مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حُمَيْدٌ ، الْحَسَنِ ، أَبِي بَكْرَةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: عَصَمَنِي اللَّهُ بِشَيْءٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا هَلَكَ كِسْرَى قَالَ:" مَنِ اسْتَخْلَفُوا؟" , قَالُوا: بِنْتَهُ، قَالَ:" لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَهُمُ امْرَأَةً".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے ایک چیز کی وجہ سے روکے رکھا ۱؎ جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی، جب کسریٰ ہلاک ہوا تو آپ نے فرمایا: ”انہوں نے کسے جانشین بنایا؟“ لوگوں نے کہا: اس کی بیٹی کو، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی جس نے کسی عورت کو حکومت کے اختیارات دے دیے“۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5390]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/المغازي 82 (4425)، الفتن18(7099)، سنن الترمذی/الفتن 75 (2262)، مسند احمد (5/38، 43، 47، 51)، (تحفة الأشراف: 11660) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے علی رضی اللہ عنہ سے جب جنگ کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اس فرمان رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سبب محفوظ رکھا۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح