بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: گوریا کھانے کی اباحت کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: شکار اور ذبیحہ کے احکام و مسائل باب: گوریا کھانے کی اباحت کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 4354 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ ، سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، صُهَيْبٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، قَالَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ صُهَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَامِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا مِنْ إِنْسَانٍ قَتَلَ عُصْفُورًا فَمَا فَوْقَهَا بِغَيْرِ حَقِّهَا، إِلَّا سَأَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهَا"، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا حَقُّهَا؟، قَالَ:" يَذْبَحُهَا فَيَأْكُلُهَا، وَلَا يَقْطَعُ رَأْسَهَا يَرْمِي بِهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو بھی انسان کسی گوریا، یا اس سے بھی زیادہ چھوٹی چڑیا کو ناحق قتل کرے گا، اللہ تعالیٰ اس سے اس کے متعلق سوال کرے گا، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! اس کا حق کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ اسے ذبح کرے اور کھائے اور اس کا سر کاٹ کر نہ پھینکے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4354]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8829)، مسند احمد (2/166، 197، 210)، سنن الدارمی/الأضاحي 16 (2021)، ویأتي عند المؤلف في الضحایا 42 (برقم: 4450) (حسن) (تراجع الالبانی 457، صحیح الترغیب والت رہیب 2266)»
وضاحت
۱؎: یہ حدیث گرچہ ضعیف ہے، لیکن دیگر دلائل سے گوریا حلال پرندوں میں سے ہے (دیکھئیے پچھلی حدیث)۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: ضعيف