بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: پیتل کی انگوٹھی پہننے کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: زیب و زینت اور آرائش کے احکام و مسائل باب: پیتل کی انگوٹھی پہننے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 5209 سنن نسائی
عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمَصِّيصِيُّ ، دَاوُدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ ، أَبِي النَّجِيبِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمَصِّيصِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ مَنْصُورٍ مِنْ أَهْلِ ثَغْرٍ ثِقَةٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ أَبِي النَّجِيبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْ الْبَحْرَيْنِ , إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَلَّمَ فَلَمْ يُرَدَّ عَلَيْهِ، وَكَانَ فِي يَدِهِ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ وَجُبَّةُ حَرِيرٍ فَأَلْقَاهُمَا، ثُمَّ سَلَّمَ، فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ، ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَتَيْتُكَ آنِفًا فَأَعْرَضْتَ عَنِّي، فَقَالَ:" إِنَّهُ كَانَ فِي يَدِكَ جَمْرَةٌ مِنْ نَارٍ" , قَالَ: لَقَدْ جِئْتُ إِذًا بِجَمْرٍ كَثِيرٍ , قَالَ:" إِنَّ مَا جِئْتَ بِهِ لَيْسَ بِأَجْزَأَ عَنَّا مِنْ حِجَارَةِ الْحَرَّةِ، وَلَكِنَّهُ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا"، قَالَ: فَمَاذَا أَتَخَتَّمُ؟ قَالَ:" حَلْقَةً مِنْ حَدِيدٍ، أَوْ وَرِقٍ، أَوْ صُفْرٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بحرین (احساء) سے ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور سلام کیا، آپ نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا، اس کے ہاتھ میں سونے کی ایک انگوٹھی تھی اور ریشم کا جبہ، اس نے وہ دونوں اتار کر پھینک دیے اور پھر سلام کیا، تو آپ نے اس کے سلام کا جواب دیا، اب اس نے کہا: اللہ کے رسول! میں تو سیدھا آپ کے پاس آیا ہوں اور آپ نے مجھ سے رخ پھیر لیا؟ آپ نے فرمایا: تمہارے ہاتھ میں جہنم کی آگ کا انگارہ تھا، وہ بولا: تب تو اس میں سے بہت سارے انگارے لے کر آیا ہوں، آپ نے فرمایا: تم جو کچھ بھی لے کر آئے ہو وہ ہمارے لیے اس حرہ کے پتھروں سے زیادہ فائدہ مند نہیں ہے، البتہ وہ دنیا کی زندگی کی متاع ہے، وہ بولا: تو پھر میں کس چیز کی انگوٹھی بنواؤں؟ آپ نے فرمایا: لوہے کا یا چاندی کا یا پیتل کا ایک چھلا بنا لو۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5209]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 5191 (ضعیف) (اس کے راوی ”داود بن منصور“ حافظے کے کمزور ہیں، اور ان کی اس روایت میں حدیث نمبر 5191 سے متن میں جو اضافہ ہے وہ منکر ہے۔ مذکورہ روایت صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 5210 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، أَنَسٍ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدِ اتَّخَذَ حَلْقَةً مِنْ فِضَّةٍ، فَقَالَ:" مَنْ أَرَادَ أَنْ يَصُوغَ عَلَيْهِ فَلْيَفْعَلْ , وَلَا تَنْقُشُوا عَلَى نَقْشِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نکلے اور آپ نے چاندی ایک چھلا بنوایا تھا۔ آپ نے فرمایا: جو اس طرح کا چھلا بنوانا چاہے تو بنوا لے، البتہ جو کچھ اس پر نقش ہے اسے نقش نہ کرائے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5210]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 1062) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح الإسناد
حدیث نمبر: 5211 سنن نسائی
أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ سَيْفٍ الْحَرَّانِيُّ ، هَارُونُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ سَيْفٍ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا وَنَقَشَ عَلَيْهِ نَقْشًا، قَالَ:" إِنَّا قَدِ اتَّخَذْنَا خَاتَمًا وَنَقَشْنَا فِيهِ نَقْشًا، فَلَا يَنْقُشْ أَحَدٌ عَلَى نَقْشِهِ". ثُمَّ قَالَ أَنَسٌ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِهِ فِي يَدِهِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک انگوٹھی بنوائی اور اس پر نقش کرایا اور فرمایا: ہم نے ایک انگوٹھی بنوائی ہے اور اس میں کچھ نقش کرایا ہے، تو تم میں سے کوئی اسے نقش نہ کرائے، پھر انس رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا اس کی چمک میں آپ کے ہاتھ میں (ابھی بھی) دیکھ رہا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5211]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 1060)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس51 (5884)، 54 (5877)، سنن ابن ماجہ/اللباس 39 (3639)، مسند احمد (3/1011، 161) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح