إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، أَبِيهِ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَالِمٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنِ ابْتَاعَ نَخْلًا بَعْدَ أَنْ تُؤَبَّرَ فَثَمَرَتُهَا لِلْبَائِعِ , إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ , وَمَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَمَالُهُ لِلْبَائِعِ , إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی تابیر (پیوند کاری) ہو جانے کے بعد (کھجور کا) درخت خریدے تو اس کا پھل بائع کا ہو گا سوائے اس کے کہ خریدار شرط لگا دے، اور جو غلام بیچے اور اس کے پاس مال ہو تو اس کا مال بائع کا ہو گا سوائے اس کے کہ خریدار شرط لگا دے“۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4640]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/البیوع 15 (1543)، سنن ابی داود/البیوع 44 (3433)، سنن ابن ماجہ/التجارات 31 (2211)، (تحفة الأشراف: 6819) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح