إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، وَوَكِيعٌ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ , وَوَكِيعٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ الْخَرَاجَ بِالضَّمَانِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ «خراج» (نفع) مال کی ضمانت سے جڑا ہوا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4495]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/البیوع 73 (3509)، سنن الترمذی/البیوع 53 (1285)، سنن ابن ماجہ/التجارات 43 (2242)، (تحفة الأشراف: 16755)، مسند احمد (6/49، 208، 237) (حسن)»
وضاحت
۱؎: مثلاً خریدار نے ایک غلام خریدا اسی دوران غلام نے کچھ کمائی کی پھر غلام میں کچھ نقص اور عیب نکل آیا تو خریدار نے اسے بیچنے والے کو لوٹا دیا اس کے کمائی کا حقدار خریدار ہو گا بیچنے والا نہیں کیونکہ غلام کے کھو جانے یا بھاگ جانے کی صورت میں خریدار ہی اس کا ضامن ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: حسن