إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ ، خَالِدٌ ، ثَابِتٌ وَهُوَ ابْنُ عُمَارَةَ ، غُنَيْمِ بْنِ قَيْسٍ ، الْأَشْعَرِيِّ
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ وَهُوَ ابْنُ عُمَارَةَ، عَنْ غُنَيْمِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّمَا امْرَأَةٍ اسْتَعْطَرَتْ فَمَرَّتْ عَلَى قَوْمٍ لِيَجِدُوا مِنْ رِيحِهَا فَهِيَ زَانِيَةٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جو عورت عطر لگائے اور پھر لوگوں کے سامنے سے گزرے تاکہ وہ اس کی خوشبو سونگھیں تو وہ زانیہ ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5129]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الترجل 7 (1473)، سنن الترمذی/الأدب 35 (الاستئذان 69) (2786)، (تحفة الأشراف: 9023)، مسند احمد (4/394، 400، 407، 413، 414، 418) (حسن)»
وضاحت
۱؎: یعنی وہ عطر مہک والا ہو، اور مہک والا عطر لگا کر باہر نکلنا عورتوں کے لیے حرام ہے، گھر میں شوہر کے لیے لگا سکتی ہیں۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: حسن