مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ ، الْمُعَافَى ، حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعَافَى , عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ , عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ: رُوَيْدَكَ أَسْأَلُكَ إِنِّي أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ بِالدَّنَانِيرِ , وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ؟ , قَالَ:" لَا بَأْسَ أَنْ تَأْخُذَ بِسِعْرِ يَوْمِهَا , مَا لَمْ تَفْتَرِقَا وَبَيْنَكُمَا شَيْءٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: ٹھہریے! میں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں؟ میں بقیع میں دینار کے بدلے اونٹ بیچتا ہوں اور درہم لیتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اسی دن کے بھاؤ سے لو تو کوئی حرج نہیں جب تک کہ تم ایک دوسرے سے الگ نہ ہو اور تمہارے درمیان ایک دوسرے پر کچھ باقی ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4593]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 4586 (ضعیف)»
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: ضعيف