بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: ملامسہ اور منابذہ کی شرح و تفسیر۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل باب: ملامسہ اور منابذہ کی شرح و تفسیر۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 5
حدیث نمبر: 4517 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى بْنِ بَهْلُولٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ حَرْبٍ ، الزُّبَيْدِيِّ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدًا ، أَبَا هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى بْنِ بَهْلُولٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَرْبٍ , عَنْ الزُّبَيْدِيِّ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدًا , يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُلَامَسَةِ , وَالْمُنَابَذَةِ , وَالْمُلَامَسَةُ: أَنْ يَتَبَايَعَ الرَّجُلَانِ بِالثَّوْبَيْنِ تَحْتَ اللَّيْلِ يَلْمِسُ كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمَا ثَوْبَ صَاحِبِهِ بِيَدِهِ , وَالْمُنَابَذَةُ: أَنْ يَنْبِذَ الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ الثَّوْبَ وَيَنْبِذَ الْآخَرُ إِلَيْهِ الثَّوْبَ فَيَتَبَايَعَا عَلَى ذَلِكَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیع منابذہ اور ملامسہ سے منع فرمایا، ملامسہ یہ ہے کہ دو آدمی رات کو دو کپڑوں کی بیع کریں، ہر ایک دوسرے کا کپڑا چھو لے۔ منابذہ یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے آدمی کی طرف کپڑا پھینکے اور دوسرا اس کی طرف کپڑا پھینکے اور اسی بنیاد پر بیع کر لیں۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4517]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 13261) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4518 سنن نسائی
أَبُو دَاوُدَ ، يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عَامِرَ بْنَ سَعْدٍ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ صَالِحٍ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , أَنَّ عَامِرَ بْنَ سَعْدٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُلَامَسَةِ , وَالْمُلَامَسَةُ: لَمْسُ الثَّوْبِ لَا يَنْظُرُ إِلَيْهِ , وَعَنِ الْمُنَابَذَةِ , وَالْمُنَابَذَةُ: طَرْحُ الرَّجُلِ ثَوْبَهُ إِلَى الرَّجُلِ قَبْلَ أَنْ يُقَلِّبَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ملامسہ سے منع فرمایا۔ اور ملامسہ یہ ہے کہ کپڑے کو چھولے اس کی طرف دیکھے نہیں، اور منابذہ سے منع فرمایا، منابذہ یہ ہے کہ آدمی کپڑا دوسرے آدمی کی طرف پھینکے اور وہ اسے الٹ کر نہ دیکھے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4518]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 4514 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4519 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسَتَيْنِ , وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ , أَمَّا الْبَيْعَتَانِ: فَالْمُلَامَسَةُ وَالْمُنَابَذَةُ , وَالْمُنَابَذَةُ: أَنْ يَقُولَ: إِذَا نَبَذْتُ هَذَا الثَّوْبَ فَقَدْ وَجَبَ يَعْنِي الْبَيْعَ , وَالْمُلَامَسَةُ: أَنْ يَمَسَّهُ بِيَدِهِ وَلَا يَنْشُرَهُ وَلَا يُقَلِّبَهُ إِذَا مَسَّهُ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو قسم کے لباس اور دو قسم کی بیع سے منع فرمایا ہے، رہی دو قسم کی بیع تو وہ ملامسہ اور منابذہ ہیں۔ منابذہ یہ ہے کہ وہ کہے: جب میں اس کپڑے کو پھینکوں تو بیع واجب ہو گئی، اور ملامسہ یہ ہے کہ وہ اسے اپنے ہاتھ سے چھولے اور جب چھولے تو اسے پھیلائے نہیں اور نہ اسے الٹ پلٹ کرے تو بیع واجب ہو گئی۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4519]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 4516 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4520 سنن نسائی
هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ ، أَبِي ، جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، أَبِيهِ
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ , قَالَ: بَلَغَنِي عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَالِمٍ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسَتَيْنِ , وَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعَتَيْنِ , عَنِ الْمُنَابَذَةِ , وَالْمُلَامَسَةِ , وَهِيَ بُيُوعٌ كَانُوا يَتَبَايَعُونَ بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو قسم کے لباس سے منع فرمایا، اور ہمیں دو قسم کی بیع منابذہ اور ملامسہ سے روکا، اور یہ دونوں ایسی بیع ہیں جنہیں زمانہ جاہلیت میں لوگ کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4520]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 6809)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأطعمة 19 (3774) (صحیح) (سند میں جعفر اور زہری کے درمیان انقطاع ہے، مگر پچھلی روایت سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني
صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 4521 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، الْمُعْتَمِرُ ، عُبَيْدَ اللَّهِ ، خُبَيْبٍ ، حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , قَالَ , حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ , قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ , عَنْ خُبَيْبٍ , عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ نَهَى عَنْ بَيْعَتَيْنِ , أَمَّا الْبَيْعَتَانِ فَالْمُنَابَذَةُ وَالْمُلَامَسَةُ , وَزَعَمَ أَنَّ الْمُلَامَسَةَ: أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ أَبِيعُكَ ثَوْبِي بِثَوْبِكَ وَلَا يَنْظُرُ وَاحِدٌ مِنْهُمَا إِلَى ثَوْبِ الْآخَرِ وَلَكِنْ يَلْمِسُهُ لَمْسًا , وَأَمَّا الْمُنَابَذَةُ: أَنْ يَقُولُ: أَنْبِذُ مَا مَعِي وَتَنْبِذُ مَا مَعَكَ لِيَشْتَرِيَ أَحَدُهُمَا مِنِ الْآخَرِ , وَلَا يَدْرِي كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا كَمْ مَعَ الْآخَرِ وَنَحْوًا مِنْ هَذَا الْوَصْفِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو طرح کی بیع سے منع فرمایا، رہی دونوں بیع تو وہ منابذہ اور ملامسہ ہیں اور ملامسہ یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے آدمی سے کہے: میں تمہارے کپڑے سے اپنا کپڑا بیچ رہا ہوں اور ان میں کوئی دوسرے کے کپڑے کو نہ دیکھے بلکہ صرف اسے چھولے، رہی منابذہ تو وہ یہ ہے کہ وہ کہے: جو میرے پاس ہے میں اسے پھینک رہا ہوں اور جو تمہارے پاس ہے اسے تم پھینکو تاکہ ان میں سے ایک دوسرے کی چیز خرید لے حالانکہ ان میں سے کوئی بھی یہ نہیں جانتا کہ دوسرے کے پاس کتنا اور کس قسم کا کپڑا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4521]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/المواقیت 30 (584)، اللباس 20 (5819، 5820)، صحیح مسلم/البیوع 1 (1511)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 147 (1248)، (تحفة الأشراف: 12265)، مسند احمد (2/477، 496، 510) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح