بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: قرض وصول کرنے میں اچھے سلوک اور نرمی برتنے کی فضیلت کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل باب: قرض وصول کرنے میں اچھے سلوک اور نرمی برتنے کی فضیلت کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 4698 سنن نسائی
عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، اللَّيْثُ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ رَجُلًا لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ وَكَانَ يُدَايِنُ النَّاسَ، فَيَقُولُ لِرَسُولِهِ: خُذْ مَا تَيَسَّرَ، وَاتْرُكْ مَا عَسُرَ، وَتَجَاوَزْ لَعَلَّ اللَّهَ تَعَالَى أَنْ يَتَجَاوَزَ عَنَّا فَلَمَّا هَلَكَ. قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ: هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا قَطُّ؟ , قَالَ: لَا، إِلَّا أَنَّهُ كَانَ لِي غُلَامٌ وَكُنْتُ أُدَايِنُ النَّاسَ فَإِذَا بَعَثْتُهُ لِيَتَقَاضَى، قُلْتُ لَهُ: خُذْ مَا تَيَسَّرَ وَاتْرُكْ مَا عَسُرَ وَتَجَاوَزْ لَعَلَّ اللَّهَ يَتَجَاوَزُ عَنَّا. قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: قَدْ تَجَاوَزْتُ عَنْكَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی نے کبھی کوئی بھلائی کا کام نہیں کیا تھا لیکن وہ لوگوں کو قرض دیا کرتا، پھر اپنے قاصد سے کہتا: جو قرض آسانی سے واپس ملے اسے لے لو اور جس میں دشواری پیش آئے، اسے چھوڑ دو اور معاف کر دو، شاید اللہ تعالیٰ ہماری غلطیوں کو معاف کر دے، جب وہ مر گیا تو اللہ تعالیٰ نے اس سے کہا: کیا تم نے کبھی کوئی خیر کا کام کیا؟ اس نے کہا: نہیں، سوائے اس کے کہ میرے پاس ایک لڑکا تھا، میں لوگوں کو قرض دیتا تھا جب میں اس لڑکے کو تقاضا کرنے کے لیے بھیجتا تو اس سے کہتا کہ جو آسانی سے ملے اسے لے لینا اور جس میں دشواری ہو، اسے چھوڑ دینا اور معاف کر دینا، شاید اللہ تعالیٰ ہمیں معاف کر دے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تمہیں معاف کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4698]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 12326)، مسند احمد (2/ 361) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: حسن صحيح
حدیث نمبر: 4699 سنن نسائی
هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، يَحْيَى ، الزُّبَيْدِيُّ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كَانَ رَجُلٌ يُدَايِنُ النَّاسَ وَكَانَ إِذَا رَأَى إِعْسَارَ الْمُعْسِرِ، قَالَ لِفَتَاهُ: تَجَاوَزْ عَنْهُ لَعَلَّ اللَّهَ تَعَالَى يَتَجَاوَزُ عَنَّا , فَلَقِيَ اللَّهَ فَتَجَاوَزَ عَنْهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایک شخص لوگوں کو قرض دیتا تھا، جب کسی مفلس (دیوالیہ) کی پریشانی دیکھتا تو اپنے آدمی سے کہتا: اسے معاف کر دو، شاید اللہ تعالیٰ ہمیں معاف فرمائے، پھر جب وہ اللہ تعالیٰ سے ملا تو اللہ تعالیٰ نے اسے معاف کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4699]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/البیوع 18 (2087)، الأنبیاء 54 (3480)، صحیح مسلم/المساقاة 6 (1562)، (تحفة الأشراف: 14108) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4700 سنن نسائی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، إِسْمَاعِيل ابْنِ عُلَيَّةَ ، يُونُسَ ، عَطَاءِ بْنِ فَرُّوخَ ، عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ إِسْمَاعِيل ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ فَرُّوخَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَدْخَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رَجُلًا كَانَ سَهْلًا مُشْتَرِيًا، وَبَائِعًا وَقَاضِيًا، وَمُقْتَضِيًا الْجَنَّةَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کو جنت میں داخل کر دیا جو خریدتے، بیچتے، (قرض) دیتے اور تقاضا کرتے ہوئے نرمی سے کام لیتا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4700]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابن ماجہ/التجارات 28 (2202)، (تحفة الأشراف: 9830)، مسند احمد (1/58، 67، 70) (حسن)»
قال الشيخ الألباني
حسن
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: حسن