بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: سر پر چوٹی رکھنے کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: زیب و زینت اور آرائش کے احکام و مسائل باب: سر پر چوٹی رکھنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 5066 سنن نسائی
الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي إِسْحَاق ، هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ:" عَلَى قِرَاءَةِ مَنْ تَأْمُرُونِّي أَقْرَأُ؟ , لَقَدْ قَرَأْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضْعًا وَسَبْعِينَ سُورَةً، وَإِنَّ زَيْدًا لَصَاحِبُ ذُؤَابَتَيْنِ , يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تم لوگ مجھے کس کی قرأت کے مطابق پڑھنے کے لیے کہتے ہو؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ستر سے زائد سورتیں پڑھیں، اس وقت زید (زید بن ثابت) کی دو چوٹیاں تھیں، وہ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5066]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9592) (صحیح) (اس کے راوی ”ابواسحاق‘‘ اور ”اعمش‘‘ مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے، مگر اگلی سند سے تقویف پا کر یہ صحیح لغیرہ ہے)»
وضاحت
۱؎: لمبے بال کو «ذوابہ» کہتے ہیں، نہ کہ عورتوں کی طرح بندھی ہوئی چوٹی کو، ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے اس اثر نیز اگلی حدیث سے سر کے اتنے بڑے بالوں کا جواز ثابت ہوتا ہے، کیونکہ ان دونوں (نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم و ابن مسعود) نے اس پر اعتراض نہیں کیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لمبے بالوں کی بجائے انہیں چھوٹے کرنے کو زیادہ پسند کیا، جیسا کہ حدیث نمبر ۵۰۶۹ میں صراحت ہے (نیز ملاحظہ ہو: فتح الباری: کتاب اللباس، باب الذوائب)۔
قال الشيخ الألباني
صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 5067 سنن نسائی
إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ ، سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَبُو شِهَابٍ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي وَائِلٍ ، ابْنُ مَسْعُودٍ
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: خَطَبَنَا ابْنُ مَسْعُودٍ، فَقَالَ:" كَيْفَ تَأْمُرُونِّي أَقْرَأُ عَلَى قِرَاءَةِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ بَعْدَ مَا قَرَأْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضْعًا وَسَبْعِينَ سُورَةً، وَإِنَّ زَيْدًا مَعَ الْغِلْمَانِ لَهُ ذُؤَابَتَانِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ہم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تم لوگ مجھ سے زید بن ثابت کی قرأت کے مطابق پڑھنے کو کہتے ہو ۱؎، اس کے بعد کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ستر سے زائد کئی سورتیں سن چکا ہوں، اس وقت زید بچوں کے ساتھ تھے، ان کی دو چوٹیاں تھیں؟۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5067]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9257)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/فضائل القرآن 8 (5000)، صحیح مسلم/الفضائل 22 (2462)، مسند احمد (1/389، 405، 411، 442) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: جب ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا گیا ہے کہ آپ عثمان رضی اللہ عنہ کے مصحف کے مطابق قرآن پڑھا کریں کیونکہ آپ کے مصحف اور اس میں فرق ہے، تب انہوں نے مصحف عثمانی کے جمع کرنے والے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات کہی، آپ کی نظر اس بات پر نہیں گئی کہ عام صحابہ نے مصحف عثمانی ہی پر اجماع کیا، بہرحال بتصریح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قرآن سات قراءتوں پر نازل ہوا، ابن مسعود صحابی رسول تھے، اور ان کو اپنے اوپر اعتماد تھا، لیکن مصحف عثمانی پر اجماع کے بعد اس کے مطابق پڑھنے پر اجماع امت ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 5068 سنن نسائی
إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِّ الْعُرُوقِيُّ ، الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، غَسَّانُ بْنُ الْأَغَرِّ بْنِ حُصَيْنٍ النَّهْشَلِيُّ ، زِيَادُ بْنُ الْحُصَيْنِ ، أَبِيهِ
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِّ الْعُرُوقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ الْأَغَرِّ بْنِ حُصَيْنٍ النَّهْشَلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمِّي زِيَادُ بْنُ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ادْنُ مِنِّي، فَدَنَا مِنْهُ، فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى ذُؤَابَتِهِ، ثُمَّ أَجْرَى يَدَهُ وَسَمَّتَ عَلَيْهِ وَدَعَا لَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس مدینے میں آئے تو آپ نے ان سے فرمایا: میرے قریب آؤ، وہ آپ کے قریب ہوئے تو آپ نے اپنا ہاتھ ان کی چوٹی پر رکھا اور اپنا ہاتھ پھرایا پھر اللہ کا نام لے کر انہیں دعا دی۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5068]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 3415) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح الإسناد