قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، سُفْيَانُ ، حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ ، سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيكٍ ، جَابِرٍ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيكٍ , قَالَ قُتَيْبَةُ: عَتِيكٌ بِالْكَافِ وَالصَّوَابُ عَتِيقٌ , عَنْ جَابِرٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ سِنِينَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کئی سال تک کے لیے پھل بیچنے سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4535]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم /البیوع 16 (1536)، سنن ابی داود/البیوع 24 (3374)، سنن ابن ماجہ/التجارات 33 (2218)، (تحفة الأشراف: 2269)، مسند احمد (3/309)، ویأتی عند المؤلف برقم: 4631) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: کیونکہ اس کی کوئی ضمانت نہیں کہ اگلے سالوں میں پھل آئیں گے یا نہیں، اور پھل نہ آنے کی صورت میں خریدار کا گھاٹا ہی گھاٹا ہے اس طرح کی بیع کو ”بیع غرر“ یعنی دھوکے کی بیع کہا جاتا ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح