بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: پھٹے کان والے جانور کی قربانی منع ہے۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: قربانی کے احکام و مسائل باب: پھٹے کان والے جانور کی قربانی منع ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 4380 سنن نسائی
هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ، زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ ، أَبُو إِسْحَاق ، شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ ، عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يُضَحَّى بِمُقَابَلَةٍ، وَلَا مُدَابَرَةٍ، وَلَا شَرْقَاءَ، وَلَا خَرْقَاءَ، وَلَا عَوْرَاءَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سامنے سے اور پیچھے سے کان کٹے ہوئے، اور کان چرے ہوئے اور کان پھٹے ہوئے اور کانے جانوروں کی قربانی نہ کی جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4380]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 4377 (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2804) ترمذي (1498) ابن ماجه (3142) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 354
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 4381 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، خَالِدٌ ، شُعْبَةُ ، سَلَمَةَ وَهُوَ ابْنُ كُهَيْلٍ ، حُجَيَّةَ بْنَ عَدِيٍّ ، عَلِيًّا
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , أَنَّ سَلَمَةَ وَهُوَ ابْنُ كُهَيْلٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: سَمِعْتُ حُجَيَّةَ بْنَ عَدِيٍّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيًّا، يَقُولُ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ، وَالْأُذُنَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں آنکھ اور کان دیکھ لینے کا حکم دیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4381]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/الضحایا 9 (1503)، سنن ابن ماجہ/الضحایا 8 (3143)، (تحفة الأشراف: 1064)، مسند احمد (1/104) سنن الدارمی/الأضاحی 3 (1994) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: حسن صحيح