بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: ذبح کیے جانے والے جانور کو نحر کرنے کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: قربانی کے احکام و مسائل باب: ذبح کیے جانے والے جانور کو نحر کرنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 4425 سنن نسائی
قُتَيْبَةُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، سُفْيَانُ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، فَاطِمَةَ ، أَسْمَاءَ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ , قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ:" نَحَرْنَا فَرَسًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلْنَاهُ"، وَقَالَ قُتَيْبَةُ فِي حَدِيثِهِ: فَأَكَلْنَا لَحْمَهُ. خَالَفَهُ عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں ایک گھوڑا نحر کیا اور اسے کھایا۔ قتیبہ نے ( «فاکلناہ» کے بجائے) «فاکلنا لحمہ» پھر ہم نے اس کا گوشت کھایا کہا۔ عبدہ بن سلیمان نے سفیان کی مخالفت کی ہے اور اسے یوں روایت کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4425]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 4411 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4426 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ ، عَبْدَةُ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، فَاطِمَةَ ، أَسْمَاءَ
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ:" ذَبَحْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا، وَنَحْنُ بِالْمَدِينَةِ فَأَكَلْنَاهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں ایک گھوڑا ذبح کیا، ہم مدینے میں تھے پھر ہم نے اسے کھایا۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4426]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 4411 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی «نحرنا» کی جگہ «ذبحنا» ہے، اور ہشام کے اکثر شاگردوں کی روایت «نحرنا» ہی کی ہے، صرف عبدہ کی روایت میں «ذبحنا» ہے اسی اختلاف الفاظ سے استدلال کرتے ہوئے مؤلف نے یہ باب باندھا ہے بہرحال نحر و ذبح دونوں جائز ہیں، مقصد خون بہانا ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح