بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: بیع ملامسہ کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل باب: بیع ملامسہ کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 4513 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ ، ابْنِ الْقَاسِمِ ، مَالِكٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، وَأَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ , عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ , قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ , وَأَبِي الزِّنَادِ , عَنْ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنِ الْمُلَامَسَةِ , وَالْمُنَابَذَةِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ملامسہ اور منابذہ سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4513]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/البیوع 63 (2146)، (تحفة الأشراف: 13827)، موطا امام مالک/البیوع 35 (76)، مسند احمد (2/279، 319، 419، 464، 476، 480، 491، 496، 521، 529) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: زمانہ جاہلیت میں منابذہ، ملامسہ، یا کنکری پھینک کر خرید و فروخت کا عام رواج تھا، ان سارے معاملات میں دھوکا، اور مال وقیمت کی تحدید و تعیین نہیں ہوتی تھی، اس لیے یہ معاملات جھگڑے کا سبب ہوتے ہیں یا کسی فریق کے سخت گھاٹے میں پڑ جانے سے اسے سخت تکلیف ہوتی ہے، اس لیے ان سے شریعت اسلامیہ نے منع کر دیا ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح