بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: کمائی میں شکوک و شبہات سے دور رہنے کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل باب: کمائی میں شکوک و شبہات سے دور رہنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 4458 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، ابْنُ عَوْنٍ ، الشَّعْبِيِّ ، النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَوَاللَّهِ لَا أَسْمَعُ بَعْدَهُ أَحَدًا، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ، وَإِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ، وَإِنَّ بَيْنَ ذَلِكَ أُمُورًا مُشْتَبِهَاتٍ"، وَرُبَّمَا قَالَ:" وَإِنَّ بَيْنَ ذَلِكَ أُمُورًا مُشْتَبِهَةً"، قَالَ:" وَسَأَضْرِبُ لَكُمْ فِي ذَلِكَ، مَثَلًا إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَمَى حِمًى، وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا حَرَّمَ، وَإِنَّهُ مَنْ يَرْتَعُ حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يُخَالِطَ الْحِمَى"، وَرُبَّمَا قَالَ:" إِنَّهُ مَنْ يَرْعَى حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يُرْتِعَ فِيهِ، وَإِنَّ مَنْ يُخَالِطُ الرِّيبَةَ يُوشِكُ أَنْ يَجْسُرَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا (اللہ کی قسم، میں آپ سے سن لینے کے بعد کسی سے نہیں سنوں گا) آپ فرما رہے تھے: حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے، ان دونوں کے بیچ کچھ شبہ والی چیزیں ہیں (یا آپ نے «مشتبہات» کے بجائے «مشتبھۃً» کہا ۱؎) - اور فرمایا: میں تم سے اس سلسلے میں ایک مثال بیان کرتا ہوں: اللہ تعالیٰ نے ایک چراگاہ بنائی تو اللہ کی چراگاہ یہ محرمات ہیں، جو جانور بھی اس چراگاہ کے پاس چرے گا قریب ہے کہ وہ اس میں داخل ہو جائے یا یوں فرمایا: جو بھی اس چراگاہ کے جانور پاس چرائے گا قریب ہے کہ وہ جانور اس میں سے میں چر لے۔ اور جو مشکوک کام کرے تو قریب ہے کہ وہ (حرام کام کرنے کی) جرات کر بیٹھے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4458]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الإیمان 39 (52)، البیوع2 (2051)، صحیح مسلم/البیوع 40 المساقاة 20 (1599)، سنن ابی داود/المساقاة 3 (3329، 3330)، سنن الترمذی/المساقاة 1 (1205)، سنن ابن ماجہ/الفتن 14 (2984)، (تحفة الأشراف: 11624)، مسند احمد (4/267، 269، 270، 271، 274، 275)، سنن الدارمی/البیوع 1 (2573)، ویأتی عند المؤلف فی الأشربة50 (برقم 5713) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: گویا دنیاوی چیزیں تین طرح کی ہیں: حلال، حرام اور مشتبہ (شک و شبہہ والی چیزیں) پس حلال چیزیں وہ ہیں جو کتاب و سنت میں بالکل واضح ہیں جیسے دودھ، شہد، میوہ، گائے اور بکری وغیرہ، اسی طرح حرام چیزیں بھی کتاب و سنت میں واضح ہیں جیسے شراب، زنا، قتل اور جھوٹ وغیرہ اور مشتبہ وہ ہے جو کسی حد تک حلال سے اور کسی حد تک حرام سے، یعنی دونوں سے مشابہت رکھتی ہو جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے راستہ میں ایک کھجور پڑی ہوئی دیکھی تو فرمایا کہ اگر اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ یہ صدقہ کی ہو سکتی ہے تو میں اسے کھا لیتا۔ اس لیے مشتبہ امر سے اپنے آپ کو بچا لینا ضروری ہے، کیونکہ اسے اپنانے کی صورت میں حرام میں پڑنے کا خطرہ ہے، نیز شبہ والی چیز میں پڑتے پڑتے آدمی حرام میں پڑنے اور اسے اپنانے کی جرات و جسارت کر سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4459 سنن نسائی
الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ ، أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، سُفْيَانَ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ مَا يُبَالِي الرَّجُلُ مِنْ أَيْنَ أَصَابَ الْمَالَ مِنْ حَلَالٍ، أَوْ حَرَامٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ آدمی کو اس بات کی فکر و پروا نہ ہو گی کہ اسے مال کہاں سے ملا، حلال طریقے سے یا حرام طریقے سے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4459]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/البیوع 23 (2083)، (تحفة الأشراف: 13016)، مسند احمد (2/435، 452، 505)، سنن الدارمی/البیوع 5 (2578) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4460 سنن نسائی
قُتَيْبَةُ ، ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي خَيْرَةَ ، الْحَسَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي خَيْرَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَأْكُلُونَ الرِّبَا، فَمَنْ لَمْ يَأْكُلْهُ أَصَابَهُ مِنْ غُبَارِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ وہ سود کھائیں گے اور جس نے اسے نہیں کھایا، اس پر بھی اس کا غبار پڑ کر رہے گا۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4460]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/البیوع 3 (3331)، سنن ابن ماجہ/التجارات 58 (2278)، (تحفة الأشراف: 12241)، مسند احمد 2/494 (ضعیف) (حسن بصری کا ابوہریرہ رضی الله عنہ سے سماع نہیں ہے، نیز ’’سعید‘‘ لین الحدیث ہیں)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (3331) ابن ماجه (2278) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 354
الحكم: ضعيف