مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، عَزْرَةُ وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَزْرَةُ وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي قُحَافَةَ وَرَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ كَأَنَّهُ ثَغَامَةٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" غَيِّرُوا , أَوِ اخْضِبُوا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس (ابوبکر کے والد) ابوقحافہ رضی اللہ عنہما لائے گئے، ان کا سر اور داڑھی ثغامہ نامی گھاس کی طرح تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے بالوں کا رنگ بدلو“، یا (فرمایا) ”خضاب لگاؤ“۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5244]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 2885) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: ثغامہ ایک گھاس ہے جس کے پھل اور پھول سب سفید ہوتے ہیں۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح