بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: متعینہ مدت تک کے لیے ادھار بیچنے کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل باب: متعینہ مدت تک کے لیے ادھار بیچنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 4632 سنن نسائی
عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عُمَارَةُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، عِكْرِمَةُ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عِكْرِمَةُ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: كَانَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُرْدَيْنِ قِطْرِيَّيْنِ , وَكَانَ إِذَا جَلَسَ فَعَرِقَ فِيهِمَا ثَقُلَا عَلَيْهِ , وَقَدِمَ لِفُلَانٍ الْيَهُودِيِّ بَزٌّ مِنْ الشَّأْمِ , فَقُلْتُ: لَوْ أَرْسَلْتَ إِلَيْهِ فَاشْتَرَيْتَ مِنْهُ ثَوْبَيْنِ إِلَى الْمَيْسَرَةِ , فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ , فَقَالَ: قَدْ عَلِمْتُ مَا يُرِيدُ مُحَمَّدٌ , إِنَّمَا يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِمَالِي أَوْ يَذْهَبَ بِهِمَا , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَذَبَ قَدْ عَلِمَ أَنِّي مِنْ أَتْقَاهُمْ لِلَّهِ وَآدَاهُمْ لِلْأَمَانَةِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس دو قطری چادریں تھیں، جب آپ بیٹھتے اور ان میں پسینہ آتا تو وہ بھاری ہو جاتیں، ایک یہودی کا شام سے کپڑا آیا تو میں نے عرض کیا: اگر آپ اس کے پاس کسی کو بھیج کر تاوقت سہولت (قیمت ادا کرنے کے وعدہ پر) دو کپڑے خرید لیتے تو بہتر ہوتا، چنانچہ آپ نے اس کے پاس ایک شخص کو بھیجا، اس (یہودی) نے کہا: مجھے معلوم ہے محمد کیا چاہتے ہیں، وہ تو میرا مال ہضم کرنا چاہتے ہیں، یا یہ دونوں چادروں کو ہضم کرنا چاہتے ہیں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس نے جھوٹ کہا، اسے معلوم ہے کہ میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور سب سے زیادہ امانت کا ادا کرنے والا ہوں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4632]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/البیوع 7 (1213)، (تحفة الأشراف: 17400)، مسند احمد (6/147) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس طرح کی بیع پر اعتراض نہیں کیا، بلکہ اس یہودی کے پاس اس کے لیے آدمی بھیجا، اسی سے باب پر استدلال ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح