مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ ، أَبِي ، الزُّهْرِيِّ ، أَبُو سَلَمَةَ ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى , قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ الزُّهْرِيِّ , أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ , وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ , أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يَبِيعُ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ , وَلَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ , وَلَا تَنَاجَشُوا , وَلَا يَزِيدُ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ , وَلَا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ الْأُخْرَى لِتَكْتَفِئَ مَا فِي إِنَائِهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا: ”آدمی اپنے (کسی مسلمان) بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے، اور نہ کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان بیچے، اور نہ بھاؤ پر بھاؤ بڑھانے کا کام کرے، اور نہ آدمی اپنے بھائی کی بیع پر اضافہ کرے (کہ میں اس سامان کا تو اتنا اتنا مزید دوں گا) اور نہ کوئی عورت سوکن کی طلاق کا مطالبہ کرے تاکہ جو اس کے برتن میں ہے اسے اپنے برتن میں انڈیل لے“۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4510]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 13171) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح