بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: سفر میں چور کا ہاتھ کاٹنے کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احکام و مسائل باب: سفر میں چور کا ہاتھ کاٹنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 4982 سنن نسائی
عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، بَقِيَّةُ ، نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ ، حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ ، جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ ، بُسْرَ بْنَ أَبِي أَرْطَاةَ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَقِيَّةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ بُسْرَ بْنَ أَبِي أَرْطَاةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا تُقْطَعُ الْأَيْدِي فِي السَّفَرِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
بسر بن ابی ارطاۃ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا: سفر میں (چور کے) ہاتھ نہیں کاٹے جائیں گے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4982]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الحدود 18 (4408)، سنن الترمذی/الحدود 20 (1450)، (تحفة الأشراف: 2015)، مسند احمد (4/181) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: ترمذی اور مسند احمد میں «السفر» کی جگہ «الغزو» (یعنی: «غزوہ» ) ہے، لہٰذا اس حدیث میں بھی «سفر» سے مراد «غزو» ہو گا، اور «غزو» مراد لینے کی وجہ سے اس میں اور عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی مرفوع روایت «أقیموا الحدود فی السفر والحضر» میں کوئی تعارض باقی نہیں رہے گا۔ یعنی عبادہ رضی اللہ عنہ میں وارد لفظ «سفر» سے عام سفر مراد ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4983 سنن نسائی
الْحَسَنُ بْنُ مُدْرِكٍ ، يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عُمَرَ وَهُوَ ابْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُدْرِكٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ وَهُوَ ابْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا سَرَقَ الْعَبْدُ فَبِعْهُ وَلَوْ بِنَشٍّ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ فِي الْحَدِيثِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب غلام چوری کرے تو اسے بیچ دو چاہے اس کی قیمت آدھا درہم ہی کیوں نہ ہو ۱؎۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: عمر بن ابی سلمہ حدیث میں قوی نہیں ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4983]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الحدود 22 (4412)، سنن ابن ماجہ/الحدود 25 (2589)، تحفة الأشراف: 14979)، مسند احمد (2/336، 337، 356، 387) (ضعیف) (اس کے راوی ”عمر بن ابی سلمہ“ حافظہ کے کمزور ہیں)»
وضاحت
۱؎: یہ حدیث نہ تو صحیح ہے اور نہ ہی باب سے اس کا کوئی ظاہری مناسبت ہے۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: ضعيف