي ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ ، ابْنِ طَاوُسٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرَ آيَةَ الْخَمْرِ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَرَأَيْتَ الْمِزْرَ؟، قَالَ:" وَمَا الْمِزْرُ؟"، قَالَ: حَبَّةٌ تُصْنَعُ بِالْيَمَنِ، فَقَالَ:" تُسْكِرُ؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خطبہ دیا تو خمر (شراب) والی آیت کا ذکر کیا، ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! «مزر» نامی مشروب کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ نے فرمایا: «مزر» کیا ہوتا ہے؟ وہ بولا: جَو کی شراب جو یمن میں بنائی جاتی ہے، آپ نے فرمایا: کیا اس سے نشہ ہوتا ہے؟ جی ہاں، آپ نے فرمایا: ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5608]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفردبہ النسائي (تحفة الأشراف: 7107) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح الإسناد
حدیث نمبر: 5609 سنن نسائی
قُتَيْبَةُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ , وَسُئِلَ فَقِيلَ لَهُ: أَفْتِنَا فِي الْبَاذِقِ؟ فَقَالَ:" سَبَقَ مُحَمَّدٌ الْبَاذَقَ، وَمَا أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوجویریہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو سنا ان سے مسئلہ پوچھا گیا اور کہا گیا: ہمیں بادہ ۱؎ کے بارے میں فتویٰ دیجئیے۔ تو انہوں نے کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) کے زمانے میں بادہ نہیں تھا، (یا آپ نے اس کا حکم پہلے ہی فرما دیا ہے کہ) جو بھی چیز نشہ لانے والی ہو وہ حرام ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5609]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الٔبشربة 10(5598)، (تحفة الأشراف: 5410)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5690 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: «باذق» فارسی کے لفظ «بادہ» کی تعریب ہے۔ اس کے معنی خمر اور شراب کے ہیں، شاعر کہتا ہے: ہیں رنگ جدا، دور نئے، کیف نرالے شیشہ وہی، بادہ وہی، پیمانہ وہی ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح