بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: سارے بدن کو کپڑے سے لپیٹ لینا منع ہے۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: زینت اور آرائش کے احکام و مسائل باب: سارے بدن کو کپڑے سے لپیٹ لینا منع ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 5342 سنن نسائی
قُتَيْبَةُ ، اللَّيْثُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِي سَعِيدٍ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اشتمال صماء سے اور ایک ہی کپڑے میں احتباء سے کہ شرمگاہ پر کچھ نہ ہو منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5342]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الصلاة 10 (367)، اللباس 21 (5822)، (تحفة الأشراف: 4140)، مسند احمد (3/6، 13، 46) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اشتمال صماء اہل لغت کے یہاں اشتمال صماء: یہ ہے کہ ایک آدمی کپڑے کو اپنے جسم پر اس طرح سے لپیٹ لے کہ ہاتھ پاؤں کی حرکت مشکل ہو، اس طرح کا تنگ کپڑا پہننے سے آدمی بوقت ضرورت کسی تکلیف دہ چیز سے اپنا دفاع نہیں کر سکتا، اور فقہاء کے نزدیک اشتمال صماء یہ ہے کہ پورے بدن پر صرف ایک کپڑا لپیٹے اور ایک جانب سے ایک کنارہ اٹھا کر گندھے پر رکھ لے، اس طرح کہ ستر (شرمگاہ) کھل جائے، اہل لغت کی تعریف کے مطابق یہ مکروہ ہے، اور فقہاء کی تعریف کے مطابق حرام۔ احتباء یہ ہے کہ آدمی ایک کپڑا پہنے اور گوٹ مار کر اس طرح بیٹھے کہ کپڑا اس کے ستر (شرمگاہ) سے ہٹ جائے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 5343 سنن نسائی
الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کپڑا پورے بدن پر لپیٹ لینے اور ایک ہی کپڑے میں آدمی کے احتباء کرنے سے کہ شرمگاہ کھلی ہوئی ہو، منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5343]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 4516 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح