بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: اعتراف جرم کی خاطر چور کو مارنے یا قید میں ڈالنے کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احکام و مسائل باب: اعتراف جرم کی خاطر چور کو مارنے یا قید میں ڈالنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 4878 سنن نسائی
إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو ، أَزْهَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَرَازِيُّ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنِي أَزْهَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَرَازِيُّ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ أَنَّهُ:" رَفَعَ إِلَيْهِ نَفَرٌ مِنْ الْكَلَاعِيِّينَ، أَنَّ حَاكَةً سَرَقُوا مَتَاعًا فَحَبَسَهُمْ أَيَّامًا، ثُمَّ خَلَّى سَبِيلَهُمْ فَأَتَوْهُ، فَقَالُوا: خَلَّيْتَ سَبِيلَ هَؤُلَاءِ بِلَا امْتِحَانٍ وَلَا ضَرْبٍ، فَقَالَ النُّعْمَانُ: مَا شِئْتُمْ , إِنْ شِئْتُمْ أَضْرِبْهُمْ، فَإِنْ أَخْرَجَ اللَّهُ مَتَاعَكُمْ فَذَاكَ , وَإِلَّا أَخَذْتُ مِنْ ظُهُورِكُمْ مِثْلَهُ، قَالُوا: هَذَا حُكْمُكَ؟، قَالَ: هَذَا حُكْمُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , وَرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کے پاس قبیلہ کلاع کے کچھ لوگ مقدمہ لائے کہ کچھ بنکروں نے سامان چرا لیا ہے، انہوں نے کچھ دنوں تک ان کو قید میں رکھا پھر چھوڑ دیا، تو وہ لوگ ان کے پاس آئے اور کہا: آپ نے انہیں کوئی تکلیف پہنچائے اور مارے بغیر چھوڑ دیا؟ نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا: تم کیا چاہتے ہو؟ کہو تو ان کو ماروں؟ اگر ان کے پاس تمہارا مال نکل آیا تو بہتر ہے ورنہ اسی قدر میں تمہاری پیٹھ پر ماروں گا؟ وہ بولے: کیا یہ آپ کا حکم ہے؟ انہوں نے کہا: یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا حکم ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4878]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الحدود 10 (4382)، (تحفة الأشراف: 11611) (حسن)»
وضاحت
۱؎: گویا شک و شبہ اور گمان کی بنیاد پر کچھ دنوں تک مجرم کو قید رکھنا کہ ممکن ہے وہ اعتراف جرم کر لے صحیح ہے، البتہ اعتراف سے پہلے اسے سزا دینا صحیح نہیں۔
قال الشيخ الألباني
حسن
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (4382) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 358
الحكم: حسن
حدیث نمبر: 4879 سنن نسائی
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ ، أَبُو أُسَامَةَ ، ابْنُ الْمُبَارَكِ ، مَعْمَرٍ ، بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ , عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ , عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" حَبَسَ نَاسًا فِي تُهْمَةٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
بہز بن حکیم کے دادا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ لوگوں کو ایک الزام میں قید میں رکھا۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4879]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الأقضیة 29 (3630)، سنن الترمذی/الدیات21(1417)، (تحفة الأشراف: 11382)، مسند احمد (5/2، 4) (حسن)»
قال الشيخ الألباني
سكت عنه الشيخ
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: سكت عنه الشيخ
حدیث نمبر: 4880 سنن نسائی
عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، مَعْمَرٍ ، بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" حَبَسَ رَجُلًا فِي تُهْمَةٍ , ثُمَّ خَلَّى سَبِيلَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
بہز بن حکیم کے دادا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک شخص کو ایک الزام میں قید میں رکھا، پھر اسے رہا کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4880]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ (حسن)»
قال الشيخ الألباني
حسن
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: حسن