بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: امام اور حاکم کے لیے خیر خواہی کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: بیعت کے احکام و مسائل باب: امام اور حاکم کے لیے خیر خواہی کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 4202 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، سُفْيَانُ ، عَمْرٌو ، الْقَعْقَاعِ ، أَبِيكَ ، أَنَا ، عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ ، تَمِيمٍ الدَّارِيِّ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَأَلْتُ سُهَيْلَ بْنَ أَبِي صَالِحٍ، قُلْتُ: حَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنْ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِيكَ، قَالَ: أَنَا سَمِعْتُهُ مِنَ الَّذِي حَدَّثَ أَبِي، حَدَّثَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ يُقَالُ لَهُ: عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا الدِّينُ النَّصِيحَةُ"، قَالُوا: لِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ:" لِلَّهِ، وَلِكِتَابِهِ، وَلِرَسُولِهِ، وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ , وَعَامَّتِهِمْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
تمیم الداری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دین نصیحت خیر خواہی کا نام ہے، آپ نے کہا: (نصیحت و خیر خواہی) کس کے لیے؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، اس کے رسول کے لیے، مسلمانوں کے اماموں کے لیے اور عوام کے لیے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4202]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الإیمان 23 (55)، سنن ابی داود/الأدب 67 (4944)، (تحفة الأشراف: 2053)، مسند احمد (4/102) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اللہ کے لیے خیر خواہی کا مفہوم یہ ہے کہ بندہ اللہ کی وحدانیت کا قائل ہو اور اس کی ہر عبادت خالص اللہ کی رضا کے لیے ہو۔ کتاب اللہ (قرآن) کے لیے خیر خواہی یہ ہے کہ اس پر ایمان لائے اور عمل کرے۔ رسول کے لیے خیر خواہی یہ ہے کہ نبوت و رسالت محمدیہ کی تصدیق کرنے کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جن چیزوں کا حکم دیں اسے بجا لائے اور جس چیز سے منع کریں اس سے باز رہے، اور آپ کی تعلیمات کو عام کرے، مسلمانوں کے حاکموں کے لیے خیر خواہی یہ ہے کہ حق بات میں ان کی تابعداری کی جائے اور کسی شرعی وجہ کے بغیر ان کے خلاف بغاوت کا راستہ نہ اپنایا جائے۔ اور عام مسلمانوں کے لیے خیر خواہی یہ ہے کہ ان میں امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیا جائے، اور ان کے مصالح کی طرف ان کی رہنمائی کی جائے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4203 سنن نسائی
يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، تَمِيمٍ الدَّارِيِّ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا الدِّينُ النَّصِيحَةُ"، قَالُوا: لِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ:" لِلَّهِ، وَلِكِتَابِهِ، وَلِرَسُولِهِ، وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ , وَعَامَّتِهِمْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دین خیر خواہی کا نام ہے لوگوں نے عرض کیا: کس کے لیے؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: اللہ کے لیے، اس کی کتاب (قرآن) کے لیے، اس کے رسول (محمد) کے لیے، مسلمانوں کے ائمہ اور عوام کے لیے۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4203]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4204 سنن نسائی
الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ ، اللَّيْثُ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ، إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ، إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ"، قَالُوا: لِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ:" لِلَّهِ، وَلِكِتَابِهِ، وَلِرَسُولِهِ، وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ , وَعَامَّتِهِمْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا: بلاشبہ دین نصیحت اور خیر خواہی کا نام ہے، بلاشبہ دین خلوص اور خیر خواہی ہے، بلاشبہ دین خلوص اور خیر خواہی ہے، لوگوں نے عرض کیا: کس کے لیے، اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: اللہ کے لیے، اس کی کتاب (قرآن) کے لیے، اس کے رسول (محمد) کے لیے، مسلمانوں کے حکمرانوں اور عوام کے لیے۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4204]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/البر 17 (1926)، (تحفة الأشراف: 12863)، مسند احمد (2/697) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: حسن صحيح
حدیث نمبر: 4205 سنن نسائی
عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْكَبِيرِ بْنِ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ ، إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، سُمَيٍّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْكَبِيرِ بْنِ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، وَعَنْ سُمَيٍّ، وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الدِّينُ النَّصِيحَةُ"، قَالُوا: لِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ:" لِلَّهِ، وَلِكِتَابِهِ، وَلِرَسُولِهِ، وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ , وَعَامَّتِهِمْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دین نصیحت اور خیر خواہی کا نام ہے۔ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کس کے لیے۔ آپ نے فرمایا: اللہ کے لیے، اس کی کتاب (قرآن) کے لیے، اس کے رسول (محمد) کے لیے، مسلمانوں کے حکمرانوں کے لیے اور عوام کے لیے۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4205]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: حسن صحيح