هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، مِسْعَرٌ ، أَبِي حَصِينٍ ، الشَّعْبِيِّ ، عَاصِمٍ الْعَدَوِيِّ ، كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ: خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ تِسْعَةٌ: خَمْسَةٌ وَأَرْبَعَةٌ , أَحَدُ الْعَدَدَيْنِ مِنَ الْعَرَبِ، وَالْآخَرُ مِنَ الْعَجَمِ، فَقَالَ:" اسْمَعُوا، هَلْ سَمِعْتُمْ أَنَّهُ سَتَكُونُ بَعْدِي أُمَرَاءُ، مَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ فَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ، وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَلَيْسَ مِنِّي، وَلَسْتُ مِنْهُ، وَلَيْسَ يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ، وَمَنْ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهِمْ، وَلَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ، وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَهُوَ مِنِّي، وَأَنَا مِنْهُ، وَسَيَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے پاس آئے، ہم نو لوگ تھے، پانچ ایک طرح کے اور چار دوسری طرح کے، ان میں سے کچھ عرب تھے اور کچھ عجم۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! کیا تم نے سنا؟ میرے بعد عنقریب کچھ امراء ہوں گے، جو ان کے یہاں جائے گا اور ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے گا اور ظلم میں ان کی مدد کرے گا تو وہ میرا نہیں اور نہ میں اس کا ہوں، اور نہ وہ میرے پاس (قیامت کے دن) حوض پر نہ آ سکے گا، اور جو ان کے ہاں نہیں گیا، ان کے جھوٹ کی تصدیق نہیں کی، اور ظلم میں ان کی مدد نہیں کی تو وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں اور عنقریب وہ میرے پاس حوض پر آئے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4213]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح