إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ ، خَالِدٌ ، شُعْبَةَ ، سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَبَايَةَ بْنِ رَافِعٍ ، رَافِعٍ
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ رَافِعٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَاقُو الْعَدُوِّ غَدًا، وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى؟، قَالَ:" مَا أَنْهَرَ الدَّمَ، وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَكُلْ مَا خَلَا السِّنَّ، وَالظُّفُرَ"، قَالَ: فَأَصَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهْبًا فَنَدَّ بَعِيرٌ، فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ، فَقَالَ:" إِنَّ لِهَذِهِ النَّعَمِ، أَوْ قَالَ: الْإِبِلِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، فَمَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا , فَافْعَلُوا بِهِ هَكَذَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کل دشمن سے ملیں گے اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں، آپ نے فرمایا: ”دانت اور ناخن کے علاوہ جس کسی آلہ سے (جانور کا) خون بہہ جائے اور اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو تو اسے کھاؤ“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کچھ اونٹ اور غنیمت کا مال ملا، ان میں سے ایک اونٹ بدک کر بھاگ گیا، ایک شخص نے اسے تیر مارا، جس سے وہ رک گیا، آپ نے فرمایا: ”ان جانوروں میں، یا یوں فرمایا: ان اونٹوں میں، جنگل کے وحشی جانوروں کی طرح بعض بدکنے والے ہوتے ہیں تو جو تم کو ان میں سے کوئی (پکڑنے میں) تھکا دے، تو اس کے ساتھ اسی طرح کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4414]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 4302 (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح