بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: انگوٹھی میں چاندی کتنی مقدار میں ہونی چاہئے؟
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: زیب و زینت اور آرائش کے احکام و مسائل باب: انگوٹھی میں چاندی کتنی مقدار میں ہونی چاہئے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 5198 سنن نسائی
أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، أَبِيهِ
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسْلِمٍ مِنْ أَهْلِ مَرْوَ أَبُو طَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ، فَقَالَ:" مَا لِي أَرَى عَلَيْكَ حِلْيَةَ أَهْلِ النَّارِ؟"، فَطَرَحَهُ، ثُمَّ جَاءَهُ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ شَبَهٍ، فَقَالَ:" مَا لِي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ الْأَصْنَامِ؟" , فَطَرَحَهُ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مِنْ أَيِّ شَيْءٍ أَتَّخِذُهُ؟ قَالَ:" مِنْ وَرِقٍ , وَلَا تُتِمَّهُ مِثْقَالًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا، وہ لوہے کی انگوٹھی پہنے ہوئے تھا، آپ نے فرمایا: کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں جہنمیوں کا زیور پہنے دیکھ رہا ہوں؟ یہ سن کر اس نے وہ انگوٹھی پھینک دی۔ پھر پیتل کی انگوٹھی پہن کر آپ کے پاس آیا۔ آپ نے فرمایا: کیا وجہ ہے مجھے تم سے بتوں کی بو محسوس رہی ہے؟ اس نے وہ انگوٹھی بھی پھینک دی اور بولا: اللہ کے رسول! پھر کس چیز کی بناؤں؟ آپ نے فرمایا: چاندی کی، لیکن ایک مثقال سے کم رہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5198]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«الخاتم 4 (4223)، سنن الترمذی/اللباس 43 (1786)، (تحفة الأشراف: 1982)، مسند احمد (5/359) (ضعیف) (اس کے راوی ’’ابو طیبہ‘‘ حافظہ کے کمزور ہیں، انہیں وہم ہو جایا کرتا تھا، لیکن پہلے ٹکڑے کے صحیح شواہد موجود ہیں)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: ضعيف