عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى ، عَبْدُ الْوَارِثِ ، يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ أَبِي إِسْحَاق ، سَالِمٌ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ أَبِي إِسْحَاق، قَالَ: قَالَ سَالِمٌ: مَا الْإِسْتَبْرَقُ؟ قُلْتُ: مَا غَلُظَ مِنَ الدِّيبَاجِ , وَخَشُنَ مِنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ , يَقُولُ:" رَأَى عُمَرُ مَعَ رَجُلٍ حُلَّةَ سُنْدُسٍ، فَأَتَى بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اشْتَرِ هَذِهِ" , وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
یحییٰ بن ابی اسحاق کہتے ہیں کہ سالم نے پوچھا: استبرق کیا ہے؟ میں نے کہا: ایک قسم کا ریشم ہے جو سخت ہوتا ہے، وہ بولے: میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے ہوئے سنا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کے پاس ایک جوڑا سندس کا دیکھا، اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اسے خرید لیجئیے … پھر پوری روایت بیان کی۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5302]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الٔمدب 66 (6081)، صحیح مسلم/اللباس 2 (2068)، (تحفة الٔاشراف: 7033)، مسند احمد (2/4949) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: ”سندس“ یہ بھی ایک قسم کا ریشمی کپڑا ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح