بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: قیامت کے دن سب سے سخت عذاب دیئے جانے والوں کا ذکر۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: زینت اور آرائش کے احکام و مسائل باب: قیامت کے دن سب سے سخت عذاب دیئے جانے والوں کا ذکر۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 5366 سنن نسائی
أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، مُسْلِمٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، إِسْمَاعِيل بْنُ زَكَرِيَّا ، حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ ، مَسْرُوقٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ. ح، وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ زَكَرِيَّا، قَالَ: حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُصَوِّرُونَ"، وَقَالَ أَحْمَدُ:" الْمُصَوِّرِينَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سے سب سے زیادہ سخت عذاب والے تصویر بنانے والے لوگ ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5366]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/اللباس 89 (5950)، صحیح مسلم/اللباس 26 (2109)، (تحفة الأشراف: 9575)، مسند احمد (1/375، 426) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 5367 سنن نسائی
هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، أَبِي بَكْرٍ ، أَبِي إِسْحَاق ، مُجَاهِدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" اسْتَأْذَنَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام , عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: ادْخُلْ، فَقَالَ: كَيْفَ أَدْخُلُ وَفِي بَيْتِكَ سِتْرٌ فِيهِ تَصَاوِيرُ , فَإِمَّا أَنْ تُقْطَعَ رُءُوسُهَا، أَوْ تُجْعَلَ بِسَاطًا يُوطَأُ، فَإِنَّا مَعْشَرَ الْمَلَائِكَةِ لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ تَصَاوِيرُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اجازت طلب کی، تو آپ نے فرمایا: اندر آئیے، وہ بولے: میں کیسے اندر آؤں؟ آپ کے گھر میں تو ایسا پردہ لٹکا ہے جس میں تصویریں ہیں، لہٰذا یا تو آپ ان کے سر کاٹ دیجئیے، یا پھر ان کا بچھونا بنا دیجئیے تاکہ وہ روندا جائے۔ کیونکہ ہم فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویریں ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5367]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/اللباس 48 (4158)، سنن الترمذی/الأدب 44 (الاستئذان 78) (2807)، (تحفة الأشراف: 14345)، مسند احمد (2/305، 308، 390، 478) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح