بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: فرضی بھاؤ پر بھاؤ بڑھانے کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل باب: فرضی بھاؤ پر بھاؤ بڑھانے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 4509 سنن نسائی
قُتَيْبَةُ ، مَالِكٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنِ النَّجْشِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرضی بھاؤ پر بھاؤ بڑھانے سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4509]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الحیل 6 (6963)، صحیح مسلم/البیوع 4 (1516)، سنن ابن ماجہ/التجارات 14 (2173)، (تحفة الأشراف: 8348)، موطا امام مالک/البیوع 45 (97)، مسند احمد (2/7، 63، 91، 156)، سنن الدارمی/البیوع 33 (2609) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: «نجش» : ایک چیز کا خریدنا مقصود نہ ہو لیکن دوسرے کو ٹھگانے کے لیے قیمت بڑھا دینا۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4510 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ ، أَبِي ، الزُّهْرِيِّ ، أَبُو سَلَمَةَ ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى , قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ الزُّهْرِيِّ , أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ , وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ , أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يَبِيعُ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ , وَلَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ , وَلَا تَنَاجَشُوا , وَلَا يَزِيدُ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ , وَلَا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ الْأُخْرَى لِتَكْتَفِئَ مَا فِي إِنَائِهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا: آدمی اپنے (کسی مسلمان) بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے، اور نہ کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان بیچے، اور نہ بھاؤ پر بھاؤ بڑھانے کا کام کرے، اور نہ آدمی اپنے بھائی کی بیع پر اضافہ کرے (کہ میں اس سامان کا تو اتنا اتنا مزید دوں گا) اور نہ کوئی عورت سوکن کی طلاق کا مطالبہ کرے تاکہ جو اس کے برتن میں ہے اسے اپنے برتن میں انڈیل لے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4510]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 13171) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4511 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، يَزِيدُ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ , وَلَا تَنَاجَشُوا , وَلَا يَزِيدُ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ , وَلَا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَسْتَكْفِئَ بِهِ مَا فِي صَحْفَتِهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان نہ بیچے، اور نہ کوئی فرضی بھاؤ پر بھاؤ بڑھانے کا کام کرے، اور نہ آدمی اپنے بھائی کی بیع پر اضافہ کرے، اور نہ عورت اپنی سوکن کی طلاق کا مطالبہ کرے تاکہ جو اس کے برتن میں ہے اسے اپنے میں انڈیل لے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4511]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 4506 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح