بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: قتل خطا میں دیت کے اونٹوں کی عمر کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: قسامہ، قصاص اور دیت کے احکام و مسائل باب: قتل خطا میں دیت کے اونٹوں کی عمر کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 4806 سنن نسائی
عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، حَجَّاجٍ ، زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، خِشْفِ بْنِ مَالِكٍ ، ابْنَ مَسْعُودٍ
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ خِشْفِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ:" قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَةَ الْخَطَإِ عِشْرِينَ بِنْتَ مَخَاضٍ، وَعِشْرِينَ ابْنَ مَخَاضٍ ذُكُورًا، وَعِشْرِينَ بِنْتَ لَبُونٍ، وَعِشْرِينَ جَذَعَةً , وَعِشْرِينَ حِقَّةً".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قتل خطا کی دیت میں بیس اونٹنیاں ایک ایک سال کی جو دوسرے میں لگی ہوں، بیس اونٹ جو ایک ایک سال کے ہوں اور دوسرے میں لگے ہوں، بیس اونٹنیاں دو دو سال کی جو تیسرے میں لگی ہوں، بیس اونٹنیاں چار چار سال کی جو پانچویں میں لگی ہوں اور بیس اونٹنیاں تین تین سال کی جو چوتھے میں لگی ہوں دینے کا حکم کیا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4806]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الدیات 18 (4545)، سنن الترمذی/الدیات 1 (1386)، سنن ابن ماجہ/الدیات 6 (2631)، (تحفة الأشراف: 9198)، مسند احمد (1/450) (ضعیف) (اس کے راوی ”حجاج بن ارطاة“ مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کیے ہوئے ہیں، نیز ”خشف“ کی ثقاہت میں بھی کلام ہے)»
وضاحت
۱؎: یہ حدیث ضعیف ہے اس لیے پچھلی حدیث پر عمل ہو گا جو صحیح ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خیبر کے مقتول (جس کا ذکر قسامہ کے شروع میں گزرا) کی دیت میں سو اونٹ ادا کئے تھے جن میں کوئی بھی ابن مخاض نہیں تھا جس کا ذکر اس ضعیف حدیث میں ہے۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (4545) ترمذي (1386) ابن ماجه (2631) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 357
الحكم: ضعيف