بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: زعفران اور خلوق لگانے کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: زیب و زینت اور آرائش کے احکام و مسائل باب: زعفران اور خلوق لگانے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 6
حدیث نمبر: 5123 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، سُفْيَانُ ، عِمْرَانَ بْنِ ظَبْيَانَ ، حُكَيْمِ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ ظَبْيَانَ، عَنْ حُكَيْمِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِ رَدْعٌ مِنْ خَلُوقٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اذْهَبْ فَانْهَكْهُ" , ثُمَّ أَتَاهُ، فَقَالَ:" اذْهَبْ فَانْهَكْهُ" , ثُمَّ أَتَاهُ , فَقَالَ:" اذْهَبْ فَانْهَكْهُ ثُمَّ لَا تَعُدْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا، وہ خلوق میں لتھڑا ہوا تھا تو اس سے آپ نے فرمایا: جاؤ اور اسے دھو ڈالو، پھر وہ آپ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا : جاؤ اسے دھو ڈالو۔ وہ پھر آپ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: جاؤ اسے دھو ڈالو، پھر آئندہ نہ لگانا۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5123]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 12271) (ضعیف) (اس کا راوی عمران بن ظبیان شیعہ اور ضعیف ہے)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف، إسناده ضعيف، عمران بن ظبيان: ضعيف، ورمي بالتشيع،تنا قض فيه ابن حبان (تقريب: 5158) وضعفه الجمهور. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 361
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 5124 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، خَالِدٌ ، شُعْبَةَ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، أَبَا حَفْصِ بْنَ عَمْرٍو ، يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَفْصِ بْنَ عَمْرٍو، وَقَالَ عَلَى إِثْرِهِ , يُحَدِّثُ عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، أَنَّهُ مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُتَخَلِّقٌ، فَقَالَ لَهُ:" هَلْ لَكَ امْرَأَةٌ؟" , قُلْتُ: لَا، قَالَ:" فَاغْسِلْهُ، ثُمَّ اغْسِلْهُ، ثُمَّ لَا تَعُدْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس سے گزرے، اور وہ خلوق لگائے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا: کیا تمہاری بیوی ہے؟ کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: تو اسے دھوؤ اور دھوؤ پھر نہ لگانا۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5124]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/الأدب 51 (الإستئذان 85) (2816)، (تحفة الأشراف: 11849)، مسند احمد (4/171، 173)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 5125-5128) (ضعیف) (اس کا راوی ابو حفص بن عمرو مجہول ہے)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف، إسناده ضعيف، ترمذي (2816) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 361
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 5125 سنن نسائی
مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، أَبُو دَاوُدَ ، شُعْبَةُ ، عَطَاءٍ ، أَبَا حَفْصِ بْنَ عَمْرٍو ، يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَفْصِ بْنَ عَمْرٍو، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْصَرَ رَجُلًا مُتَخَلِّقًا، قَالَ:" اذْهَبْ فَاغْسِلْهُ، ثُمَّ اغْسِلْهُ وَلَا تَعُدْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک شخص کو خلوق لگائے ہوئے دیکھا تو فرمایا: جاؤ اسے دھو لو، اور پھر دھو لو اور دوبارہ نہ لگانا۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5125]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (5124) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 361
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 5126 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، أَبُو دَاوُدَ ، شُعْبَةُ ، عَطَاءٍ ، ابْنِ عَمْرٍو ، رَجُلٍ ، يَعْلَى
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَمْرٍو، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ يَعْلَى نَحْوَهُ , خَالَفَهُ سُفْيَانُ رَوَاهُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ يَعْلَى.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اس سند سے بھی یعلیٰ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں:) سفیان کی روایت اس کے برخلاف ہے، چنانچہ انہوں نے اسے عطاء بن سائب سے، انہوں نے عبداللہ بن حفص سے اور انہوں نے یعلیٰ سے روایت کیا ہے۔ (عبداللہ بن حفص وہی ابوحفص بن عمرو ہے جو پچھلی سند میں ہے۔) [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5126]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 5124 (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني
سكت عنه الشيخ
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (5124) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 361
الحكم: سكت عنه الشيخ
حدیث نمبر: 5127 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ مُسَاوِرٍ ، سُفْيَانُ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَفْصٍ ، يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ الثَّقَفِيِّ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ مُسَاوِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: أَبْصَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِي رَدْعٌ مِنْ خَلُوقٍ، قَالَ:" يَا يَعْلَى , لَكَ امْرَأَةٌ؟" , قُلْتُ: لَا، قَالَ:" اغْسِلْهُ ثُمَّ لَا تَعُدْ، ثُمَّ اغْسِلْهُ، ثُمَّ لَا تَعُدْ، ثُمَّ اغْسِلْهُ، ثُمَّ لَا تَعُدْ"، قَالَ: فَغَسَلْتُهُ، ثُمَّ لَمْ أَعُدْ ثُمَّ غَسَلْتُهُ، ثُمَّ لَمْ أَعُدْ، ثُمَّ غَسَلْتُهُ، ثُمَّ لَمْ أَعُدْ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
یعلیٰ بن مرہ ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دیکھا، مجھ پر خلوق کا داغ لگا ہوا تھا، آپ نے فرمایا: یعلیٰ! کیا تمہاری بیوی ہے؟ میں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: اسے دھو لو، پھر نہ لگانا، پھر دھو لو اور نہ لگانا اور پھر دھو لو اور نہ لگانا، میں نے اسے دھو لیا اور پھر نہ لگایا، میں نے پھر دھویا اور نہ لگایا اور پھر دھویا اور نہ لگایا۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5127]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 5124 (ضعیف) (اس کا راوی عبداللہ بن حفص وہی ابو حفص بن عمرو ہے جو مجہول ہے)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف، يإسناده ضعيف، تقدم (5124) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 361
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 5128 سنن نسائی
إِسْمَاعِيل بْنُ يَعْقُوبَ الصَّبِيحِيُّ ، ابْنُ مُوسَى يَعْنِي مُحَمَّدًا ، أَبِي ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَفْصٍ ، يَعْلَى
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ يَعْقُوبَ الصَّبِيحِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ مُوسَى يَعْنِي مُحَمَّدًا، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ يَعْلَى، قَالَ: مَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مُتَخَلِّقٌ، فَقَالَ:" أَيْ يَعْلَى , هَلْ لَكَ امْرَأَةٌ؟" , قُلْتُ: لَا، قَالَ:" اذْهَبْ فَاغْسِلْهُ، ثُمَّ اغْسِلْهُ، ثُمَّ اغْسِلْهُ، ثُمَّ لَا تَعُدْ"، قَالَ: فَذَهَبْتُ فَغَسَلْتُهُ، ثُمَّ غَسَلْتُهُ، ثُمَّ غَسَلْتُهُ، ثُمَّ لَمْ أَعُدْ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
یعلیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس سے گزرا، میں خلوق لگائے ہوئے تھا، آپ نے فرمایا: یعلیٰ! کیا تمہاری بیوی ہے؟ میں نے عرض کیا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: جاؤ، اسے دھوؤ، پھر دھوؤ اور پھر دھوؤ، پھر ایسا نہ کرنا، میں گیا اور اسے دھویا پھر دھویا اور پھر دھویا پھر ایسا نہیں کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5128]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 5124 (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف، إسناده ضعيف، تقدم (5124) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 361
الحكم: ضعيف