بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: درخت پر لٹکے ہوئے پھلوں کی چوری کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احکام و مسائل باب: درخت پر لٹکے ہوئے پھلوں کی چوری کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 4960 سنن نسائی
قُتَيْبَةُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِي كَمْ تُقْطَعُ الْيَدُ؟ قَالَ:" لَا تُقْطَعُ الْيَدُ فِي ثَمَرٍ مُعَلَّقٍ، فَإِذَا ضَمَّهُ الْجَرِينُ قُطِعَتْ فِي ثَمَنِ الْمِجَنِّ، وَلَا تُقْطَعُ فِي حَرِيسَةِ الْجَبَلِ، فَإِذَا آوَى الْمُرَاحَ قُطِعَتْ فِي ثَمَنِ الْمِجَنِّ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا گیا: ہاتھ کتنے میں کاٹا جائے گا؟ آپ نے فرمایا: درخت پر لگے پھل میں نہیں کاٹا جائے گا، لیکن جب وہ کھلیان میں پہنچا دیا جائے تو ڈھال کی قیمت میں ہاتھ کاٹا جائے گا، اور نہ پہاڑ پر چرنے والے جانوروں میں کاٹا جائے گا البتہ جب وہ اپنے رہنے کی جگہ میں آ جائیں تو ڈھال کی قیمت میں کاٹا جائے گا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4960]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/اللقطة 1 (1712)، (تحفة الأشراف: 8755) مسند احمد (2/186) (حسن)»
وضاحت
۱؎: درخت پر لگے پھلوں اور میدان میں چرتے جانوروں کی چوری پر ہاتھ اس لیے نہیں کاٹا جائے گا کہ یہ سب حرز (محفوظ مقام) میں نہیں ہوتے، کھلیان اور باڑہ حرز (محفوظ مقام) ہوتے ہیں، یہاں سے چوری پر ہاتھ کاٹا جائے گا۔
قال الشيخ الألباني
حسن
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: حسن