بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: عورتوں کے خضاب لگانے کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: زیب و زینت اور آرائش کے احکام و مسائل باب: عورتوں کے خضاب لگانے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 5092 سنن نسائی
عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ ، الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، مُطِيعُ بْنُ مَيْمُونٍ ، صَفِيَّةُ بِنْتُ عِصْمَةَ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُطِيعُ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَتْنَا صَفِيَّةُ بِنْتُ عِصْمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةً مَدَّتْ يَدَهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكِتَابٍ، فَقَبَضَ يَدَهُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَدَدْتُ يَدِي إِلَيْكَ بِكِتَابٍ، فَلَمْ تَأْخُذْهُ، فَقَالَ:" إِنِّي لَمْ أَدْرِ أَيَدُ امْرَأَةٍ هِيَ، أَوْ رَجُلٍ؟" قَالَتْ: بَلْ يَدُ امْرَأَةٍ، قَالَ:" لَوْ كُنْتِ امْرَأَةً لَغَيَّرْتِ أَظْفَارَكِ بِالْحِنَّاءِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خط دینے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھایا تو آپ نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا، وہ بولی: اللہ کے رسول! میں نے ایک خط دینے کے لیے آپ کی طرف ہاتھ بڑھایا تو آپ نے اسے نہیں لیا۔ آپ نے فرمایا: مجھے نہیں معلوم کہ وہ عورت کا ہاتھ ہے یا مرد کا، میں نے عرض کیا: عورت کا ہاتھ ہے۔ آپ نے فرمایا: اگر تم عورت ہوتی تو اپنے ناخنوں کو مہندی سے رنگا ہوتا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5092]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الترجل 4 (4164)، (تحفة الأشراف: 17868)، مسند احمد (6/262) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس حدیث سے اس بات کی تاکید معلوم ہوتی ہے کہ عورتوں کو اپنی نسوانیت کی علامت اختیار کئے رہنا چاہیئے اور مردوں سے مشابہت کی کوئی بات اختیار نہیں کرنی چاہیئے اس کی حکمت دراصل اللہ کی تخلیق کو اپنی جگہ برقرار رکھنے کی بات ہے، اللہ کی خلقت کو بدلنا حرام عمل ہے، اس کی خواہ کوئی صورت ہو، نسوانیت کی علامت کے سلسلے میں بھی خاص خاص مرد اور عورت کے امتیازی علامات کے علاوہ چیزوں میں علاقہ و سماج کے عزت و رواج کا لحاظ کیا جائے گا۔
قال الشيخ الألباني
حسن
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (4166) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 360
الحكم: حسن