بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: مال لگائے بغیر تجارت میں حصہ دار بننے کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل باب: مال لگائے بغیر تجارت میں حصہ دار بننے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 4701 سنن نسائی
عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، يَحْيَى ، سُفْيَانَ ، أَبُو إِسْحَاق ، أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاق، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" اشْتَرَكْتُ أَنَا وَعَمَّارٌ , وَسَعْدٌ , يَوْمَ بَدْرٍ، فَجَاءَ سَعْدٌ بِأَسِيرَيْنِ , وَلَمْ أَجِئْ أَنَا , وَعَمَّارٌ بِشَيْءٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمار، سعد اور میں نے بدر کے دن حصہ داری کی، چنانچہ سعد دو قیدی لے کر آئے، ہم اور عمار کچھ بھی نہیں لائے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4701]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 3969 (ضعیف) (اس کے راوی ’’ابو عبیدہ‘‘ کا اپنے باپ ’’ابن مسعود‘‘ رضی الله عنہ سے سماع نہیں ہے، نیز ’’ابواسحاق‘‘ مدلس اور مختلط ہیں)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف، إسناده ضعيف، تقدم (3969) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 355
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 4702 سنن نسائی
نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، أَبِيهِ
أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ أُتِمَّ مَا بَقِيَ فِي مَالِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایک غلام میں اپنا حصہ آزاد کر دیا تو جتنا حصہ باقی ہے وہ بھی اسی کے مال سے آزاد ہو گا بشرطیکہ اس کے پاس غلام کی (بقیہ) قیمت بھر مال ہو ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4702]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/العتق 1 (1501)، الأیمان 12 (1501)، سنن ابی داود/العتق 6 (3946)، سنن الترمذی/الأحکام 14 (1347)، (تحفة الأشراف: 6935)، مسند احمد (2/ 34) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس حدیث کا تعلق اگلے باب سے ہے، کاتبوں کی غلطی سے یہ اس باب میں درج ہو گیا۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح