بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: لکڑی سے ذبح کرنا جائز ہے۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: قربانی کے احکام و مسائل باب: لکڑی سے ذبح کرنا جائز ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 4406 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ ، خَالِدٍ ، شُعْبَةَ ، سِمَاكٍ ، مُرِّيَّ بْنَ قَطَرِيٍّ ، عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَإِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ , عَنْ خَالِدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُرِّيَّ بْنَ قَطَرِيٍّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرْسِلُ كَلْبِي فَآخُذُ الصَّيْدَ فَلَا أَجِدُ مَا أُذَكِّيهِ بِهِ، فَأَذْبَحُهُ بِالْمَرْوَةِ، وَبِالْعَصَا؟، قَالَ:" أَنْهِرِ الدَّمَ بِمَا شِئْتَ، وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اپنا کتا چھوڑتا، اور شکار کو پا لیتا ہوں، میں پھر کوئی ایسی چیز نہیں پاتا جس سے میں ذبح کروں تو کیا میں دھاردار پتھر اور لکڑی سے ذبح کر سکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: جس چیز سے چاہو خون بہاؤ اور اس پر اللہ کا نام لو۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4406]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 4309 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4407 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ ، جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، أَيُّوبُ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , فَلَقِيتُ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ فَحَدَّثَنِي، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:" كَانَتْ لِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ نَاقَةٌ تَرْعَى فِي قِبَلِ أُحُدٍ، فَعُرِضَ لَهَا , فَنَحَرَهَا بِوَتَدٍ، فَقُلْتُ لِزَيْدٍ: وَتَدٌ مِنْ خَشَبٍ، أَوْ حَدِيدٍ؟، قَالَ: لَا، بَلْ خَشَبٌ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَسَأَلَهُ , فَأَمَرَهُ بِأَكْلِهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انصار میں سے ایک شخص کی ایک اونٹنی تھی، جو احد پہاڑ کی طرف چرتی تھی، اسے عارضہ لاحق ہو گیا، تو اس نے اسے کھونٹی سے ذبح کر دیا۔ میں نے زید بن اسلم سے کہا: لکڑی کی کھونٹی یا لوہے کی؟ کہا: لوہا نہیں، بلکہ لکڑی کی کھونٹی سے، پھر اس انصاری نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے پوچھا تو آپ نے اسے کھانے کا حکم دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4407]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 4184) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح الإسناد