عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، الْوَلِيدُ ، الْأَوْزَاعِيِّ ، ابْنُ شِهَابٍ ، مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، عُمَرُ ، الْأَوْزَاعِيِّ ، الزُّهْرِيُّ ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ. ح، وَأَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمٍ اسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَالْفَضْلُ رَدِيفُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَوِيَ عَلَى الرَّاحِلَةِ فَهَلْ يُجْزِئُ؟ قَالَ مَحْمُودٌ: فَهَلْ يَقْضِي أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ؟ فَقَالَ لَهَا:" نَعَمْ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرُ وَاحِدٍ , عَنِ الزُّهْرِيِّ فَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ مَا ذَكَرَ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے فتویٰ پوچھا (فضل اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے سوار تھے۔) وہ بولی: اللہ کے رسول! اللہ کا اپنے بن دوں پر عائد کردہ فرض فریضۂ حج میرے والد پر اس وقت فرض ہوا ہے جب وہ کافی بوڑھے ہو چکے ہیں، وہ سواری پر بیٹھ بھی نہیں سکتے، تو ان کی طرف سے میرا حج کرنا کافی ہے؟ (محمود نے ( «فهل يجزي» یعنی کافی ہے؟ کے بجائے) «فهل يقضي» (یعنی کیا ادا ہو جائے گا) کہا۔) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”ہاں“۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: اس حدیث کو زہری سے ایک سے زائد لوگوں نے روایت کیا ہے، لیکن ان لوگوں نے اس کا ذکر نہیں کیا جس کا ذکر ولید نے کیا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5392]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر رقم: 2635 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی ولید نے اس حدیث کو مسند فضل سے روایت کیا ہے جب کہ زہری سے روایت کرنے والے دوسرے شاگردوں نے اسے مسند ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح