عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، عِيسَى ، الْأَوْزَاعِيِّ ، حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عِيسَى، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ قَالَ: أَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَرَأَى رَجُلًا ثَائِرَ الرَّأْسِ , فَقَالَ:" أَمَا يَجِدُ هَذَا مَا يُسَكِّنُ بِهِ شَعْرَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آئے، آپ نے ایک شخص کو دیکھا، اس کے سر کے بال الجھے ہوئے تھے، آپ نے فرمایا: ”کیا اس کے پاس کوئی چیز نہیں ہے جس سے اپنے بال ٹھیک رکھ سکے؟“۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5238]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/اللباس 17 (4062)، (تحفة الأشراف: 3012)، مسند احمد (3/357) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح