إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، عُمَرُ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أُبْلِغَ عُمَرُ أَنَّ سَمُرَةَ بَاعَ خَمْرًا، قَالَ: قَاتَلَ اللَّهُ سَمُرَةَ , أَلَمْ يَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ فَجَمَّلُوهَا". قَالَ سُفْيَانُ: يَعْنِي أَذَابُوهَا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ کو خبر پہنچی کہ سمرہ رضی اللہ عنہ نے شراب بیچی ہے تو انہوں نے کہا: اللہ سمرہ کو ہلاک و برباد کرے، کیا اسے نہیں معلوم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ یہودیوں کو ہلاک و برباد کرے، ان پر چربی حرام کی گئی تو انہوں نے اسے گلایا۔ سفیان کہتے ہیں: یعنی اسے پگھلایا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4262]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/البیوع 103(2223)، الأنبیاء 50 (3460)، صحیح مسلم/المساقاة 13 (1582)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 7 (3383)، (تحفة الأشراف: 10501)، مسند احمد (1/25)، سنن الدارمی/الأشربة 9 (2150) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: پھر اس کا تیل بیچا اور اس کی قیمت کھائی۔
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح