بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: مہاجر (شہری) اعرابی (دیہاتی) کا مال بیچے کیسا ہے؟
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل باب: مہاجر (شہری) اعرابی (دیہاتی) کا مال بیچے کیسا ہے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 4496 سنن نسائی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ تَمِيمٍ ، حَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ تَمِيمٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ , عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ , عَنْ أَبِي حَازِمٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ التَّلَقِّي , وَأَنْ يَبِيعَ مُهَاجِرٌ لِلْأَعْرَابِيِّ , وَعَنِ التَّصْرِيَةِ , وَالنَّجْشِ , وَأَنْ يَسْتَامَ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ , وَأَنْ تَسْأَلَ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے باہر نکل کر سامان خریدنے سے، مہاجر (شہری) کو دیہاتی کا مال بیچنے سے ۱؎، جانوروں کے تھن میں قیمت بڑھانے کے مقصد سے دودھ چھوڑنے سے، خود خریدنا مقصود نہ ہو لیکن دوسرے کو ٹھگانے کے لیے بڑھ بڑھ کر قیمت لگانے سے اور اپنے بھائی کے مول پر بھاؤ بڑھانے سے اور اپنی سوکن ۲؎ کے لیے طلاق کا مطالبہ کرنے سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4496]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«الشروط 8 (2723)، 11(2727)، النکاح 53 (5152)، القدر 4 (6601)، صحیح مسلم/النکاح 6 (1413)، البیوع 4 (1515)، (تحفة الأشراف: 13411) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: «تلقی» (شہر سے باہر جا کر بازار آنے والے تاجر کا مال خریدنے) میں نیز دیہات سے شہر کے بازار میں مال لانے والے سے بازار سے پہلے ہی مال خرید لینے میں اس طرح کے دونوں تاجروں نیز شہر کے عام باشندوں کو بھی نقصان کا اندیشہ ہے اس لیے اس طرح کی خریداری سے منع کر دیا گیا ہے تاجر کا نقصان اس طرح ہو سکتا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ بازار میں سامان کا بھاؤ زیادہ ہو اور تاجر کا نقصان ہو جائے اور شہر کے باشندوں کا نقصان اس طرح ہو گا کہ درمیان میں ایک اور واسطہ ہو جانے کے سبب سامان کا بھاؤ زیادہ ہو جائے۔ ۲؎: یعنی ہونے والی سوکن، اس کی صورت یہ ہے کہ کوئی آدمی اپنی کسی بیوی کی موجودگی میں کسی دوسری عورت کو نکاح کا پیغام دے تو وہ عورت اس سے اپنی پہلی بیوی کو طلاق دے دینے کی شرط رکھے، یہ ممنوع ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح