بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: سر پر بال رکھنے کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: زینت اور آرائش کے احکام و مسائل باب: سر پر بال رکھنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 5234 سنن نسائی
عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ ، أُمَيَّةَ بْنِ خَالِدٍ ، شُعْبَةَ ، أَبِي إِسْحَاق ، الْبَرَاءِ
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجِلًا مَرْبُوعًا عَرِيضَ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ، كَثَّ اللِّحْيَةِ، تَعْلُوهُ حُمْرَةٌ جُمَّتُهُ إِلَى شَحْمَتَيْ أُذُنَيْهِ، لَقَدْ رَأَيْتُهُ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مَا رَأَيْتُ أَحْسَنَ مِنْهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم درمیانے قد کے، چوڑے مونڈھوں اور گھنی داڑھی والے تھے، آپ کے بدن پر کچھ سرخی ظاہر تھی، سر کے بال کان کی لو تک تھے ۱؎، میں نے آپ کو لال جوڑا پہنے ہوئے دیکھا اور آپ سے زیادہ کسی کو خوبصورت نہیں دیکھا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5234]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/المناقب 23 (3551)، صحیح مسلم/الفضائل 25 (2337)، سنن ابی داود/اللباس 21 (4072)، الترجل 9 (4184)، سنن الترمذی/الأدب 47 (2811)، (تحفة الأشراف: 1869)، مسند احمد (4/281)، ویأتي عند المؤلف: 5316 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر کے بالوں کے بارے میں متعدد و مختلف روایات وارد ہیں: آدھے کان تک، کانوں کے لو تک، کانوں کے لووں اور کندھوں کے درمیان تک، اور کندھوں تک، اور ان سب روایات میں کوئی تعارض و اختلاف نہیں ہے، بلکہ یہ مختلف حالات کی روایات ہیں، کبھی آپ نے بال کٹوائے تو آدھے کانوں تک کر لیا، اور وہ بڑھ کر کان کے لو تک ہو گئے، اور اسی حالت میں چھوڑ دیئے تو اور بڑھ گئے، کبھی اتنے ہی پر کٹوا لیا اور کبھی چھوڑ دیا تو تو کندھوں کے اوپر یا کندھوں تک ہو گئے، اب جس نے جو دیکھا وہی بیان کر دیا۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 5235 سنن نسائی
حَاجِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَكِيعٍ ، سُفْيَانَ ، أَبِي إِسْحَاق ، الْبَرَاءِ
أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ:" مَا رَأَيْتُ مِنْ ذِي لِمَّةٍ أَحْسَنَ فِي حُلَّةٍ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَلَهُ شَعْرٌ يَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کسی بال والے کو لباس پہنے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے زیادہ خوبصورت نہیں دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بال مونڈھوں کے قریب تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5235]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الفضائل 25 (2337)، سنن ابی داود/الترجل 9 (4183)، سنن الترمذی/اللباس 4 (1724)، المناقب 8 (3635)، الأدب 47 (2811)، (تحفة الأشراف: 1847) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 5236 سنن نسائی
عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، إِسْمَاعِيل ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" كَانَ شَعْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى نِصْفِ أُذُنَيْهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بال آدھے کانوں تک تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5236]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الفضائل 26 (2338)، سنن ابی داود/الترجل 9 (4187)، (تحفة الأشراف: 567)، مسند احمد (3/142، 249) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 5237 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، حَبَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يَضْرِبُ شَعْرُهُ إِلَى مَنْكِبَيْهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے بال مونڈھوں تک رکھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5237]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/اللباس 68 (5903، 5904)، (تحفة الأشراف: 1396)، مسند احمد (3/11818، 125، 245، 269) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح