بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: اپنی ملکیت اور قبضہ میں لینے سے پہلے غلہ بیچنے کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل باب: اپنی ملکیت اور قبضہ میں لینے سے پہلے غلہ بیچنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 9
حدیث نمبر: 4599 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ ، ابْنِ الْقَاسِمِ ، مَالِكٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ , عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس نے غلہ خریدا تو وہ اسے اس وقت تک نہ بیچے جب تک اسے مکمل طور پر اپنی تحویل میں نہ لے لے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4599]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/البیوع 51 (2126)، 54(2135)، 55 (2136)، صحیح مسلم/البیوع 8 (1526)، سنن ابی داود/البیوع 67 (3492)، سنن ابن ماجہ/التجارات 37 (2226)، (تحفة الأشراف: 8327)، موطا امام مالک/البیوع 19 (40)، مسند احمد (1/56، 62)، سنن الدارمی/البیوع 25 (2602) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: خرید و فروخت میں شریعت اسلامیہ کا بنیادی اصول یہ ہے کہ خریدی ہوئی چیز کو خریدار جب تک بیچنے والے سے مکمل طور پر اپنی تحویل میں نہ لے لے دوسرے سے نہ بیچے، اور یہ تحویل و تملک اور قبضہ ہر چیز پر اسی چیز کے حساب سے ہو گا، نیز اس سلسلے میں ہر علاقہ کے عرف (رسم رواج) کا اعتبار بھی ہو گا کہ وہاں کس چیز پر کیسے قبضہ مانا جاتا ہے، البتہ منقولہ چیزوں کے سلسلے میں شریعت نے ایک عام اصول برائے مکمل قبضہ یہ بتایا ہے کہ اس چیز کو بیچنے والے کی جگہ سے خریدار اپنی جگہ میں منتقل کر لے، یا ناپنے والی چیز کو ناپ لے اور تولنے والی چیز کو تول لے، اور اندازہ والی چیز کی جگہ بدل لے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4600 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، ابْنُ الْقَاسِمِ ، مَالِكٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس نے غلہ خریدا تو اسے اس وقت تک نہ بیچے جب تک اس کو اپنی تحویل میں نہ لے لے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4600]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 7251)، موطا امام مالک/البیوع 19 (41) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4601 سنن نسائی
أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ ، قَاسِمٌ ، سُفْيَانَ ، ابْنِ طَاوُسٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا قَاسِمٌ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِيعُهُ حَتَّى يَكْتَالَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو اناج خریدے تو اسے اس وقت تک نہ بیچے جب تک اسے ناپ نہ لے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4601]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/البیوع 54 (2132)، 55 (2135)، صحیح مسلم/البیوع 8 (1525)، سنن ابی داود/البیوع 67 (3496)، (تحفة الأشراف: 5707)، مسند احمد (1/252، 256، 368، 369)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 4603، 4604 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4602 سنن نسائی
إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، عَمْرٍو ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ عَمْرٍو , عَنْ طَاوُسٍ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ , وَالَّذِي قَبْلَهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی طرح سے سنا، (اس سے پہلی والی روایت میں «حتى يقبضه» کے الفاظ ہیں)۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4602]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/البیوع 55 (2135)، صحیح مسلم/البیوع 8 (1525)، سنن ابی داود/البیوع 67 (3497)، سنن الترمذی/البیوع 56 (1291)، سنن ابن ماجہ/التجارات 37 (2227)، (تحفة الأشراف: 5736)، مسند احمد (1/215، 221، 270، 285) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4603 سنن نسائی
قُتَيْبَةُ ، سُفْيَانُ ، ابْنِ طَاوُسٍ ، طَاوُسٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ , عَنْ طَاوُسٍ , قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ , يَقُولُ: أَمَّا الَّذِي نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْ يُبَاعَ حَتَّى يُسْتَوْفَى الطَّعَامُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
طاؤس کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے ہوئے سنا: ناپ تول کر لینے سے جس چیز کے پہلے بیچنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے روکا وہ غلہ ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4603]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 4601 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: غلہ تو ہے ہی، غلہ کی طرح منتقل کی جانے والی، ناپنے اور تولے جانے والی دیگر چیزوں کے بارے میں بھی یہی حکم ہو گا، جیسا کہ خود ابن عباس رضی اللہ عنہما کا خیال ہے، دیکھئیے اگلی روایت۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4604 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ابْنِ طَاوُسٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِيعُهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ" , قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَأَحْسَبُ أَنَّ كُلَّ شَيْءٍ بِمَنْزِلَةِ الطَّعَامِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی گیہوں خریدے تو اسے نہ بیچے جب تک اس کو اپنی تحویل میں نہ لے لے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ ہر چیز گیہوں ہی کی طرح ہے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4604]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 4601 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4605 سنن نسائی
إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ ، حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، صَفْوَانَ بْنِ مَوْهَبٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ , عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ , قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ , عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مَوْهَبٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ , عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَبِعْ طَعَامًا حَتَّى تَشْتَرِيَهُ وَتَسْتَوْفِيَهُ" ‏.‏
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم اناج (غلہ) مت بیچو جب تک اسے خرید نہ لو اور ناپ نہ لو۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4605]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 3430)، مسند احمد (3/402، 403) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4606 سنن نسائی
إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ ، حَجَّاجٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِصْمَةَ الْجُشَمِيِّ ، حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ , وَأَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ذَلِكَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِصْمَةَ الْجُشَمِيِّ , عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اس سند سے بھی حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ حدیث روایت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4606]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 3429) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4607 سنن نسائی
سُلَيْمَانُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، حِزَامِ بْنِ حَكِيمٍ ، حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مَنْصُورٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ , عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ , عَنْ حِزَامِ بْنِ حَكِيمٍ , قَالَ: قَالَ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ: ابْتَعْتُ طَعَامًا مِنْ طَعَامِ الصَّدَقَةِ , فَرَبِحْتُ فِيهِ قَبْلَ أَنْ أَقْبِضَهُ , فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ , فَقَالَ:" لَا تَبِعْهُ حَتَّى تَقْبِضَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے صدقے کے اناج میں سے خریدا تو اسے اپنی تحویل میں لینے سے پہلے ہی مجھے اس میں نفع ملا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ نے فرمایا: جب تک تحویل میں نہ لے لو اسے مت بیچو۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4607]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 3424) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح